• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 2:08 شام
  • پاکستان

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایک بار پھر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے سامنے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا فوجی کارروائی کرنے کا راستہ موجود ہے۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اب فیصلہ کرنا ہوگا اور خبردار کیا کہ یہ معاملہ جلد ختم ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ وہ ایرانی قیادت کو غیر معقول قرار دینے کے باوجود اس کے ساتھ معاہدہ کیسے کرسکتے ہیں تو انہوں نے فوجی کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائی کرنے یا معاہدہ کرنے میں سے ایک راستہ اختیار کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ورجینیا میں کوانٹیکو میرین بیس پر فوجی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، دفاعی نظام، قیادت اور فوجی صنعتی صلاحیت کو تباہ کردیا ہے اور اس کی جوہری صلاحیتوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ دعوے امریکی وزیر دفاع کے ہیں اور ان کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو امریکا کی جانب سے تہران کی حالیہ تجویز کے جواب سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس پر قطر اور دیگر ثالثوں کے ذریعے دونوں جانب رابطے جاری رہے۔

ایرانی تجویز کے مطابق بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولا جاسکتا ہے۔ تہران نے اس عمل کو امریکی پابندیوں، ایرانی منجمد اثاثوں اور ایرانی بندرگاہوں سے متعلق معاملات سے جوڑا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ پہلے اس تجویز کو ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں، تاہم ثالثی کے ذریعے رابطے جاری رہے ہیں۔

تازہ صورتحال میں ایران کو امریکی جواب موصول ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے، تاہم جواب کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی جواب سے صدر مسعود پزشکیان اور کابینہ کو آگاہ کیا ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے