• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 10:39 صبح
  • پاکستان

مختلف مکاتب فکر کے افراد نے پائیدار ترقی اور بہتر انتظامی امور کے لیے نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا

ملک کے مختلف شہروں میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

کسانوں، تاجروں سمیت ملک کے مختلف مکاتب فکر کے افراد نے پائیدار ترقی اور بہتر انتظامی امور کے لیے نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا۔

رحیم یار خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان کے کسان کو انصاف، تعلیم اور اپنے مسائل کے حل کے لیے لاہور کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ نظام مفلوج ہوچکا ہے اور مسائل کے حل کے لیے پنجاب میں کم از کم 6 سے 10 صوبے بننے چاہییں۔ صوبائی بجٹ میں جنوبی پنجاب کا حصہ 35 فیصد بنتا ہے، مگر اسے صرف 12 فیصد حصہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بہتر گورننس، عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے حسن ابدال کے شہریوں نے بھی نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا، جہاں مقررین نے کہا کہ پاکستان کی بقا اور ملک بھر میں یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے نئے صوبوں کا قیام بہت ضروری ہوچکا ہے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ عوام کو بااختیار بنانے کے لیے نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ بااختیار بلدیاتی نظام بھی قائم کیا جائے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے