• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 2:18 صبح
  • پاکستان

نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

کیا زمین کے دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ زمین کی اندرونی یا بیرونی سرگرمیاں اس کی رفتار پر اثر ڈال رہی ہیں، نئی تحقیق نے سائنسدانوں کو بھی حیران کردیا۔

جدید تحقیق کے مطابق زمین اپنے محور پر گردش کی رفتار میں تبدیلی کی وجہ سے 24 گھنٹے کے دورانیے میں ہمیشہ دن اور رات پورا نہیں کرتی، بلکہ اس میں ملی سیکنڈز کا فرق آتا رہتا ہے۔

زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تیزی کا رجحان سائنسی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں زمین اپنے محور پر معمول سے تھوڑا تیز گھومتی پائی گئی ہے، جس کی وجہ سے کچھ دن 24گھنٹے سے چند ملی سیکنڈ کم ہو سکتے ہیں۔

زمین پر دن رات کا دورانیہ عام طور پر 24 گھنٹے مقرر سمجھا جاتا ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ در حقیقت زمین کی گردش کی رفتار مسلسل معمولی تبدیلیوں سے گزرتی رہتی ہے، جس کے باعث دن کے دورانیے میں ملی سیکنڈز کی سطح پر فرق پیدا ہوتا ہے۔

سائنسی تحقیق کے مطابق زمین کے دن رات کے دورانیے میں یہ معمولی سا اتار چڑھاؤ گزشتہ کئی دہائیوں سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

اس کی کچھ وجوہات قلیل مدتی نوعیت کی ہیں، جن میں فضا اور سمندروں میں ہونے والی تبدیلیاں، بڑے زلزلوں کے نتیجے میں زمین کے پھیلاؤ میں ردوبدل اور براعظمی برف کے پگھلنے سے پانی کا سمندروں میں منتقل ہونا شامل ہیں۔

تاہم کئی دہائیوں کے دوران زمین کی گردش میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیچھے زمین کی گہرائیوں میں موجود عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق زمین کے بیرونی مرکزے میں موجود انتہائی گرم مائع دھات مسلسل حرکت کرتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تیزی یا سست روی پیدا ہوسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف البرٹا کے ماہر ارضیات میتھیو ڈمبرّی کے مطابق اندرونی مرکزے کی گردش اور مینٹل میں بے قاعدگیوں کے درمیان یہ تعلق زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے۔

معروف جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے زمین کے اندر کششِ ثقل سے متعلق ایک ایسے میکانزم کی نشاندہی کی ہے جسے انہوں نے اسے ایک طرح کے ’پوشیدہ گیئر‘ سے تشبیہ دی ہے۔

تحقیق کے مطابق زمین کا اندرونی مرکزہ باقی زمین کے مقابلے میں بالکل ایک ہی رفتار سے گردش نہیں کرتا۔ اس فرق کے باعث اندرونی مرکزہ زمین کی بیرونی تہہ، یعنی مینٹل میں موجود کمیت کی بعض بے قاعدگیوں کے مقابلے میں معمولی طور پر غیر متوازن ہوسکتا ہے۔

محققین نے 1964 سے 2019 تک کے عرصے میں زلزلوں سے حاصل ہونے والے تخمینوں اور زمین کے اندر مائع دھات کی حرکت سے متعلق ماڈلز کی مدد سے اس کششِ ثقل کے باہمی تعامل کو دوبارہ تشکیل دیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دن کے دورانیے میں تبدیلی کی واحد وجہ یہی عمل نہیں ہوسکتا اور دیگر عوامل بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم نئی تحقیق نے اس مظہر میں کششِ ثقل کے ایک اہم کردار کی نشاندہی کی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے