• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 10:49 صبح
  • پاکستان

اہم معاملے پر صوبائی حکومت کی اجازت بغیر حلف نامہ جمع کرانا پیشہ ورانہ غیر ذمہ داری میں آتا ہے، صوبائی وزیر قانون

پی ٹی آئی احتجاج کیس میں عدالت میں حلف نامہ جمع کرانے پر کے پی حکومت آئی جی پولیس سے ناراض ہو گئی۔

خیبرپختونخوا حکومت نے ایڈوکیٹ جنرل آفس سے منظوری اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے علم میں لائے بغیر اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئی جی پولیس کی جانب سے حلف نامہ جمع کرانے پرشدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اسے پیشہ ورانہ غیرزمہ داری قرار دیا ہے۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ رویے پر کارروائی کے لیے وفاق سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دھرنا کیس میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی جانب سے حلف نامہ جمع کرایا گیا، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ حلف نامہ کے حوالے سے صوبائی حکومت سے منظوری نہیں لی گئی۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے رابطے پر بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ مارچ کے حوالے سے جو پٹیشن دائر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ یہ کیس سن ہی نہیں سکتی کیونکہ خیبرپختونخوا اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور نہ ہی صوبائی حکومت کے کسی آفیسر کو بلایا جاسکتا ہے ۔

چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی جانب سے حلف نامہ مانگا گیا تھا، آئی جی پولیس کی جانب سے جو حلف نامہ جمع کرایا گیا ہے اس کی اجازت نہیں لی گئی۔ ایڈوکیٹ جنرل ہمارے چیف لا آفیسر ہیں، ان کی منظوری نہیں کی گئی ۔ کوئی بھی محکمہ کسی بھی عدالت میں کوئی حلف نامہ جمع کراتا ہے تو بذریعہ اے جی آفس جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا ہے کہ آئی جی پولیس کی جانب سے جو حلف نامہ جمع کرایا گیا ہے اس کی منظوری نہیں لی گئی، اب چونکہ حلف نامہ کی منظوری نہیں لی گئی تو معلوم نہیں حلف نامہ میں کیا لکھا گیا ہے۔ بدقستی سے یہ روایت بنا لی گئی ہے کہ یہ وفاق کا ملازم ہے اور یہ صوبے کا ملازم ۔

انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک آفیسر جو صوبے میں کام کررہا ہے تو وہ صوبے کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ چیف ایگزیکٹو اور صوبائی کابینہ جواب طلب کرسکے، اتنے اہم معاملے پر صوبائی حکومت کی اجازت بغیر حلف نامہ جمع کرانا پیشہ ورانہ غیر ذمہ داری میں آتا ہے۔ اس سنجیدہ معاملے پر وزیراعلیٰ کو بھی بتایا جاسکتا ہے کہ اس غیر ذمہ داری پر وفاق سے رابطہ کریں اور پیشہ ورانہ غیر ذمہ داری پر کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے