• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 6:08 شام
  • پاکستان

مظاہرین پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کر رہے تھے تاہم پولیس کی بھاری نفری نے انہیں راستے میں روک دیا

نئی دہلی: بھارت کے اپوزیشن رہنما اور کانگریس پارٹی کے اہم رہنما راہول گاندھی کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس نے مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا۔ احتجاج میں اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق راہول گاندھی نئی دہلی میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی میں شریک تھے۔ مظاہرین پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کر رہے تھے تاہم پولیس کی بھاری نفری نے انہیں راستے میں روک دیا۔

راہول گاندھی پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹ پر کھڑے ہوگئے اور ہاتھ میں بھارتی پرچم لہراتے رہے۔ پولیس نے انہیں دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا، تاہم بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور اس سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے احتجاج کے آغاز پر کہا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے ہاتھ میں ایک ’کٹھ پتلی‘ بن چکا ہے اور اپوزیشن جمہوریت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان الزامات پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

احتجاج کے موقع پر نئی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جبکہ بعض راستے بھی بند کیے گئے۔

یہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ حکومت کے دوران اپوزیشن کی جانب سے ایک نئے بڑے سیاسی چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ چند روز سے طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور دیگر گروہوں کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن کے خلاف مسلسل مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

ادھر بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی انتخابی ادارے کے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر کے طرزِ عمل سے متعلق الزامات پر قانونی دلائل سننے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ عدالت میں درخواست گزاروں نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کیے، جس پر عدالت نے کہا کہ اگر کوئی فیصلہ قانون کے خلاف ہوا تو عدالت اس معاملے سے نمٹے گی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے