• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 8:58 صبح
  • پاکستان

اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد

جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی

یہ شخص ’عورت‘ کیوں بن گیا؟ شاطرانہ چال!

عمان : سمندر کے اوپر سے گزرنے والا کیبل کار منصوبہ تیار

تہران: ایران فوج کے ترجمان جنرل اکرمی نیا نے تہران میں پاکستان ہاؤس میں سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خریدی گئی سلامتی اور امن و امان کبھی بھی پائیدار امن کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ امریکی عسکری طاقت اب اپنی بالادستی برقرار نہیں رکھ سکتی، یہ موقع علاقائی طاقتوں بالخصوص ایران اور پاکستان کے لیے اہم ہے۔

بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا نو آبادیاتی ذہنیت کے اثر و رسوخ سے آزاد رہ کر خطے میں پائیدار استحکام کو یقینی بنائیں، حالیہ تنازع نے ثابت کر دیا کہ امریکا کی ترجیح علاقائی اقوام کی سلامتی کو یقینی بنانے میں نہیں بلکہ اپنے اور صہیونی حکومت کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق انھوں نے کہا ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکا ایک جائز عالمی طاقت کے طور پر خود کو پیش نہیں کر سکتا۔ امریکا کو اپنی فوجی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنی نرم طاقت اور اخلاقی حیثیت کے حوالے سے بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اس کی حیثیت میں کمی آئی ہے۔

ایران جنگ خود امریکی عوام کو مہنگی پڑگئی

انھوں نے کہا کہ دو قطبی عالمی نظام کے خاتمے کے تین عشروں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد دنیا کثیرالجہتی اور کثیر قطبی عالمی نظام کی جانب تیز رفتار پیش رفت کا مشاہدہ کر رہی ہے۔

جنرل اکرمی نے کہا دوسرے لفظوں میں، دنیا مغربی اور امریکی بالادستی کے دور سے نکل کر ایک ایسے مابعدِ امریکی اور مابعدِ مغربی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں ممالک کو اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے حصول کے لیے زیادہ آزادیِ عمل اور خودمختاری حاصل ہوگی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے