• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 5:24 شام
  • پاکستان

سرکاری اداروں کی سفارش پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کی متعلقہ شق کالعدم قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر شہریوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے اور آف لوڈ کرنے کے معاملے پر بڑا فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے سرکاری اداروں کی سفارش پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کی متعلقہ شق کالعدم قرار دے دی۔

جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے عمرہ پر جانے والے شہری کو آف لوڈ کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جاسکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے واضح قانونی اختیار اور تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے پاسپورٹ رولز 2021 کی رول 22(2)(b) کی متعلقہ شق کو آئین سے متصادم قرار دے دیا۔

عدالت نے معین الدین نامی شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے 15 روز میں نکالنے کا حکم دیا۔ فیصلے میں عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے اور پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام کے رویے پر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق 15 جنوری 2026 کو عدالت نے ایک ہفتے میں درخواست گزار کی پٹیشن پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن توہین عدالت کی درخواست اور نوٹس جاری ہونے تک پاسپورٹ حکام نے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ پاسپورٹ حکام نے بعد میں جو رپورٹ پیش کی، اس پر صرف ’اسپیکنگ آرڈر‘ کا عنوان لگا دینا کافی نہیں تھا۔ اس اسپیکنگ آرڈر میں نہ کسی قانونی شق کا ذکر تھا، نہ مجاز اتھارٹی کی نشاندہی کی گئی اور نہ کسی رول کا ذکر تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جس طرح پاسپورٹ حکام نے اسپیکنگ آرڈر کیا، اس قسم کا حکم اسپیکنگ آرڈر کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کوئی رسمی کارروائی نہیں، فریقین کو اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے