سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں بلوچستان کے شہر چمن میں ایک گودام کے باہر نجی طیاروں کی قطار کھڑی ہے، جنہیں مبینہ طور پر اسمگل کرکے پاکستان لایا گیا تھا۔
یہ دعویٰ جھوٹا ہے، یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔
دعویٰ
6 ستمبر کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے صارف نے 12 سیکنڈ کا ایک کلپ شیئر کیا جس میں مبینہ طور پر چمن کے ایک گودام میں نجی طیارے کھڑے دکھائے گئے ہیں۔
صارف نے لکھا: ”پاکستان میں چمن کے قریب کہیں ایک گودام میں اسمگل شدہ نجی طیارے۔“
اس ویڈیو میں کئی چھوٹے طیارے ایک عمارت کے باہر دکھائی دے رہے ہیں جو بظاہر کوئی گودام یا اسٹوریج کی جگہ معلوم ہوتی ہے۔
اس آرٹیکل کے شائع ہونے تک پوسٹ کو1 لاکھ 22 ہزار 300 مرتبہ دیکھا،649 دفعہ لائک اور96 مرتبہ ری پوسٹ کیا گیا۔
حقیقت
ایک آزاد میڈیا فرانزکس ماہر کے مطابق یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے جبکہ مقامی پولیس کو اس دعوے کی تائید میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔
رائل میلبورن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (RMIT) میں میڈیا فرانزکس کی ماہر ڈاکٹر جے روزنبام (Dr J. Rosenbaum) نے آزادانہ طور پر اس ویڈیو کا جائزہ لیا۔
روزنبام نے ای میل کے ذریعے جیو فیکٹ چیک کو بتایا، ”میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے۔“
ڈاکٹر نے بتایا: ”طیارے خود AI کی نشان دہی کرتے ہیں کیونکہ ان کے پر ایک دوسرے میں گھلتے ملتے نظر آتے ہیں اور پس منظر بھی بعض اوقات غیر واضح اور بے ربط دکھائی دیتا ہے۔“
روزنبام نے ویڈیو کی دیگر خامیوں کی طرف بھی اشارہ کیا، جن میں بگڑی ہوئی اشیاء اور پس منظر میں لکھا غیر واضح اور غیر مربوط متن (ٹیکسٹ) شامل ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے الگ سے اس کلپ کا AI مواد کی نشاندہی کرنے والے پلیٹ فارم ہائیو ماڈریشن (Hive Moderation) کی مدد سے بھی تجزیہ کیا۔ پلیٹ فارم نے اس ویڈیو کو 83.5 فیصد کا مجموعی اسکور دیا، جو اس کے AI سے تیار کیے جانے کے قوی امکان کی نشاندہی کرتا ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے چمن ضلع کی پولیس سے بھی رابطہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا حکام نے حال ہی میں شہر یا اس کے اطراف میں کوئی نجی طیارے تحویل میں لیے یا برآمد کیے ہیں۔
چمن ضلع پولیس کے پبلک ریلیشنز آفیسر (PRO) صالح محمد نے کہا کہ علاقے کے کسی گودام سے ایسا کوئی طیارہ برآمد نہیں ہوا اور نہ ہی ملا ہے۔
جبکہ چمن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) نے بھی جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے تحقیقات کیں، لیکن شہر میں کسی بھی جگہ سے اس کا تعلق ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ملا۔
فیصلہ: یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ہے اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس میں چمن میں نجی طیارے دکھائے گئے ہیں۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔
