پولیس کا کام صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ شہری کو تحفظ کا احساس دینا بھی ہے
پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے معیشت، سیاست، امن و امان اور گورننس سب اپنی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان تمام شعبوں کے درمیان ایک بنیادی عنصر مشترک ہے اور وہ ہے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد۔ جس ملک میں شہریوں کو اپنے اداروں پر اعتماد ہو، وہاں مشکلات کے باوجود قوم آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس کے برعکس جہاں عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں، وہاں معمولی مسائل بھی بڑے بحرانوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ آج پاکستان کے لیے سب سے مثبت اور تعمیری راستہ یہی ہے کہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط کیا جائے۔
یہ کام کسی ایک ادارے یا ایک حکومت کی ذمے داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں نے ملک کے قیام سے لے کر آج تک مختلف مشکل حالات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کو جنگوں، قدرتی آفات، دہشت گردی، معاشی بحرانوں اور دیگر چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن ریاستی نظام نے ہر دور میں اپنی ذمے داریاں ادا کرنے کی کوشش کی۔
اسی طرح پاکستانی عوام نے بھی ہر مشکل وقت میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر قربانیاں دی ہیں۔ اعتماد کسی ایک اعلان سے پیدا نہیں ہوتا، اعتماد مسلسل کارکردگی، شفافیت، انصاف، قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت سے پیدا ہوتا ہے۔
ایک عام شہری جب سرکاری دفتر جاتا ہے تو وہ ریاست کے ساتھ اپنے تعلق کا تجربہ حاصل کر رہا ہوتا ہے، اگر اس کا کام میرٹ پر، عزت کے ساتھ اور بروقت ہو جائے تو ریاست کے لیے اعتماد بڑھتا ہے، اگر اسے غیر ضروری تاخیر، سفارش، پیچیدگی یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑے تو اس کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
اسی لیے ریاستی اداروں کی اصل طاقت صرف ان کے اختیارات میں نہیں بلکہ عوامی خدمت میں ہے۔ ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ عام شہری کو اپنا جائز کام حاصل کرنے کے لیے مشکلات کم سے کم پیش آئیں۔ ٹیکنالوجی نے اس سلسلے میں بے شمار مواقع پیدا کر دیے ہیں۔
آن لائن سرکاری خدمات، ڈیجیٹل ریکارڈ، شفاف درخواستوں کا نظام، آن لائن شکایات اور جدید نگرانی کے طریقہ کار سے عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔ پولیس، انتظامیہ، عدالتیں، بلدیاتی ادارے، صحت اور تعلیم کے محکمے عوام کے ساتھ ریاست کا براہِ راست چہرہ ہیں۔ ان اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی تو عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
پولیس کا کام صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ شہری کو تحفظ کا احساس دینا بھی ہے۔ اسی طرح عدالت کا بنیادی مقصد شہری کو انصاف کی امید دینا ہے۔ انصاف میں تاخیر کسی بھی معاشرے کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے، اس لیے عدالتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی اور موثر طریقہ کار کے ذریعے مزید مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور صحت کے ادارے بھی عوامی اعتماد کی بنیاد ہیں۔
جب والدین اپنے بچے کو سرکاری اسکول بھیجیں تو انھیں معیاری تعلیم کا یقین ہونا چاہیے، اور جب مریض سرکاری اسپتال جائے تو اسے مناسب طبی سہولت اور عزت ملنی چاہیے۔ یہی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں مل کر بڑے اعتماد میں تبدیل ہوتی ہیں۔
ریاستی اداروں کے حوالے سے ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ اداروں کا احترام اور اداروں کی اصلاح ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ کسی ادارے پر مثبت اور تعمیری تنقید اسے بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسی طرح عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاستی ادارے ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں، لہٰذا ہمیں اداروں اور عوام کے درمیان مقابلے کے بجائے شراکت داری کا تصور مضبوط کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں حکومت اور ریاستی اداروں کی ابلاغی حکمت ِ عملی بھی بہت اہم ہے۔
آج سوشل میڈیا کے دور میں معلومات چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں، اگر ریاستی ادارے خاموش رہیں تو غلط معلومات، افواہیں اور غیر مصدقہ دعوے عوامی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کا حل عوامی گفتگو کو محدود کرنا نہیں بلکہ درست، بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات عوام تک پہنچانا ہے۔
شفافیت اعتماد کو جنم دیتی ہے، اگر کسی بڑے فیصلے کی وجہ واضح کی جائے، کسی منصوبے کی پیش رفت عوام کے سامنے رکھی جائے اور کسی مسئلے پر ریاستی موقف دلیل اور شواہد کے ساتھ پیش کیا جائے تو عوام کو صورتحال سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔پاکستان کے لیے ایک اور اہم ضرورت قانون کی یکساں عمل داری ہے۔
شہری کا تعلق کسی بھی طبقے، شہر یا پیشے سے ہو، اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ قانون اس کے لیے بھی وہی ہے جو دوسرے شہری کے لیے ہے۔ جب قانون سب کے لیے برابر نظر آتا ہے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ اسی طرح احتساب کا نظام بھی شفاف، غیر جانب دار اور موثر ہونا چاہیے۔
احتساب کا مقصد انتقام نہیں بلکہ اداروں کو بہتر بنانا اور قومی وسائل کی حفاظت ہونا چاہیے۔ اعتماد کی بحالی میں سیاسی قیادت کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن ریاستی اداروں اور قومی مفادات کے حوالے سے گفتگو میں ذمے داری اور سنجیدگی ضروری ہے۔
پاکستان کو ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، تنقید ہو مگر تضحیک نہ ہو، سوال ہو مگر انتشار نہ ہو۔اسی طرح ریاستی اداروں کو بھی عوامی جذبات، شہری آزادیوں اور آئینی دائرہ کار کی اہمیت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
مضبوط ادارے وہ ہوتے ہیں جو اپنے اختیارات کے ساتھ اپنی ذمے داریوں کو بھی پوری سنجیدگی سے سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ عوام کی ذمے داریاں بھی کم نہیں۔ اعتماد یک طرفہ عمل نہیں۔
شہریوں کو قانون کی پابندی، ٹیکس کی ادائیگی، قومی املاک کی حفاظت، صفائی، ٹریفک قوانین اور معاشرتی ذمے داریوں میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ایک مضبوط پاکستان صرف حکومت سے نہیں بن سکتا۔ پاکستان کے نوجوان اس اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوجوان نسل کو ریاستی نظام سے جوڑنے کے لیے انٹرن شپ، پبلک پالیسی پروگرام، رضاکارانہ سرگرمیوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور شہری شمولیت کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔ جب نوجوان ریاستی نظام کو قریب سے سمجھیں گے تو ان کے اندر ذمے دارانہ شہری شعور بھی بڑھے گا۔
میڈیا بھی اس سلسلے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیا کو مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کے حل، اداروں کی اچھی کارکردگی اور مثبت تبدیلیوں کو بھی سامنے لانا چاہیے۔ تنقید ضروری ہے، لیکن ایسی تنقید زیادہ مفید ہوتی ہے جو اصلاح کا راستہ بھی دکھائے۔
پاکستان میں ہمیں شکایت کے کلچر سے حل کے کلچر کی طرف بڑھنا ہوگا، اگر کسی ادارے میں مسئلہ ہے تو اسے بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے، اگر کسی محکمے کی کارکردگی کمزور ہے تو اصلاحات کی جائیں اور اگر عوام کو مشکلات ہیں تو ان کی شکایات سننے اور حل کرنے کا موثر نظام بنایا جائے۔
