• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 9:34 شام
  • پاکستان

آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کا مستقل حل فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، مسعود پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے بعض مسلم ممالک کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران کو نشانہ بنایا جبکہ تہران نے ان امریکی فوجی اڈوں کو جواباً نشانہ بنایا جہاں سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔

ایک عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی حکمت عملی خطے کے مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرکے وہاں کے وسائل پر اثر و رسوخ قائم کرنا ہے۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال بھی امریکی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ اگر ایران کے لیے راستے محدود کیے جائیں گے تو آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک فطری ردعمل سمجھا جائے گا۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کا مستقل حل فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایرانی صدر نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں امریکی حملوں اور پابندیوں کے باعث اعتماد متاثر ہوا ہے۔ پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان رابطے اور پیغامات کے تبادلے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ رابطہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر جاری ہے اور امریکا کو اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف پیش کرنا ہوگا۔

ایرانی صدر نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی بیرونی طاقت کے بجائے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

ان کے بقول مشرق وسطیٰ کو کسی بیرونی طاقت یا نگران کی ضرورت نہیں جبکہ امریکی پابندیوں اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے