اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا
دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی
شہزادہ ہیری نے وعدہ پورا کرنے کے لیے کینیڈا میں طیارے سے چھلانگ لگادی
شوہر کے دوسری لڑکی کیساتھ ڈانس کرنے پر ناراض بیوی نے انتہائی قدم اٹھا لیا
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انھوں نے ٹرمپ کا ابتدائی رد عمل دیکھ لیا ہے، اب ثالثوں سے حتمی جواب کا انتظار ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو سات روز میں دوبارہ کھولنے کی اپنی تجویز پر ردعمل سن لیا ہے، تاہم تہران اب بھی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے حتمی مؤقف کا منتظر ہے۔
عراقچی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ تہران نے نیویارک میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی شرائط پیش کی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ شرائط ثالثوں کو سمجھا دی گئی تھیں، جنھوں نے بعد ازاں انھیں امریکا تک پہنچایا۔
عباس عراقچی نے کہا ’’ہم نے امریکی صدر کا ابتدائی ردعمل سن لیا ہے، لیکن ثالثوں کی جانب سے ابھی تک ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا۔ ہم ثالثوں کے ذریعے حتمی مؤقف پہنچائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں اور اسی کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔‘‘
ٹرمپ، نیتن یاہو اور دیگر قاتلوں کو ہرگز نہیں بخشیں گے، ایرانی مسلح افواج کا اعلان
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کسی بھی پیش رفت کا انحصار تہران کی شرائط پوری کیے جانے پر ہوگا۔ انھوں نے کہا ’’ہماری شرائط واضح ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ نئی تجویز میں ایک ایسے لائحۂ عمل کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کو معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ تجویز میں امریکا سے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے، تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے حل ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے اور کہا کہ تہران نے سفارتی راستہ کھلا رکھا ہے۔ انھوں نے کہا ’’وقار اور انصاف کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے حل اور ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہوگا۔‘‘
