اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام
چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو
ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا
نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا
ہمالیہ کا خطہ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے، جہاں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار گزشتہ دس سال کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہوگئی ہے جس سے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں اور روزگار داؤ پر لگ گئے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کے باعث خطے کے ایک خطرناک موڑ کی جانب بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں آنے والے برسوں میں پانی کی فراہمی اور لاکھوں افراد کے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے گلیشیئرز کے پگھلنے کے نتیجے میں خطے کے دریا ’پیک واٹر‘ قرار دیے جاسکتے ہیں، جس کے بعد دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کے بجائے بتدریج کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
یہ تشویشناک صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب ایک ہمالیائی گلیشیئر کے انہدام کے بعد بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے اور اچانک سیلاب آنے کے واقعات پیش آئے۔
مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پیچھے ہٹنے کے نتیجے میں برفانی جھیلیں وجود میں آرہی ہیں، یہ جھیلیں وادیوں کے اوپر واقع ہیں جہاں لاکھوں افراد آباد ہیں، اس لیے ان کے اچانک ٹوٹنے کی صورت میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
سسٹمک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کوہ ہندوکش ہمالیہ خطے میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور برفانی حجم میں کمی کی رفتار حالیہ دہائیوں میں تیز ہوئی ہے۔
افغانستان سے میانمار تک پھیلے اس وسیع پہاڑی نظام میں تقریباً 40 ہزار گلیشیئرز موجود ہیں، تاہم زمینی سطح پر ان میں سے صرف 21 گلیشیئرز کی باقاعدہ نگرانی کی جارہی ہے، جس سے خطرات کی مکمل تصویر سامنے لانا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
بھارت کی جھیلیں خطرناک قرار
بھارت میں تقریباً 200 برفانی جھیلوں کو زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے، جن میں 56 کو ’انتہائی زیادہ خطرے‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے، ان جھیلوں کے ممکنہ پھٹنے کی صورت میں زیریں علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہمالیہ کا ماحولیاتی نظام صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ خطے کی معیشت اور انسانی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہمالیائی خطہ بھارت کی مجموعی معیشت میں 20 فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے اور کروڑوں افراد کی زندگی اور روزگار بالواسطہ یا براہ راست اس خطے کے قدرتی وسائل پر منحصر ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو ’’پیک واٹر‘‘ کے بعد پانی کی دستیابی میں کمی کا اثر زراعت، توانائی، پینے کے پانی اور لاکھوں افراد کے روزگار تک پہنچ سکتا ہے۔
نیپال: سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1344 تک پہنچ گئی، ہزاروں لاپتہ
