• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 4:58 شام
  • پاکستان

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

جاپانی شخص کئی سالوں تک غیرآباد مکان کا کرایہ کیوں دیتا رہا؟؟

(29 ستمبر 2026): ٹریفک ای چالان کی عدم ادائیگی کا حل نکالنے کے لیے ان جرمانوں کو بجلی بلوں کے ساتھ نتھی کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

عوام مہنگے ای چالان سے نالاں اور اکثر اس کی ادائیگی نہیں کرتے، جس کے بعد حکومتی حلقوں میں ای چالان بجلی کے بلوں کے ساتھ نتھی کرنے یعنی ان کے ذریعے چالان وصول کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ انوکھی تجویز پڑوسی ملک بھارت سے سامنے آئی ہے اور دی گئی ہے وہاں کی سب سے اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کی جانب سے۔

بھارتی سپریم کورٹ میں ٹریفک قوانین کی ڈیجیٹل نگرانی اور زیرِ التوا جرمانوں کی وصولی سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی اور دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ بھارت کی ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں تقریباً 45 ہزار کروڑ بھارتی روپے کے ای چالان واجب الادا ہیں جن میں سے تقریباً 25 ہزار کروڑ روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹریفک کے اتنی بڑی تعداد میں چالان جاری کرنا کافی نہیں بلکہ اصل مسئلہ جرمانوں کی رقم کی وصولی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے متعلقہ حکومتوں اور اداروں کو تجویز دی کہ جہاں جہاں ٹریفک چالان کی ادائیگی نہیں ہو رہی، وہاں ان جرمانوں کی وصولی کے لیے بجلی کے بلوں کا سہارا لیا جائے اور ان میں چالان کی رقم شامل کر کے نادہندہ صارفین سے وصول کی جائے۔

دو رکنی بینچ نے زیرِ التوا چالان رکھنے والی گاڑیوں کے رجسٹریشن کی تجدید روکنے، ملکیت کی منتقلی پر پابندی، گاڑی کو ٹرانسپورٹ پورٹل پر بلیک لسٹ کرنے، فٹنس اور پی یو سی سرٹیفکیٹ روکنے جیسے اقدامات بھی زیرِ غور لانے کی تجاویز دی ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایسے گاڑی مالکان کے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید بھی روک دی جائے، جو چالان جمع نہیں کرا رہے اور اس کے ساتھ ساتھ پہلے سے جاری لائسنس بھی معطل کیا جائے جب کہ اچانک چیکنگ کے دوران جرمانہ ادا نہ ہونے کی صورت میں گاڑی ضبط کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے