• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 11:38 صبح
  • پاکستان

اسلام آباد: وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مختلف آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے، جس میں سے ایک اشارہ یہ بھی ملا ہے کہ مرکز صرف ایمرجنسی یا گورنر راج میں سے کسی ایک پر انحصار کرنے کے بجائے ’’آئینی اقدامات کے امتزاج‘‘ کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہےکہ سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ جاری رکھنے کے فیصلے کے معاملے پر مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے، ایمرجنسی یا گورنر راج دونوں کیلئے ضروری حالات موجود ہیں، آئین میں فراہم کردہ اقدامات کا ایک امتزاج اختیار کیا جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں خاص اہمیت رکھتا ہے جب پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں بالخصوص صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ جاری رکھنے کے فیصلے کے معاملے پر مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

وفاقی حکومت پہلے ہی اعلانیہ طور پر عندیہ دے چکی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج ان آئینی آپشنز میں شامل ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ’’سنجیدگی سے غور‘‘ کر رہی ہے اور اس کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کو قرار دیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا تھا کہ اگر ایسے حالات موجود ہوں یا پیدا ہو جائیں جن میں آئین گورنر راج یا ایمرجنسی کا تقاضا کرے تو ’’ایسا ضرور ہو سکتا ہے اور ہوگا‘‘۔ تاہم، بعد ازاں حکومت نے فی الحال فوری طور پر دونوں میں سے کوئی اقدام نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بجائے پی ٹی آئی کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا کہ وہ اپنے مجوزہ مارچ پر نظرثانی کرے اور اپنی محاذ آرائی پر مبنی سیاسی حکمتِ عملی تبدیل کرے۔

مذکورہ ذریعے کی جانب سے ممکنہ ’’آئینی اقدامات کے امتزاج‘‘ کا حوالہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیر غور آپشنز ایمرجنسی اور گورنر راج میں سے کسی ایک کے سادہ انتخاب تک محدود نہیں ہو سکتے۔ تاہم، آئینی اقدامات کے اس ممکنہ امتزاج کی درست نوعیت ابھی واضح نہیں۔

آرٹیکل 232 کے تحت ایسے حالات میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے جب سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہو اور جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے داخلی خلفشار کے باعث پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو۔

دوسری جانب آرٹیکل 234 ایسے حالات سے متعلق ہے جس میں کسی صوبے میں آئینی نظام کے ناکام ہونے کا معاملہ درپیش ہو، دونوں میں یہ فرق خاص اہمیت رکھتا ہے۔

آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 میں مختلف آئینی نتائج اور طریقۂ کار موجود ہے، آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور فرائض بھی معطل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 232 بذاتِ خود صوبائی اسمبلی کو معطل نہیں کرتا۔

سرکاری حج اسکیم کے تحت دوسری قسط کی وصولی آج سے شروع

کراچی سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

بحری قزاقوں کے حملے میں متاثر جہاز کا پاکستانی عملہ وطن واپس پہنچ گیا

محسن نقوی کی گورنر خیبرپختونخوا سے اہم ملاقات، صوبےکو دہشتگردی سے بچانےکیلئے آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، محسن نقوی

تیل کے طوفان کا مقابلہ غیر مشروط امداد سے نہیں کرسکتے، اسکا حجم ہزاروں ارب روپے ہے: علی پرویز

حکومت سے مذاکرات کی تیسری نشست کیلئے بیرسٹر گوہر متحرک

حکومت نے جان بوجھ کر مذاکرات ناکام بنائے، اب حالات خراب ہوئے تو ذمہ داری ان پر ہوگی: شوکت یوسفزئی

سستی بجلی پیدا کرنیوالے پاور پلانٹس ہونے کے باوجود مہنگے پلانٹ کیوں چلائے جاتے ہیں؟

کے پی حکومت نے مذاکرات میں کیے گئے وعدوں پر عمل سے آخری مرحلے میں انکار کردیا: محسن نقوی

ڈی آئی خان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 3 سرغنہ سمیت 8 دہشتگرد ہلاک

بحری قزاقوں کے حملے میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں اور زخمیوں کو آج وطن واپس لایا جائے گا

تازہ ترین

• 2 منٹ پہلے پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے آئینی اقدامات کے مجموعے پر غور

• 14 منٹ پہلے مسجد جانے سے رضوان کو کس نے روکا؟

مسجد جانے سے رضوان کو کس نے روکا؟

• 2 گھنٹے پہلے سرکاری حج اسکیم کے تحت دوسری قسط کی وصولی آج سے شروع

• 3 گھنٹے پہلے برطانوی فوجی اڈے پر حملے کا خدشہ، امر یکا نے اپنے بی ون بمبار طیارے ہنگامی طور پر واپس بلا لیے

برطانوی فوجی اڈے پر حملے کا خدشہ، امر یکا نے اپنے بی ون بمبار طیارے ہنگامی طور پر واپس بلا لیے

• 5 گھنٹے پہلے دورہ پاکستان کیلئے سری لنکن کرکٹ ٹیم کا پہلا دستہ اسلام آباد پہنچ گیا، ائیرپورٹ پر شاندار استقبال

دورہ پاکستان کیلئے سری لنکن کرکٹ ٹیم کا پہلا دستہ اسلام آباد پہنچ گیا، ائیرپورٹ پر شاندار استقبال

• 5 گھنٹے پہلے دشمن نے دوبارہ فوجی تصادم کا راستہ اختیار کیا تو ہمارا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا، ایران نے خبردار کردیا

دشمن نے دوبارہ فوجی تصادم کا راستہ اختیار کیا تو ہمارا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا، ایران نے خبردار کردیا

• 7 گھنٹے پہلے سری لنکا کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے صاحبزادہ فرحان کو کپتان برقرار رکھنے کا امکان

سری لنکا کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے صاحبزادہ فرحان کو کپتان برقرار رکھنے کا امکان

• 8 گھنٹے پہلے کراچی سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے