• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 1:49 صبح
  • پاکستان

6 سالہ بچی نے روبک کیوب کا ورلڈ ریکارڈ دو بار توڑ دیا

8 لاکھ عمارتوں کا نیویارک : ٹرک ڈرائیور کے شوق نے دنیا کو حیران کردیا

کیا 2026 کے اختتام سے قبل دنیا ختم ہو جائے گی؟ 66 سال پرانی پیشگوئی نے سنسنی پھیلادی

پرانا سامان خریدنے والی فیملی کو سوٹ کیس سے کیا ملا؟ دل دہلا دینے والا واقعہ

اسلام آباد (22 ستمبر 2026): وزارت خزانہ نے پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ پر تفصیلی وضاحت جاری کر دی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام حکومت کا مجموعی پروگرام ہے یہ صرف وزارت خزانہ کا پروگرام نہیں، اس میں وزارت خزانہ، منصوبہ بندی، توانائی، صوبائی حکومتیں، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر ادارے شامل ہیں، متعلقہ وزارتیں، ادارے اصلاحات اور اہداف کے تعین کیلیے تکنیکی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں، یہ صرف اعداد و شمار یا مالیاتی اہداف تک محدود نہیں، اس میں معاشی ترقی، سماجی تحفظ، گورننس، توانائی اور موسمیاتی لچک سمیت وسیع اصلاحات شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد معاشی استحکام، پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کیلیے اصلاحات آگے بڑھانا ہے، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی پروگرام کا مرکزی نکتہ نہیں بلکہ متعدد محصولاتی ذرائع میں سے ایک ہے، اس کی مالیاتی حکمت عملی میں ایف بی آر محصولات، ٹیکس بنیاد میں توسیع اور صوبائی ٹیکس و اخراجات کو معقول بنانا شامل ہے۔

’مالی سال 27-2026 کے آئی ایم ایف پروگرام میں اضافی محصولات کے حصول اور ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی پالیسی عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام کے متفقہ فریم ورک کا حصہ ہے۔ پیٹرولیم کے نرخ کو عالمی قیمتوں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ پروگرام کا حصہ ہے۔ افراط زر، بے روزگاری، غربت اور کم شرح نمو کو کسی ایک مالیاتی ذریعے سے منسلک کرنا درست نہیں۔ معاشی نتائج پر اجناس کی قیمتوں، شرح مبادلہ، مالیاتی و زری حالات اور عالمی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔‘

وزارت خزانہ نے وضاحت میں مزید کہا کہ مالیاتی استحکام کو اقتصادی ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، مالیاتی پائیداری کی بحالی اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ پائیدار نجی سرمایہ کاری کیلیے ضروری ہیں، ری فنانسنگ خطرات میں کمی بھی نجی سرمایہ کاری کیلیے ضروری ہے، مالیاتی استحکام نے معاشی عدم توازن، طلب کے دباؤ اور مہنگائی میں کمی میں معاونت کی، اس کے اقدامات سماجی تحفظ کے بغیر نہیں کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں سماجی تحفظ کے واضح اہداف شامل ہیں، بی آئی ایس پی کے تحت امداد کو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں، کمزور طبقات کے تحفظ کیلیے ہدفی، عارضی اور مالی طور پر پائیدار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

’گزشتہ مالی سال میں قرضوں میں اضافے کی رفتار 2 دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی۔ زرعی شعبے سے متعلق اصلاحات صرف وزارت خزانہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کا بھی کردار ہے، زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا آئینی اور انتظامی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے، وزارت خزانہ کی ذمہ داری مجموعی پروگرام کی رابطہ کاری ہے۔ پالیسی سازی اور عملدرآمد متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مناسب پالیسی بحث استحکام بمقابلہ ترقی نہیں بلکہ معاشی استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب منتقلی ہے۔ پائیدار ترقی کیلیے ضروری ہے ماضی کی طرح مالیاتی اور بیرونی عدم توازن دوبارہ پیدا نہ ہو۔‘

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے