• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 2:38 صبح
  • پاکستان

مذاکرات کے پہلے مرحلے میں سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے لیے ڈیجیٹل نظام پر پیش رفت ایک اہم قدم ہے۔

کسی ملک کی معیشت کا اصل امتحان اعداد و شمار کی میز پر نہیں، انتظامی اختیار کے استعمال کے آئینے میں ہوتا ہے۔ اگر قومی خزانے کی نگرانی کرنے والے ادارے خود احتسابی سے گریزاں ہوں، سرکاری عہدے نجی مفادات کے نگہبان بن جائیں اور توانائی کا نظام پیداوار بڑھانے کے بجائے کاروباری لاگت میں اضافہ کرتا رہے تو محض مالیاتی اہداف پورے کر لینے سے معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے کے لیے جاری مذاکرات اسی بڑے سوال کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ملک کو وقتی مالی سہارا درکار ہے یا ایسی بنیادی اصلاحات بھی مطلوب ہیں جو معیشت اور حکمرانی دونوں کے ڈھانچے کو پائیدار بنیاد فراہم کرسکیں۔

مذاکرات کے پہلے مرحلے میں سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے لیے ڈیجیٹل نظام پر پیش رفت ایک اہم قدم ہے۔ طے شدہ پروگرام کے تحت 30 اکتوبر 2026 تک دس ہزار وفاقی ملازمین کو اپنے اثاثے ڈیجیٹل طور پر ظاہر کرنا ہوں گے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی اصلاح ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ ریاستی مشینری میں شفافیت محض کاغذی گوشواروں کا نام نہیں، بلکہ اس امر کی ضمانت ہے کہ جس شخص کو عوامی اختیار سونپا گیا ہے، اس کے مالی معاملات بھی قابلِ جانچ ہوں۔

سرکاری منصب کسی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا، بلکہ اس کے منصب کی نوعیت اس سے زیادہ جواب دہی کا تقاضا کرتی ہے۔اثاثوں کی تفصیل صرف متعلقہ افسر کی ملکیت تک محدود رہنے کے بجائے قانون اور ضابطے کے مطابق ان افراد کے مالی مفادات کو بھی موثر انداز میں سامنے لانے کا ذریعہ بننی چاہیے جن کے ذریعے سرکاری عہدیدار کے مالی معاملات متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس عمل میں رازداری کے قانونی تقاضوں اور عوامی مفاد کے درمیان متوازن طریقہ کار ضروری ہے، لیکن شفافیت کے نام پر ایسا نظام قبول نہیں کیا جاسکتا جو صرف گوشوارے جمع کرانے تک محدود ہو اور ان کی جانچ پڑتال کا موثر انتظام موجود نہ ہو۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ڈیجیٹل انکشاف، دستاویزی تصدیق، مالیاتی اداروں کے ریکارڈ اور ٹیکس گوشواروں کے باہمی تقابل سے ایک ایسا مربوط نظام وجود میں آئے جو غیر معمولی اثاثوں اور آمدنی کے درمیان فرق کو نمایاں کرسکے۔

پاکستان میں بدعنوانی کا مسئلہ محض غیر قانونی دولت کے وجود کا نہیں، بلکہ اس دولت کے سرکاری اختیار سے ممکنہ تعلق کا بھی ہے، اگر کسی افسر کے اختیارات کسی کاروباری مفاد، زمین، ٹھیکے، لائسنس، خریداری یا کسی دوسرے مالی فائدے سے جڑ جائیں تو ریاستی فیصلہ سازی کی غیر جانب داری متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے اثاثوں کی ڈیجیٹل تفصیل کو محض عالمی مالیاتی ادارے کی ایک شرط سمجھنا اصلاحات کی روح کو محدود کرنا ہوگا۔

یہ دراصل ایک ایسے انتظامی کلچر کی بنیاد بن سکتی ہے جس میں سرکاری ملازمت اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھی جائے۔اسی تناظر میں ٹیکس اصلاحات کی ضرورت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا مسئلہ صرف شرحوں کا نہیں، دائرہ کار اور اعتماد کا بھی ہے، اگر معیشت کا بڑا حصہ ٹیکس نظام سے باہر رہے اور موجودہ ٹیکس دہندگان ہی پر بار بار اضافی بوجھ منتقل کیا جاتا رہے تو مالیاتی نظام نہ منصفانہ رہتا ہے نہ پائیدار۔ ایف بی آر کے ساتھ مذاکرات میں ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کی بات اس وقت معنی خیز ہوگی جب اس کا مقصد صرف زیادہ وصولی نہیں بلکہ ایسے شعبوں اور آمدنی کے ذرائع کو نظام میں لانا ہو جو طویل عرصے سے اپنی حقیقی استعداد کے مطابق قومی خزانے میں حصہ نہیں دے رہے۔اسی طرح صوبائی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی میں بہتری بھی وفاقی مالیاتی دباؤ کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ایک وفاقی نظام میں معاشی ذمے داری صرف مرکز تک محدود نہیں ہوسکتی۔ صوبوں کو بھی اپنے وسائل کی موثر تنظیم، محصولات کی وصولی اور اخراجات کی ترجیحات بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اگر ریاست کے مختلف درجے اپنے اپنے مالی وسائل پیدا کرنے میں ناکام رہیں تو قرض، بیرونی معاونت اور نئے مالیاتی انتظامات پر انحصار بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں معاشی خودمختاری کا تصور محض تقریری اصطلاح بن کر رہ جاتا ہے۔توانائی کا شعبہ اس پورے منظرنامے میں سب سے پیچیدہ اور فوری توجہ کا مستحق مسئلہ ہے۔ گردشی قرضے نے برسوں سے بجلی کے نظام کو اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ ایک مرحلے کا مالی بوجھ دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔

بجلی مہنگی ہو تو صنعتی لاگت بڑھتی ہے، صنعتی لاگت بڑھے تو مصنوعات کی مسابقت متاثر ہوتی ہے، برآمدات دباؤ میں آئیں تو زرمبادلہ کی آمدنی متاثر ہوتی ہے، اور اس کے بعد ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ دوبارہ سامنے آجاتا ہے، یوں توانائی کا بحران محض بجلی کے نرخوں کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پوری معیشت کے پیداواری ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔

پاکستان میں بجلی کی قیمتوں کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ صنعت، زراعت اور چھوٹے کاروبار کی مسابقت کا براہ راست تعلق توانائی کی لاگت سے ہے، اگر پیداواری شعبہ مسلسل مہنگی توانائی خریدنے پر مجبور ہو تو عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لیے مقابلہ مشکل ہوتا جائے گا۔ اس کا نتیجہ صرف صنعت کے منافع میں کمی کی صورت میں نہیں نکلتا بلکہ سرمایہ کاری، روزگار، برآمدات اور بالآخر قومی آمدنی پر بھی پڑتا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ نظام کو کس طرح زیادہ موثر، کم خرچ اور پیداواری ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے۔

آئی پی پیز کے معاہدوں، بجلی کی خرید، ترسیل و تقسیم کے نقصانات اور واجبات کے پورے سلسلے کو بھی اسی جامع تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ ماضی کے فیصلوں پر سیاسی بحث اپنی جگہ، مگر مستقبل کی پالیسی کو ماضی کی غلطیوں سے آزاد کرنے کے لیے معاہداتی ذمے داریوں، حقیقی لاگت اور صارفین کی استطاعت کے درمیان قابلِ عمل توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک فریق پر بوجھ ڈال کر یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ توانائی کے شعبے میں مستقل اصلاحات کے لیے شفاف حساب، بہتر انتظام، چوری اور لائن لاسز میں کمی، مسابقتی اصولوں کا فروغ اور طویل المدت سرمایہ کاری ناگزیر ہیں۔

موجودہ مذاکرات میں ساورن ویلتھ فنڈ، کرنٹ اکاؤنٹ، بنیادی بجٹ سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر، شرحِ تبادلہ، چینی کے شعبے کی پالیسی اور انسدادِ منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات جیسے معاملات بھی زیر بحث ہیں۔ ان تمام موضوعات میں ایک مشترک ربط موجود ہے، ریاستی مالی نظم کو مضبوط بنانا۔ اگر مالیاتی ادارے ایک دوسرے سے الگ الگ سمتوں میں کام کریں، ٹیکس نظام حقیقی معیشت کی پوری تصویر پیش نہ کرے، توانائی کا شعبہ مسلسل خسارے پیدا کرے اور مالیاتی نگرانی کمزور ہو تو کسی ایک جائزے کی کامیابی بھی دیرپا معاشی استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

ٹیکس اصلاحات کا ایک اہم پہلو ان شعبوں کو بھی دستاویزی معیشت کا حصہ بنانا ہے جو ابھی تک ٹیکس نیٹ سے پوری طرح باہر ہیں۔ معیشت کے ایسے طبقات، کاروباری سرگرمیاں اور آمدنی کے ذرائع اگر اپنی حقیقی استعداد کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈالیں تو موجودہ ٹیکس دہندگان پر غیر متناسب بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف نئے ٹیکس عائد کرنا کافی نہیں، بلکہ ٹیکس نظام کو آسان، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔ جدید ڈیجیٹل ذرائع سے کاروباری لین دین اور آمدنی کا درست تعین کیا جائے تو ٹیکس چوری کے امکانات محدود ہوسکتے ہیں۔ وسیع تر ٹیکس بنیاد ہی ریاست کو قرض کے بجائے اپنے وسائل پر انحصار کی مضبوط راہ دکھا سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے جائزے میں کامیابی یا ناکامی کو صرف قسط کے اجرا کے پیمانے سے ناپنا بنیادی معاشی مسئلے کو محدود کردینا ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ان مذاکرات سے حاصل ہونے والی اصلاحات پاکستانی ریاست کی انتظامی شفافیت، مالیاتی نظم، توانائی کی کارکردگی، ٹیکس کے دائرہ کار اور پیداواری صلاحیت میں مستقل بہتری لاتی ہیں یا نہیں۔ اگر اصلاحات صرف جائزے کی تکمیل کے لیے کی گئیں تو ان کے اثرات عارضی ہوں گے، اگر انھیں قومی معاشی نظم کا حصہ بنایا گیا تو یہی عمل مستقبل کے بحرانوں کے امکانات کم کرسکتا ہے۔

پاکستان کو ایسے معاشی نظم کی ضرورت ہے جس میں سرکاری عہدہ دولت بنانے کا وسیلہ نہ ہو، ٹیکس ادا کرنا سزا محسوس نہ ہو، بجلی صنعتی ترقی کی رکاوٹ نہ بنے، درآمدی ایندھن کی قیمتیں پوری معیشت کو ہلا نہ سکیں اور بیرونی مالی مدد مستقل سہارا بننے کے بجائے اصلاحی مرحلے کا ذریعہ ثابت ہو۔ موجودہ مذاکرات اس سمت میں ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔

اس موقع کی حقیقی قدر اسی وقت سامنے آئے گی جب اعداد و شمار کے اہداف سے آگے بڑھ کر ریاستی نظم و نسق اور پیداواری معیشت کی بنیادی کمزوریوں کو درست کرنے کا عزم دکھائی دے۔ معاشی خودمختاری قرض سے انکار کا نام نہیں، یہ اس صلاحیت کا نام ہے کہ ایک ملک اپنے وسائل، اداروں اور پیداواری قوت کو اس طرح منظم کرسکے کہ اسے بار بار مالی بحران کے دروازے پر دستک نہ دینا پڑے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے