• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 11:22 شام
  • پاکستان

ملزم نے اپنے بھائی کی خودکشی کا بدلہ لینے کے لیے 15 فروری 2002 کو جنگل میں لے جاکر قتل کیا تھا

دہلی میں 2002 میں ایک شخص کا سر پتھروں سے کچل کر قتل کرنے والا ملزم تقریباً 24 سال تک پولیس کو چکمہ دینے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 48 سالہ فیروز عرف خواجہ کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے گروگرام کے آئی ایم ٹی مانسیر میں قائم ریڈی میڈ گارمنٹس فیکٹری سے گرفتار کیا جہاں بھیس بدل کر گزشتہ 2 سال سے درزی کے طور پر کام کر رہا تھا۔

پولیس نے اس دل دہلادینے والے کیس سے متعلق بتایا کہ 18 فروری 2002 کو تغلق آباد قلعے کے قریب ڈی ڈی اے کے جنگلات سے تقریباً 35 سالہ شخص کی انتہائی بوسیدہ لاش ملی تھی.

لاش پر بڑے بڑے پتھر رکھے گئے تھے جبکہ سر بھی پتھروں سے بری طرح کچلا گیا تھا۔ تفتیش ے دوران مقتول کی شناخت بہار کے رہائشی کلام انصاری کے طور پر ہوئی تھی لیکن قاتل فرار تھا۔

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مقتول 2001 میں روزگار کے لیے فیروز نامی شخص کے ساتھ دہلی آیا تھا۔ فیروز کے بھائی کا مقتول کلام انصاری کے گاؤں کی ایک خاتون سے تنازع چل رہا تھا۔

بعد ازاں فیروز کے بھائی نے کلام انصاری کے گھر کے سامنے خودکشی کرلی تھی اور فیروز اس کا ذمہ دار فیروز کو سمجھتا تھا انتقام لینے کے لیے ہی قتل کی سازش رچی تھی۔

فیروز 15 فروری 2002 کو کلام انصاری کو تغلق آباد کے جنگل میں لے گیا اور پتھروں سے اس کا سر کچل کر قتل کردیا۔

قتل کی واردات انجام دینے کے بعد فیروز بہار فرار ہوگیا اور کلام انصاری کے بارے میں گمراہ کن معلومات دیتا رہا اور پھر غائب ہوگیا۔

خود اپنے دام میں صیاد آگیا کہ مصداق فیروز اپنے آبائی علاقے لوٹا تو کسی نے دیکھ لیا اور پولیس کو اطلاع تاہم پولیس کے پہنچنے تک وہ واپس چلا گیا تھا۔

جس پر کرائم برانچ نے مسلسل تلاش جاری رکھی اور 2 ماہ میں تقریباً 30 چھاپے مارے۔ بالآخر اُس فیکٹری تک پہنچ گئی جہاں ملزم درزی کا کام کرتا تھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے