• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 3:45 صبح
  • پاکستان

’’ اللہ کاشکر ہے کہ ایسا نہیں ہے اور آپ چھوٹے بچوں کو اتنی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں کرنا چاہییں جتنے چھوٹے آپ ہیں۔‘‘

’’ بیٹا یہ تھری ڈی پین ہو گا آپ کے پاس؟‘‘ میں نے یہ سوچ کر سوال کیا تھا کہ اس چھوٹی سی دکان میں کہاں ایسی کوئی انوکھی چیز ہوگی جس کا میں نے صرف نام ہی سنا تھا۔

’’ جی میڈم ہے۔‘‘ اس نے مجھے دوسرے کاؤنٹر کی طرف بلایا جہاں پر مختلف انواع و اقسام کے پین اور مارکر وغیرہ بھی تھے۔

’’مجھے تو ایک ہی پین چاہیے بیٹا!‘‘ اس نے ایک بڑا سا ڈبہ نکال کر میرے ہاتھ میں تھمایا تھا اور میں سمجھی کہ اس میں پورے ایک درجن پین ہوں گے۔

’’ اس میں ایک ہی پین ہے میڈم… ساتھ اس کے لوازمات وغیرہ بھی ہیں۔‘‘ اس نے ڈبہ میرے ہاتھ سے واپس لے کر کھول کر مجھے دکھایا۔ اس میں ایک پین اور اس کے ساتھ کئی طرح کے تاروں کے گچھے اور مختلف رنگوں کی سیاہی کی طرح کی کوئی چیز بھی تھی۔

’’ یہ ہے کیا بلا؟‘‘ میں نے حیرت سے سوال کیا، میں سمجھی کہ یہ بھی محض ایک عام سا پین ہو گا اور اس کی سیاہی اس نوعیت کی ہو گی کہ لکھائی سے تھری ڈی کا ایفیکٹ آتا ہوگا۔

’’ اس پین سے ہم مختلف چیزیں بنا سکتے ہیں، یہ مستقبل کی ٹیکنالوجی ہے جس پر ابھی کام ہو رہا ہے کہ ہم صرف لکھ نہیں سکتے بلکہ اس طرح کی چیزیں بنا سکتے ہیں جیسے کہ حقیقت میں کچھ رکھا ہو۔‘‘ اس نے اپنے علم کے مطابق وضاحت کی اور میں ورطہء حیرت میں تھی کہ اس نے میری حیرت کو ایک اور موضوع شروع کر دیا ۔ ’’ یہ آپ نے اپنے لیے لینا ہے؟‘‘

’’ میں اتنی ہائی ٹیک کہاں بیٹا، یہ تو میں نے ایک بچی کو تحفہ دینا ہے، اس سے پوچھا تھا تو اس نے کہا کہ اسے یہ پین پسند ہے۔‘‘ میںنے کہا اور پرس سے پیسے نکالنے لگی۔

’’ اس کے ساتھ کچھ اور نہیں لیں گی میڈم؟‘‘ اسے لگا کہ میڈم کوئی مالدار آسامی ہیں شاید۔

’’ اس کے ساتھ اور کیا لینا ہے، میرے پاس گھر میں پیکنگ شیٹ ہے، وہی استعمال کر لوں گی۔‘‘ میں سمجھی کہ وہ اسے پیک کرنے کے لیے کوئی چیز پوچھ رہا ہے۔

’’ نہیں میڈم میری تجویز ہے کہ اس کے ساتھ squishy ball لے لیں، بچی اور بھی خوش ہو جائے گی۔‘‘’’ بچے آج کل کہاں خوش ہوتے ہیں بیٹا، ذرا سی دیر کو نئی چیز دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور پھر سوچنے لگتے ہیں کہ ان کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔‘‘

’’بالکل ایسا ہی ہے میڈم، اسی لیے آپ کو میں تجویز کر رہا تھا کہ آپ اس کے لیے squishy ball بھی ساتھ لے لیں۔‘‘ ساتھ ہی اس نے مجھے بتایا کہ وہ بچی جو وہاں کھڑی تھی، اس کے ہاتھ میں جو گیند تھا، وہی اس کی مراد تھی۔’’ اس سے کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے بڑبڑا کر کہا، سوال اتنی بلند آواز میں تھا کہ اس بچی نے بھی سن لیا۔ مجھے یاد آ گیا کہ جب میری کلائی کا آپریشن ہوا تھا تو اس کے بعد ڈاکٹر نے مجھے تجویز کیا تھا کہ اس طرح کا گیند لے لوں اور اس سے ہاتھوں کی ورزش ہو گی۔ اس وقت بھی ذہن میں خیال آیا کہ شاید تھری ڈی پین کے استعمال سے ہاتھ تھک جاتے ہیں تو ان کی ورزش کرنا مقصود ہوتی ہو گی۔

’’ آنٹی یہ اصل میں استعمال ہوتا ہے … ہمم… یہ جو ڈیپریشن ہوتا ہے نا، اسے کم کرنے کے لیے!‘‘ ساتھ آٹھ سال کی، دبلی پتلی سی ارسطونما بچی جو اس گیند کو ہاتھ میں لے کر جانچ رہی تھی، اس نے جواب دیا۔

’’ کون سی جماعت میں پڑھتی ہیں آپ اورآپ کوکیسے پتاہے بیٹا کہ ڈیپریشن کیا ہوتا ہے؟‘‘ میںنے اپنی حیرت کو زبان دی۔

’’ میں کلاس ٹو میں پڑھتی ہوں اور مجھے اس لیے پتا ہے کہ مجھے بھی ڈیپریشن ہوتا ہے، سب کو ہوتا ہے۔‘‘

’’ آپ کو کس بات پر ڈیپریشن ہوتا ہے؟‘‘

’’ کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلا امتحان کی تیاری نہ ہو، نمبر کم آجائیں ، کوئی دوست ناراض ہو جائے، والدین سے ڈانٹ پڑ جائے۔‘‘ وہ کسی ماہر نفسیات کی طرح سے گفتگو کرتی ہوئی مجھے متاثرکرنے کی کوشش کررہی تھی۔

’’ اچھا تو پھر اس گیند کو دبانے اور پچکانے سے آپ کا ڈیپریشن دور ہوجاتا ہے؟‘‘ مجھے باقاعدہ ہنسی آ رہی تھی اس کی بات اور اس کے انداز گفتگو پر۔

’’ جی میڈم ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘ دکاندار نے پھر اپنا چورن بیچنے کی کوشش کی، ’’ یہ بہت فائدہ مند ہے میڈم۔‘‘

’’ شکریہ بیٹا، ابھی تک ہمارے بچے اس ڈیپریشن اور اس کے ’’ علاج ‘‘ سے متاثر نہیں ہوئے ہیں تو بہتر ہے کہ بچے رہیں۔‘‘ میں پین کی ادائیگی کے لیے کیش کاؤنٹر کی طرف بڑھی۔

’’ یہ تو سب کو ہوتا ہے … ‘‘ بچی نے کندھے اچکا کر میرے علم میں اضافہ کیا۔ میں مسکرا دی، اور کرتی بھی کیا۔ دکاندار کو اپنا مال بیچنا ہے، اسے جو کہہ دیا گیا ہے وہ اس نے ہر گاہک کو بتانا ہے اور جب یہ بات وہ بچوں سے کہتا ہے تو بچوں کو فورا یقین آجاتا ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہو گا اور وہ فورا اس کا چورن خرید لیتے ہیں۔

’’ اللہ کاشکر ہے کہ ایسا نہیں ہے اور آپ چھوٹے بچوں کو اتنی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں کرنا چاہییں جتنے چھوٹے آپ ہیں۔‘‘ آپ بالکل ٹھیک ٹھاک اور خوش نظر آنے والی بچی ہیں۔ ‘‘ جانے یہ کہاں سے ان بچوںکے ذہنوں میں ایسی بڑی بڑی باتیں ٹھونس دی جاتی ہیں۔ ماہرین نفسیات آج کل اس بات کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ بچوں میں ذہنی دباؤ اور اسی نوعیت کے امراض کارجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کے پس منظر میں جو اسباب ہیں، اس میں سر فہرست ان کے والدین ہیں، جو ہر وقت ان سے بہت بلند توقعات وابستہ کرلیتے ہیں اور انھیں بہتر سے بہترین اوراس سے بڑھ کر اولین ترین بننے پر مجبور کرتے اور انھیں شدید ذہنی دباؤ میں رکھتے ہیں۔ اپنی ملازمت کے دوران میں نے اکثر والدین اور بالخصوص ماؤں کو بچوں کے سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کے نتائج والے دن ان کی رپورٹ دیکھ کر آنسو بہاتے، اسی کمرہء جماعت میں کھڑے ہو کر پہلے بچے کی، پھر اس کی اساتذہ کی اور پھر اسکول کی بے عزتی کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے، بچوں کو سب کے سامنے تھپڑ کھاتے بھی دیکھا ہے۔

آج کل دو ایسے رجحان چل رہے ہیں جنھیں ایک دوسرے کا بالکل واضح متضاد کہنا بے جا نہ ہو گا ۔ ایک تو والدین نے بچوں سے بہت زیادہ بلند توقعات وابستہ کر لی ہیںاور وہ صرف پڑھائی کو لے کر ہیں جب کہ ہمارے بچپن کے زمانے میںمائیں عموما خود تعلیم یافتہ نہیں ہوتی تھیں اور ان کا بچوں کو ایک بار کہہ دینا ہی کافی ہوتا تھا کہ اپنا اسکول کاکام ختم کر لیں اور اپنے امتحان کی تیاری کرلیں ، بچوں کا اچھے نمبروں سے پاس ہوجانا بھی کافی سمجھا جاتا تھا۔ اب جماعت کے سب بچوں کے لیے پہلی پوزیشن لینا لازمی ہے، ایک جماعت کے پچیس تیس بچے کیسے پہلی پوزیشن لے سکتے ہیں؟؟

دوسری طرف والدین نے soft parenting کے علم کو بلند کر رکھا ہے کہ بچے کو خواہ مخواہ روک ٹوک نہیں کرنا کیونکہ اس کی انا مجروح ہوتی ہے۔ ہماری مائیں ہماری پڑھائی پر کم اور ہماری تربیت پر زیادہ زور دیتی تھیں کہ تعلیم دینا اسکول اور تعلیمی اداروں کا کام ہے ، ماؤں کو بچوں کی تربیت کرنا ہے کہ انھیں اٹھنا بیٹھنا، تمیز سے رہنا، آئے گئے کو سلام کرنا، طریقے سے بیٹھنا، کسی کے گھر جا کر کسی چیز کو نہ چھیڑنا، جھوٹ نہ بولنا اور وہ تمام اوصاف جو بچوں کی اچھی تربیت کا حصہ ہوتے ہیں۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ جہاں والدین کو بچوں کو چیک کرنے کی ضرورت ہے وہاں انھوں نے بچوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے، بے انت بد تمیز بچے اور سارا زور تعلیمی قابلیت پر رہ گیا ہے۔

کسی بچے کو ذرا سا ڈانٹو بلکہ ذرا سی روک ٹوک ہی کردو کہ فلاں چیز کو چھوڑ دیں کہ کہیں ٹوٹ ہی نہ جائے ( چیز بھی ہماری ہو) تو وہ یوں ’’دکھ‘‘ جاتا ہے جیسے اسے کسی نے مارا ہو، بڑا سا منہ کھول کر رو روکر ٹوکنے والے کو شرمندہ کرتے ہیں۔ بچہ کسی کے گھر میں ان کی قیمتی سجاوٹی چیزوں کو الٹ پلٹ کر رہا ہو، انھیں کھلونے سمجھ کر کھیل رہا ہو اور احتمال ہو کہ ذرا سی چوک ہوجائے تو ٹوٹ سکتا ہے، میزبان کا دل اتھل پتھل کر رہا ہوتا ہے اور بچے کی ماں یوں لاپروائی سے دوسروں کے سامنے اپنے بچے کی تمیز اور تہذیب کے سوا باقی خصوصیات کے قصیدے پڑھ رہی ہوتی ہے۔

آج کل کی ماؤں کے اس رویے سے ڈیپریشن تو انھیں بھگتنے والوں کو ہوتا ہے، انھیں squishy ball دلانے کی ضرورت ہے ۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے