• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 11:19 شام
  • پاکستان

2008 کے احمد آباد سیریل دھماکا کیس میں احمد باوا عرف ابو ابوبکر بریلوی کو گجرات ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا دی تھی

2008 کے احمد آباد سیریل دھماکا کیس میں سزائے موت پانے والے احمد باوا عرف ابو ابوبکر بریلوی کو سپریم کورٹ سے عارضی ریلیف مل گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے ملزم کی جانب سے دائر اپیل پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

سماعت جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس میں جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح شامل تھے۔

سپریم کورٹ اب گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر درخواست میں اٹھائے گئے قانونی نکات کا جائزہ لے گی۔

دورانِ سماعت دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ احمد باوا کو بنیادی طور پر سازش کے الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دیا گیا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ کے متعدد اہم دستاویزات مقامی زبان میں ہیں اس لیے انھیں سمجھنے کے لیے ترجمہ درکار ہے۔

دفاع کی جانب سے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کا ترجمہ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔

یاد رہے کہ احمد باوا کو سیریل دھماکا کیس میں احمد آباد کی نچلی عدالت نے پھانسی سنائی تھی جس گجرات ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف احمد باوا عرف ابو ابوبکر بریلوی نے اپنی وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سزا پر عمل درآمد روکنے کا مطلب ہے کہ فی الحال احمد باوا کو پھانسی نہیں دی جاسکے گی۔ کیس میں مزید سماعت کے بعد عدالت آئندہ قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

یاد رہے کہ 26 جولائی 2008 کو شام کے وقت محض 70 منٹ کے مختصر وقفے میں احمد آباد شہر کے پُرہجوم علاقوں جیسے بازاروں، بسوں، پارک کی گئی سائیکلوں اور کاروں کے نزدیک 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔

اس حملے کی سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ زخمیوں کو لے جانے والے سرکاری سول اسپتال اور ایل جی اسپتال کو بھی بم دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان دھماکوں میں 56 افراد ہلاک ہوئے اور 240 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پولیس نے اس کیس میں مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 78 ملزمان پر باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا۔

ان 78 ملزمان میں سے خصوصی عدالت اور گجرات ہائی کورٹ نے 49 کو مجرم قرار دیا جن میں سے 38 کو سزائے موت اور 11 کو عمر قید ہوئی جبکہ 28 کو عدم ثبوت پر بری کر دیا گیا۔

جن میں سب سے پہلے مبینہ ماسٹر مائنڈ مفتی ابو بشر سمیت کئی اہم کارندوں کو ملک کی 11 مختلف ریاستوں جیسے مدھیہ پردیش، کیرالہ، اور اتر پردیش سے گرفتار کیا گیا۔

بھارتی پولیس اور کرائم برانچ کے مطابق یہ تمام افراد بھارت میں ممنوعہ تنظیموں انڈین مجاہدین (IM) اور سیمی (SIMI) سے وابستہ تھے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے