• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 10:46 شام
  • پاکستان

خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل

امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانی والی خاتون نے 2 بار موت کا چکما دے دیا

انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

(1 اکتوبر 2026): ایکسن موبل، شیبرون اور دیگر بڑی کیمیکل پروڈیوسر کمپنیوں نے پلاسٹک ری سائیکلنگ کے دعوؤں سے متعلق مقدمہ جیت لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کیمیکل پروڈیوس کرنے والی کمپنیاں عدالت کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئیں کہ وہ اس مقدمے کو خارج کر دیں جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا اور صارفین کے اخراجات میں اضافہ کیا۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹوبی کراؤز نے ایک فیصلے میں کہا کہ دعویٰ کرنے والے آٹھ افراد اور ایک مقامی کاؤنٹی کمیشن کا بورڈ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ انہیں اس مقدمے کو دائر کرنے کا قانونی حق بھی حاصل ہے، مقدمہ یہ ثابت نہ کر سکا کہ دعویٰ کرنے والوں کو مالی نقصان پہنچا۔

ٹوبی کراؤز کے مطابق شکایت میں یہ الزام لگانے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا گیا کہ مدعی نے کسی بھی مخصوص مدعا علیہ کی تیار کردہ کوئی خاص اشتہاری یا مارکیٹنگ مٹیریل دیکھا ہو۔

واضح رہے کہ 2024 کے اس مقدمے میں مدعیان نے الزام لگایا تھا کہ ایکسن، شیبرون اور دیگر کمپنیوں نے صارفین کو اس بات پر دھوکا دیا کہ پلاسٹک ری سائیکل ہونے کے قابل ہے جس کی وجہ سے انہوں نے مزید پلاسٹک کی مصنوعات خریدیں۔

عدالت میں جمع کروائے گئے کاغذات میں ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں نے پلاسٹک کو بڑے پیمانے پر اور آسانی سے ری سائیکل ہونے کے قابل ظاہر کرنے کیلیے ایک مربوط اور فریب پر مبنی مارکیٹنگ اسکیم کا سہارا لیا حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ صارفین کے استعمال کا زیادہ تر پلاسٹک ری سائیکل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہوتا ہے۔

تاہم جج ٹوبی کراؤز نے فیصلے میں تحریر کیا کہ مدعیان کا یہ مؤقف ہے کہ ان کی خریدی گئی ہر ایک پلاسٹک کی مصنوعات کی قیمت مدعا علیہان کے عمل کی وجہ سے مصنوعی طور پر بڑھائی گئی تھی، یہ بے بنیاد نتیجہ مارکیٹ کے واضح درمیانی حالات اور واقعات کا احاطہ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے