کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟
بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار
باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی
ڈیرہ اسماعیل خان : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان کا مینڈیٹ ہی پارٹی کے فیصلوں کی بنیاد ہے۔
یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی قیادت جو ہدایات دے گی، ان پر عمل کیا جائے گا، عمران خان کا مینڈیٹ ہی پارٹی کے فیصلوں کی بنیاد ہے اور خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی عمران خان کی ہدایت کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
علی امین گنڈاپور نے لانگ مارچ کے اخراجات سے متعلق سوال پر کہا کہ انہوں نے ماضی میں پارٹی کی احتجاجی سرگرمیوں اور لانگ مارچ کے لیے ذاتی وسائل بھی استعمال کیے۔
علیمہ خان کی باتوں سے دکھ ہوا
ان کے بقول اس مقصد کے لیے قرضے لیے اور جائیدادیں تک فروخت کیں، انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت دکھ ہوا جب ان کی بہن علیمہ خان نے ان اخراجات سے متعلق طنزیہ انداز میں سوال کیا، حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ میں نے پارٹی کے لیے مالی طور پر کتنا تعاون کیا ہے۔
گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انہیں اپنا مؤقف درست ثابت کرنے کے لیے اہم دستاویزات بھی شیئر کرنا پڑیں۔
لانگ مارچ کی تیاریوں کے بارے میں سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں لوگوں کی تعداد کا درست اندازہ نہیں، تاہم عمران خان سے محبت رکھنے والے کارکن نکلیں گے اور جو انتظامی ذمہ داریاں دی گئی ہیں انہیں پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد سے متعلق کہا کہ یہ میلہ بھی ہے، جھمیلا بھی ہے، پارٹی بھی ہے اور جنگ بھی ہے اور کوشش جاری رکھنا اور کارکنوں کو متحرک کرنا ان کا کام ہے، باقی نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
پارٹی معاملات پر مکمل خاموشی
علی امین گنڈاپور نے پارٹی کے اندرونی معاملات اور بعض رہنماؤں سے متعلق سوالات پرجواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ وقت کے ساتھ بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسان کو اپنے تجربے کے ساتھ دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھنا چاہیے، تاہم بعض معاملات پر وہ فی الحال گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
عمران خان کی جانب سے انہیں دوبارہ پارٹی یا حکومت کی ذمہ داری دیے جانے سے متعلق سوال پر گنڈاپور نے کہا کہ اس بارے میں نورین خان، عمران خان یا ملاقات کرنے والے افراد ہی جواب دے سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ انہیں خود اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحیلیل
کی ممکنہ تحلیل کے سوال پر علی امین گنڈاپور نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسمبلی عمران خان کے مینڈیٹ پر قائم ہے اور ان کی ہدایت کے بغیر اسے تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے اپنے سابق دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی منظوری کے معاملے پر بھی انہوں نے عمران خان کے مینڈیٹ کو مقدم رکھا تھا۔
سابق وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو دہشت گردی، امن و امان اور وسائل سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے، ان کے مطابق افغانستان سے متصل طویل سرحد اور مختلف اضلاع میں سکیورٹی مسائل کے باعث صوبے کے عوام کے جذبات دیگر علاقوں سے مختلف ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو زخمی اور قربانیاں دینے والے عوام کے جذبات کو سمجھنا چاہیے۔
فضل الرحمان تعاون کیوں نہیں کرتے؟
مولانا فضل الرحمان سے سیاسی تعاون کے معاملے پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہیں مولانا سے تعاون لینے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان کا اپنا مفاد نہ ہو تو وہ کسی دوسرے کے لیے بھی تعاون نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں انہوں نے اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
گنڈاپور نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے اندر بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو ان کے خلاف ہیں، تاہم انہوں نے اسے پارٹی کے اندرونی معاملات قرار دیتے ہوئے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
لانگ مارچ کے مستقبل اور پارٹی قیادت کے فیصلوں کے بارے میں سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جن رہنماؤں کو عمران خان نے ذمہ داری دی ہے، وہ جو فیصلہ کریں گے، کارکن اس کے پابند ہوں گے۔ پارٹی کا مینڈیٹ عمران خان کے پاس ہے اور ان کے فیصلے ہی حتمی سمت متعین کریں گے۔
