• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 11:05 صبح
  • پاکستان

اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد

جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی

یہ شخص ’عورت‘ کیوں بن گیا؟ شاطرانہ چال!

عمان : سمندر کے اوپر سے گزرنے والا کیبل کار منصوبہ تیار

واشنگٹن: امریکا نے فلسطین کے صدر محمود عباس کی ویزا درخواست مسلسل دوسرے سال مسترد کر دی۔

اے ایف پی کے مطابق امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے داخلے کا ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔

صدر محمود عباس کو اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے امریکا آنا تھا، ان کے ساتھ جانے والے دیگر حکام کی ویزا درخواستیں بھی مسترد کر دی گئی ہیں، امریکی فیصلے کے باعث محمود عباس جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکیں گے، اور وہ مسلسل دوسری بار ویڈیو لنک کے ذریعے یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بیان میں کہا کہ وہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے ارکان اور فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں کو ویزے جاری نہیں کرے گا۔ محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ’’ان کی اصلاحات میں ناکامی، امریکا سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے والی ان کی مسلسل سرگرمیوں کے نتیجے میں‘‘ کیا جا رہا ہے۔

خریدی گئی سلامتی امن کی ضمانت نہیں دے سکتی، ترجمان ایرانی فوج

ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال بھی یہی اقدام کیا تھا، جس کے باعث اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں باقاعدگی سے شرکت کرنے والے فلسطینی رہنما کو عالمی رہنماؤں کے اس اجلاس سے ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنا پڑا تھا۔

واشنگٹن نے ان تنظیموں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اسرائیل-فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں، جن میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے ذریعے اقدامات بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ فرانس نے گزشتہ سال اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا، فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں دو ریاستی حل کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس کے بعد اقوام متحدہ کے مجموعی طور پر 142 رکن ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کی تھی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں گزشتہ چند ماہ کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل نے 1967 سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے