پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال کو اگر محض خراب فارم، کسی ایک کپتان کی کمزور قیادت، ایک دو کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی یا کسی ایک کوچ کے غلط فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا جائے تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہم اصل مسئلے سے آنکھیں چرا رہے رہے ہیں۔
گزشتہ دو تین برسوں سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے نتائج کو ایک تسلسل کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ کسی ایک سیریز یا کسی ایک ٹورنامنٹ کی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل زوال کی تصویر دکھاتے ہیں جس میں مخالف ٹیمیں بدلتی رہی ہیں، فارمیٹ بدلتے رہے ہیں، کپتان اور کوچ تبدیل ہوتے رہے ہیں، سلیکشن کمیٹیاں بدلتی رہی ہیں، مگر پاکستان کی ناکامیوں کا انداز تبدیل نہیں ہوتا۔
آئرلینڈ سے ٹی ٹوئنٹی میں شکست ہو، امریکا کے ہاتھوں عالمی کپ میں اپ سیٹ، 2024 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے اگلے مرحلے تک نہ پہنچ پانا، بنگلادیش کے ہاتھوں پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کا وائٹ واش، 556 رنز بنانے کے باوجود اپنے ہی ملک میں انگلینڈ سے اننگز کی شکست، نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل ناکامیاں، چیمپئنز ٹرافی میں ایک بھی میچ نہ جیت پانا، 2026 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے سیمی فائنل تک نہ پہنچنا، بنگلادیش کے خلاف ایک روزہ اور ٹیسٹ شکستیں یا اب انگلینڈ کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں 3-0 کا وائٹ واش، یہ سب واقعات مل کر ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں جس سے اب فرار بالکل بھی ممکن نہیں: آخر پاکستان کرکٹ کا مسئلہ کہاں ہے؟
اس سوال کا جواب صرف میدان میں تلاش کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ میدان میں نظر آنے والی شکستوں کے پیچھے کئی ایسے فیصلے ہوتے ہیں جو میدان سے بہت پہلے کیے جاچکے ہوتے ہیں۔ ٹیم کا انتخاب، کھلاڑیوں کے کردار کا تعین، کپتان کا انتخاب، کوچ کو دی جانے والی آزادی، فٹنس کا معیار، ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار اور وہاں سے قومی ٹیم تک کھلاڑیوں کی منتقلی اور بڑے مقابلوں کے لیے حکمت عملی، یہ سب مل کر ٹیم کیلئے حالات کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر یہ تمام یا ان میں سے کئی کڑیاں کمزور ہوں تو پھر گیارہ کھلاڑیوں سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع کرنا ایک غیر منطقی مطالبہ بن کر رہ جاتا ہے۔
اکتوبر 2024 کا ملتان ٹیسٹ اس بحران کو سمجھنے کے لیے شاید سب سے نمایاں مثال ہے۔ پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں 556 رنز بنائے تھے اور بظاہر ایک ایسا مجموعہ کھڑا کیا تھا جس کے بعد کم از کم میچ پر مضبوط گرفت کی توقع کی جاسکتی تھی، لیکن انگلینڈ نے جواب میں 823 رنز بنا ڈالے اور پاکستان کو ایک اننگز اور 47 رنز سے شکست ہوگئی۔
556 رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست صرف ایک خراب بولنگ کارکردگی نہیں تھی بلکہ اس نے پاکستان کی منصوبہ بندی، کھیل کو پڑھنے کی صلاحیت، دباؤ پیدا کرنے کی اہلیت اور مختلف حالات میں حکمت عملی تبدیل کرنے کی صلاحیت پر بنیادی سوالات اٹھائے۔ اگر ایک ٹیم اپنی پہلی اننگز میں ساڑھے پانچ سو سے زیادہ رنز بنانے کے باوجود میچ میں اس قدر بے بس ہوجائے تو پھر مسئلہ کسی ایک بولر یا ایک بلے باز تک محدود نہیں رہتا۔
اسی دوران بنگلادیش کے خلاف ہونے والی شکستوں نے پاکستان کرکٹ کے زوال کی ایک اور خطرناک جہت سامنے رکھی۔ ایک وقت تھا جب بنگلادیش پاکستان کے خلاف کھیلنے سے پہلے ایک بڑی ٹیم کے خلاف مقابلے کی بات کرتا تھا، لیکن 2024 میں بنگلادیش نے پاکستان کو اسی کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی اور 2026 میں بھی پاکستان کو 2-0 سے ہرا دیا۔ یوں پاکستان مسلسل 4 ٹیسٹ میچ بنگلادیش سے ہار چکا ہے۔ بنگلادیش نے پاکستان کے خلاف لگاتار سیریز جیت کر یہ واضح کردیا کہ کرکٹ میں پرانی شہرت اور تاریخی برتری اب میدان میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔
یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ بنگلادیش نے اپنی روایتی خامیوں پر کام کیا، فاسٹ بولنگ، نوجوان کھلاڑیوں اور اپنی مخصوص کمیوں کو بہتر کیا، جبکہ پاکستان مسلسل یہ فیصلہ کرنے میں الجھا رہا کہ اسے ماضی کے کامیاب کھلاڑیوں پر انحصار جاری رکھنا ہے یا ایک نئی ٹیم بنانی ہے۔ پاکستان کے پاس ٹیلنٹ تو ہے لیکن ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر مستقل کارکردگی میں تبدیل کرنے والا ہمارا نظام اب ضرور سخت سوالوں کی زد میں ہے۔
دو ہزار چوبیس کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں امریکا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کو شروع میں ایک بڑا اپ سیٹ قرار دیا گیا، لیکن کسی ایک شکست کو اپ سیٹ کہنا اسی وقت مناسب ہوتا ہے جب اس کے بعد ٹیم اپنی کمزوریوں کو درست کرے۔ پاکستان اس عالمی کپ میں اگلے مرحلے تک نہ پہنچ سکا، اور دو سال بعد 2026 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کرسکا۔ دو عالمی مقابلوں کے درمیان پاکستان نے کپتان بھی بدلے، کوچنگ نظام بھی بدلا، کھلاڑی بھی اندر باہر کیے، مگر بڑے عالمی مقابلوں میں دباؤ برداشت کرنے، مطلوبہ رفتار سے رنز بنانے اور اہم مواقع پر درست فیصلے کرنے کی بنیادی کمزوری برقرار رہی۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان ہر عالمی کپ کیوں نہیں جیتتا؛ سوال یہ ہے کہ پاکستان بڑے ٹورنامنٹس میں مسلسل ایسی پوزیشن پر کیوں پہنچ جاتا ہے جہاں اسے آخری مرحلے میں دوسری ٹیموں کے نتائج، گنجلک حساب کتاب یا غیر معمولی کارکردگی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف گزشتہ کئی مقابلوں میں پاکستان کی کارکردگی بھی اسی مسئلے کا ایک اور چہرہ ہے۔ دوہزار پچیس کے ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان صرف 91 رنز پر آل آؤٹ ہوا، جبکہ ایک دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں نیوزی لینڈ نے پہلے 6 اوورز میں 92 رنز بنا ڈالے۔ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ابتدائی 6 اوورز کسی بھی ٹیم کی حکمت عملی کا سب سے اہم حصہ ہوتے ہیں؛ بیٹنگ ٹیم یہاں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور بولنگ ٹیم نقصان کو محدود رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر پاکستان خود ابتدائی اوورز میں رنز بنانے میں ناکام ہو اور مخالف ٹیم کو اسی مرحلے میں 92 رنز بنانے دے تو یہ محض ایک دن کی خراب بولنگ نہیں بلکہ کھیل کی بدلتی ہوئی ضرورتوں کو سمجھنے میں ناکامی کی علامت کہلائے گی۔ گزشتہ برسوں میں نیوزی لینڈ کے خلاف لگاتار میچ ہارنے کا سلسلہ اس سوال کو مزید سنگین بناتا ہے کہ پاکستان نے آخر ان شکستوں سے کیا سیکھا؟
چیمپئنز ٹرافی نے بھی یہی سوال دوبارہ ہمارے سامنے رکھا۔ پاکستان کو اپنی سرزمین پر ایک بڑے عالمی ٹورنامنٹ میں کھیلنے کا موقع ملا، لیکن ٹیم ایک بھی میچ نہ جیت سکی اور سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ یہ ناکامی صرف نتائج کی وجہ سے اہم نہیں تھی بلکہ اس لیے بھی کہ پاکستان کی بیٹنگ کئی مواقع پر جدید ایک روزہ کرکٹ کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی نہیں دی۔ پاور پلے میں مطلوبہ جارحیت کا فقدان، درمیانی اوورز میں رنز کی رفتار برقرار رکھنے میں مشکلات اور اختتامی اوورز میں بہت زیادہ دباؤ، یہ مسائل بار بار سامنے آتے رہے۔ جب ایک ہی کمزوری مختلف سیریز اور مختلف مخالف ٹیموں کے خلاف بار بار دکھائی دے تو اسے اتفاق نہیں کہا جاسکتا۔
یہاں پاکستان کی سلیکشن پالیسی پر سب سے زیادہ سوالات اٹھتے ہیں۔ آخر قومی ٹیم میں کھلاڑی کس بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں؟ کیا موجودہ فارم بنیادی معیار ہے؟ کیا ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی واقعی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے؟ کیا کھلاڑی کا مخصوص کردار دیکھا جاتا ہے یا اس کی شہرت اور ماضی کے ریکارڈ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے؟ دنیا کی کامیاب ٹیمیں پہلے اپنی ضرورت اور کردار طے کرتی ہیں اور پھر اس کردار کے لیے موزوں ترین کھلاڑی منتخب کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں اکثر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پہلے کھلاڑی منتخب ہوتے ہیں اور پھر ان کے لیے موزوں کردار تلاش کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اب ایک بنیادی فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی ٹیم ماضی کے ناموں سے بننی ہے یا مستقبل کی ضروریات کے مطابق۔ کسی کھلاڑی کی عظمت یا ماضی کی کامیابیاں اسے سوال سے بالاتر نہیں کرتیں۔ بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ یا کوئی بھی دوسرا سینئر کھلاڑی پاکستان کرکٹ کا اثاثہ ہوسکتا ہے، لیکن قومی ٹیم میں مستقل جگہ ماضی کی کارکردگی کے بجائے موجودہ کارکردگی اور ٹیم کی ضرورت سے طے ہونی چاہیے۔ بڑے ناموں کو عزت ملنی چاہیے، لیکن قومی ٹیم میں جگہ کی ضمانت نہیں۔
اسی تناظر میں بابر اعظم کے بارے میں ہونے والی بحث کو بھی جذبات سے نکال کر کارکردگی کی بنیاد پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بابر پاکستان کے بہترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے عالمی ریکارڈ اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں، لیکن ان کی موجودہ فارم اور ٹیم میں ان کے کردار پر سوال اٹھانا کسی کھلاڑی کے خلاف مہم نہیں بلکہ پیشہ ورانہ احتساب کا حصہ ہے۔ اصل سوال پھر یہی بنتا ہے کہ پاکستان کو بابر سے کس کردار میں کیا توقع ہے اور کیا ٹیسٹ یا ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی موجودہ ساخت اس کردار کو بہترین انداز میں استعمال کررہی ہے؟
پاکستان کے عظیم سابق کپتان اور فاسٹ بولر وسیم اکرم نے بھی موجودہ صورتحال پر غیر معمولی مایوسی کا اظہار کیا۔ حالیہ انگلینڈ سیریز کے دوران ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ پاکستان 3-0 سے سیریز ہار سکتا ہے، جبکہ انہوں نے پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے، قلیل مدتی سوچ اور مسلسل تبدیلیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ جب پاکستان کا ایک عظیم ترین سابق کھلاڑی اپنی قومی ٹیم کے بارے میں اس قدر مایوسی کا اظہار کرے تو اسے محض ایک سابق کھلاڑی کا جذباتی تبصرہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اس اعتماد کے بحران کی علامت ہے جو اب پاکستان کرکٹ کے اردگرد پیدا ہوچکا ہے۔
کوچنگ کا معاملہ بھی اسی بحران کا حصہ ہے۔ گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی جیسے تجربہ کار غیر ملکی کوچز کو طویل المدت منصوبہ بندی کے لیے لایا گیا، لیکن دونوں زیادہ عرصہ اس نظام کا حصہ نہ رہ سکے۔ پھر عبوری انتظامات آئے، کوچنگ اسٹاف بدلا اور فیصلوں کے اختیارات اور دائرۂ کار پر سوالات اٹھتے رہے۔ کسی بھی کھیل میں مستقل کامیابی کے لیے کوچ کو صرف عہدہ دینا کافی نہیں ہوتا، اسے اختیار، واضح ذمہ داری اور اپنی حکمت عملی نافذ کرنے کا وقت بھی دینا پڑتا ہے۔ اگر کوچ بدلنے کے ساتھ ہر مرتبہ ٹیم کی سوچ، سلیکشن اور حکمت عملی بھی بدل جائے تو پھر طویل المدت ٹیم بننے کے بجائے ہر سیریز ایک نیا تجربہ بن جاتی ہے۔
حالیہ انگلینڈ سیریز نے اس بحران کو مزید نمایاں کردیا۔ پاکستان نے 3-0 سے سیریز گنوائی اور اس دوران ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں، کئی کھلاڑی واپس بھیجے گئے اور کوچنگ اسٹاف میں بھی ردوبدل ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اگر سیریز کے دوران ہی اتنی بڑی تبدیلیاں ضروری ہوگئیں تو سیریز سے پہلے تیاری کس بنیاد پر ہوئی تھی؟ اسکواڈ کس نے منتخب کیا تھا؟ کھلاڑیوں کی فٹنس اور فارم کا جائزہ کس نے لیا تھا؟ حکمت عملی کس نے بنائی تھی؟ اور اگر وہ سب غلط تھا تو اس غلطی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
اس پوری صورتحال میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جو امید کی کرن بن سکتا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں نوجوان رضا اللہ نے 81 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر یہ دکھایا کہ پاکستان کے پاس بے خوف کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑی ابھی بھی موجود ہیں۔ اس اننگز میں 9 چھکے اور 4 چوکے اس ذہنیت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی جدید کرکٹ میں ضرورت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک نوجوان نے ایک اننگز میں 81 رنز کیسے بنا لیے، سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ایسے کھلاڑی قومی ٹیم میں مستقل موقع دینے کے لیے کسی نوجوان کے اس قسم کے کارنامے کا انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے؟ اگر ایک نوجوان اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں دباؤ سے آزاد ہوکر ایک مضبوط انگلش اٹیک کے خلاف جارحانہ کرکٹ کھیل سکتا ہے تو شاید مسئلہ نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ انہیں اعتماد، واضح کردار اور مسلسل مواقع نہ ملنے کا ہے۔
پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ ہم ہر شکست کے بعد ایک فرد کو تلاش کرتے ہیں جسے ذمہ دار قرار دے کر مسئلہ ختم سمجھ لیا جائے۔ کبھی کپتان قربانی کا بکرا بنتا ہے، کبھی کوچ، کبھی سلیکشن کمیٹی اور کبھی ایک دو کھلاڑی۔ لیکن اگر کپتان بدلنے کے باوجود ٹیم ہارتی رہے، کوچ بدلنے کے باوجود وہی خامیاں سامنے آئیں، سلیکشن کمیٹی بدلنے کے باوجود وہی تنازعات پیدا ہوں اور کھلاڑی تبدیل کرنے کے باوجود نتائج نہ بدلیں تو پھر شاید مسئلہ ان افراد سے بڑا ہے، مسئلہ نظام میں ہے۔
پاکستان کرکٹ کو اب ایک اور عبوری کوچ، ایک اور ہنگامی سلیکشن کمیٹی یا ایک اور فوری ’ری سیٹ‘ کی ضرورت نہیں۔ اسے کم از کم 4 سے 5 سال کی واضح کرکٹ پالیسی چاہیے جس میں ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کے لیے الگ الگ حکمت عملی ہو، سلیکشن کے واضح اور قابل پیمائش اصول ہوں، ڈومیسٹک کرکٹ کو قومی ٹیم کی ضروریات سے جوڑا جائے، کھلاڑیوں کے کردار پہلے سے طے ہوں اور کپتان، کوچ، سلیکٹرز اور بورڈ کی ذمہ داریاں واضح ہوں۔ سب سے بڑھ کر ہر بڑے ٹورنامنٹ اور ہر بڑے دورے کے بعد ایک حقیقی کارکردگی کا جائزہ ہونا چاہیے جس میں یہ طے ہو کہ غلطی کہاں ہوئی، فیصلہ کس نے کیا اور اسے درست کرنے کی ذمہ داری کس پر ہے۔
پاکستان کرکٹ کے پاس ٹیلنٹ آج بھی ہے، کچھ نہ کچھ شائقین آج بھی ہیں، جنون آج بھی ہے اور دنیا میں اس ٹیم کو دیکھنے والوں کی بڑی تعداد بھی ۔ بس جو چیز کمزور ہوئی ہے وہ اعتماد، تسلسل اور سمت ہے۔ پاکستان کو دوبارہ عالمی معیار کی ٹیم بنانے کے لیے شاید سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ کئی برسوں کی شکستیں محض بدقسمتی نہیں تھیں۔ ان میں کچھ شکستیں یقینی طور پر کھیل کا حصہ تھیں، کچھ مخالف ٹیم کی غیر معمولی کارکردگی کا نتیجہ تھیں، لیکن جب آئرلینڈ، امریکا، بنگلا دیش، افغانستان، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ جیسے مختلف حریفوں کے خلاف بار بار ایک ہی نوعیت کی کمزوریاں سامنے آئیں تو پھر اسے قسمت کا نام دینا حقیقت سے فرار ہے۔
آخر کب تک پاکستان کرکٹ ہر ناکامی کے بعد صرف چہرے تبدیل کرتی رہے گی؟ کب تک ایک نئے کپتان سے وہ نتائج مانگے جائیں گے جن کے لیے اسے نہ مستقل ٹیم ملتی ہے، نہ واضح سلیکشن پالیسی اور نہ طویل المدت حکمت عملی؟ کب تک کسی بڑے نام کو اس لیے کھلایا جائے گا کہ وہ کبھی بڑا کھلاڑی تھا، اور کسی نوجوان کو اس لیے باہر رکھا جائے گا کہ اس کے پاس ابھی بڑا نام نہیں؟
پاکستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے ناموں کی ٹیم بنانی ہے یا کارکردگی کی ٹیم۔
کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کبھی ہارتا کیوں ہے۔ بڑی سے بڑی ٹیم ہارتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان بار بار ایک ہی طرح سے ہارتا ہے اور ہر بار ایسا ظاہر کرتا ہے جیسے اسے پہلی مرتبہ اپنی کمزوری کا علم ہوا ہو۔
گزشتہ کئی برس سے جاری اس کہانی میں حریف بدلتے رہے، فارمیٹ بدلتے رہے، کپتان بدلتے رہے، کوچ بدلتے رہے اور سلیکٹرز بدلتے رہے، لیکن پاکستان کرکٹ کی بنیادی کمزوریاں وہیں رہیں۔ اب اگر اس حقیقت کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا تو اگلی شکست صرف ایک اور شکست ہوگی، مگر اس کے بعد ہونے والی ہر شکست کے لیے ذمہ داری صرف میدان میں موجود 11 کھلاڑیوں پر ڈالنا دیانت داری نہ ہوگی۔
پاکستان کرکٹ کو ایک نئے کپتان سے زیادہ ایک نئی سمت کی ضرورت ہے، ایک نئے کوچ سے زیادہ ایک مستقل فلسفے کی ضرورت ہے اور ایک نئی سلیکشن کمیٹی سے زیادہ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں میرٹ، کارکردگی اور جواب دہی محض الفاظ نہیں بلکہ فیصلوں کی بنیاد ہوں۔
ورنہ خطرہ یہ نہیں کہ پاکستان کچھ اور میچ ہار جائے گا اصل خطرہ یہ ہے کہ شکست پاکستان کرکٹ کو اس کے شائقین سے ہمیشہ کیلئے دور کردے گی۔
خرم صدیقی سینئر صحافی اور جیو نیوز کے اسٹاف ممبر ہیں، ان کا ٹوئٹر ہینڈل @siddiqi__ ہے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
ننگشیا ریجن کا میڈیا کلاؤڈ پلیٹ فارم
صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت
صوبے نہیں بن رہے!!
نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس
سپر ایل نینو: پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی
حیرتوں والی زمین بیجنگ کا سفر
بدلتا پاکستان، قیادت، خدمت اور عالمی اعتماد کا سفر
صوبے بعد میں پہلے شناخت طے کریں!
’’کشمیر فریب زدہ‘‘
ڈیم نہریں نامنظور، سیلاب تباہی منظور؟
وہ پھانسی کیوں مانگ رہا ہے؟
تازہ ترین
• 3 منٹ پہلے کن آئی فونز میں ایپل کے نئے آئی او ایس 27 کو استعمال کرنا ممکن ہوگا؟
کن آئی فونز میں ایپل کے نئے آئی او ایس 27 کو استعمال کرنا ممکن ہوگا؟
• 53 منٹ پہلے پاکستان کرکٹ: نظام کٹہرے میں
• 56 منٹ پہلے میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کو دھمکیاں ملنے کا انکشاف
میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کو دھمکیاں ملنے کا انکشاف
• 1 گھنٹے پہلے ننگشیا ریجن کا میڈیا کلاؤڈ پلیٹ فارم
• 1 گھنٹے پہلے اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، شرح سود برقرار
اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، شرح سود برقرار
• 1 گھنٹے پہلے کشتی الٹنے کے بعد 3 دن تک سمندر میں رہنے والا بچہ کرشماتی طور پر زندہ بچ گیا
کشتی الٹنے کے بعد 3 دن تک سمندر میں رہنے والا بچہ کرشماتی طور پر زندہ بچ گیا
• 1 گھنٹے پہلے میری حفاظت اللہ کرتا ہے، تم لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو کل یا آج ہی مرجاؤں: سہیل آفریدی کا پنجاب پولیس سے مکالمہ
میری حفاظت اللہ کرتا ہے، تم لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو کل یا آج ہی مرجاؤں: سہیل آفریدی کا پنجاب پولیس سے مکالمہ
• 1 گھنٹے پہلے باب المندب کی بندش رُکوانے کیلئے سعودی ولی عہد نے اسرائیل سے انٹیلیجنس معاونت طلب کی، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ
