• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 1:25 شام
  • پاکستان

میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟

دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا

کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟

بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت میں مذاکرات کی ناکامی میں کلیدی کردار محمود خان اچکزئی کا تھا، جو پوری مذاکراتی کمیٹی پر حاوی تھے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران محمود اچکزئی ہر چیز کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور رہائی سے جوڑتے رہے، ایک موقع پر حکومت بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر تیار ہو گئی تھی، لیکن پھر لانگ مارچ ملتوی نہ کرنا، انسداد دہشت گردی پر معاہدہ نہ ہونا ڈیڈ لاک کی وجہ بنا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن اراکین پر بیرونی دباؤ کی وجہ سے مذاکرات میں کئی بار ڈیڈ لاک آیا، دوسری طرف حکومتی کمیٹی مکمل با اختیار تھی اور مسلسل لچک دکھاتی رہی، لیکن محمود خان اچکزئی اور سہیل آفریدی کے نامناسب مطالبات پر دباؤ میں آ گئے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات ناکامی کی بڑی وجہ اپوزیشن قیادت اور کے پی حکومت کے اختلافات بھی تھے، اپوزیشن اراکین تو وفاق اور ریاستی پالیسیوں کے مطابق چلنے پر تیار تھے لیکن کے پی حکومت نے دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں وفاق کی مدد سے بھی انکار کر دیا۔

لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، رانا ثنا

یہ بات کمیٹی کے لیے حیران کن تھی کہ کے پی حکومت وفاق کے ساتھ چلنے کو کیوں تیار نہیں ہے، کے پی حکومت نے معاہدے پر اتفاق رائے سے قبل ہی لانگ مارچ کا بار بار بیان دیا، جب کہ حکومت اور ادارے باقی امور پر لچک دکھانے کو تیار تھے۔

ذرائع نے اپنے دعوے میں مذاکرات کی ناکامی کا سارا بوجھ خیبرپختونخوا حکومت پر ڈالا ہے، اور دعویٰ کیا کہ اس کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے