• ستمبر 14, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 14, 2026 5:17 شام
  • پاکستان

لاہور ہائی کورٹ نے یو ایچ ایس، پی ایم ڈی سی اور میڈیکل کالجز سے جواب طلب کرلیا

ہائیکورٹ نے افغان طلبہ کو میڈیکل کالجز سے بے دخل کرنے کے خلاف درخواست پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے یو ایچ ایس، پی ایم ڈی سی اور میڈیکل کالجز سے جواب طلب کرلیا۔

جسٹس خالد اسحاق نے صبیحہ دفتانی اور وحیدہ اسد رسول سمیت 13 افغان شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ میڈیکل کے 13 افغان طلبہ کی جانب سے ایڈووکیٹ اسد جمال نے دلائل دیے۔ درخواست میں وفاقی حکومت، ہائیر ایجوکیشن، پی ایم ڈی سی اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ افغان طلبہ پنجاب کے مختلف میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم ہیں جبکہ متعدد طلبہ میڈیکل کے چوتھے اور پانچویں سال میں پڑھ رہے ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق علامہ محمد اقبال 4500 اسکالرشپ پروگرام کے تحت افغان طلبہ کو مکمل فنڈڈ نشستیں دی گئی تھیں اور ان کے پاس پاکستانی اسٹڈی ویزے اور درست پاسپورٹس موجود ہیں۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ افغان طلبہ کو کلیئرنس کروانے کا کہہ کر واپس افغانستان بھجوایا جارہا ہے، جبکہ غیر ملکی ایکٹ 1946 کے تحت وفاقی حکومت کا کوئی مخصوص حکم موجود نہیں ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق کسی طالب علم کا قیام منسوخ کرنے یا اجازت تبدیل کرنے کا انفرادی فیصلہ بھی موجود نہیں۔ افغان طلبہ کو واپس بھجوانے کا حکم غیرقانونی، من مانا، غیرآئینی اور اختیارات سے تجاوز ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ پی ایم ڈی سی کے احکامات میں افغان طلبہ کو واپسی کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ میڈیکل کالجز نے نوٹیفکیشنز جاری کرکے طلبہ کو اداروں سے کلیئرنس حاصل کرنے اور افغانستان روانگی کی ہدایت کی ہے۔

درخواست گزاروں نے میڈیکل کالجز کی انتظامیہ کی جانب سے زبردستی بے دخلی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم افغان طالبات کو پولیس ہراساں کررہی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ اس صورتحال سے افغان میڈیکل طلبہ کی کلاسز، امتحانات اور ہاسٹل سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ افغان طلبہ کی میڈیکل تعلیم مکمل ہونے تک انہیں جبری طور پر ملک بدر کرنے سے روکا جائے اور طلبہ کو تعلیم، امتحانات اور ہاسٹل میں رہائش جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے