• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 2:58 صبح
  • پاکستان

بدنام زمانہ گینگسٹر کو شادی کیلیے 12 گھنٹے کی رہائی مل گئی

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

ذیابیطس کے سبب ہونے والی آنکھوں کی بیماری کے علاج کے لیے تیار کردہ تجرباتی انجکشن ریمیگرومگ (Remigromig) کے کلینیکل ٹرائل میں اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اس حوالے سے امریکی دوا ساز کمپنی مرک کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس کی دوا نے کلینیکل ٹرائل کا اہم مرحلہ عبور کرلیا ہے اور دوا نے نظر کی بہتری کے حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مرک کا کہنا ہے کہ 52 ہفتوں پر مشتمل کلینیکل ٹرائل میں ذیابیطس سے متاثرہ میکیولر ایڈیما (آنکھوں کی بیماری) کے 984 مریض شامل تھے۔

نتائج کے مطابق ریمیگرومگ (Remigromig) نے نظر کی تیزی میں اوسط تبدیلی کے حوالے سے Roche کی دوا رانیبیزوماب کے مقابلے میں مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہوئے غیر کمتر اثر ظاہر کیا۔

نئی دوا کیسے کام کرتی ہے؟

ریمیگرومگ (Remigromig) ایک انجکشن کے ذریعے دی جانے والی تجرباتی دوا ہے جو جسم کے خلیوں کی نشوونما اور مرمت سے متعلق ’ڈبلیو این ٹی پاتھ وے‘ کو متحرک کرتی ہے، اس طریقہ کار کا مقصد آنکھ کے ریٹینا میں خون کی نالیوں کی متاثرہ حفاظتی تہہ کی مرمت میں مدد دینا اور خون کی نالیوں سے رسنے والے سیال کو کم کرنا ہے۔

ذیابیطس سے متاثرہ مریضوں میں خون کی نالیوں کو نقصان پہنچنے کے باعث آنکھ کے ریٹینا کے ایک اہم حصے میکیولا میں سیال جمع ہوسکتا ہے، جس سے سوجن پیدا ہوتی ہے اور مرکزی یا واضح نظر متاثر ہونے لگتی ہے۔

اسکوشیا بینک کی تجزیہ کار لوئس چن کے مطابق اگر ریمیگرومگ (Remigromig) کو منظوری مل جاتی ہے تو یہ ریٹینا کی خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں کے علاج میں دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایک نئے طریقہ کار پر مبنی دوا ہوسکتی ہے۔

حفاظت سے متعلق مزید معلومات

مرک کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ریمیگرومگ (Remigromig) کو مریضوں نے برداشت کیا، تاہم کچھ ریٹینا کی خون کی نالیوں سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث علاج چھوڑنے والے مریضوں کی شرح رانیبیزوماب کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

کمپنی نے کہا ہے کہ وہ ان نتائج کا مزید تجزیہ کررہی ہے، بی ایم او کیپیٹل مارکیٹس کے تجزیہ کار ایون سیگرمین کے مطابق دوا کی تجارتی صلاحیت کا اندازہ لگانے سے پہلے ٹرائل کے مکمل نتائج اور اضافی معاون ڈیٹا کا انتظار ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوا کی حفاظت بدستور اہم معاملہ ہے اور حالیہ نتائج میں سامنے آنے والے فرق کے بارے میں مزید تفصیلات درکار ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں میں آنکھوں کی بیماری

ڈائیبیٹک میکیولر ایڈیما ذیابیطس کی ایک پیچیدگی ہے جس میں ریٹینا کی متاثرہ خون کی نالیوں سے سیال خارج ہوکر میکیولا میں جمع ہوجاتا ہے۔

میکیولا آنکھ کا وہ حصہ ہے جو واضح اور مرکزی نظر کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس حصے میں سوجن نظر کو دھندلا یا کمزور کرسکتی ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ذیابیطس کے تقریباً 5.5 فیصد مریض ڈائیبیٹک میکیولر ایڈیما سے متاثر ہوتے ہیں۔

اس بیماری کے موجودہ علاج میں اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز، لیزر تھراپی اور اسٹیرائڈ انجیکشنز یا امپلانٹس شامل ہیں۔ رانیبیزوماب بھی اینٹی وی ای جی ایف علاج میں شامل ہے، جو خون کی نالیوں کی تشکیل اور بڑھوتری کو روکنے یا منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مرک کے مطابق ریمیگرومگ (Remigromig) کو نہ صرف ڈی ایم ای بلکہ نیواسکیولر ایج ریلیٹڈ میکیولر ڈی جنریشن (NVAMD) سمیت ریٹینا کی بعض دیگر بیماریوں میں بھی زیرِ مطالعہ رکھا گیا ہے۔ دوا آنکھ کے اندر انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔ کمپنی ان نتائج کو آئندہ ماہ امریکن اکیڈمی آف اوپتھلمولوجی کے سالانہ اجلاس میں پیش کرے گی۔

وزن کم کرنے والی آدھی ادویات ’ٹیبلٹس‘ بن جائیں گی؟

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے