پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک شخص کو فوجی گاڑی سے کچلے جاتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے، صارفین کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو میں بلوچستان میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں ایک بلوچ چرواہے کو قتل کیے جانے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ دعویٰ جھوٹا ہے، یہ ویڈیو پاکستان نہیں بلکہ نائجر میں ریکارڈ کی گئی تھی۔
دعویٰ
30 اگست کو سوشل میڈیا صارف نے ایکس، جسے پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر 30 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ایک شخص کو بھاگتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے، جس کے بعد اسے ایک فوجی گاڑی سے کچل دیا جاتا ہے۔
ویڈیو اس کیپشن کے ساتھ شیئر کی گئی: ”سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے جس میں ایک بلوچ چرواہے کو صحرا میں بکریاں چراتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے، تاہم اسے پاکستانی فوجی گھیر لیتے ہیں، پہلے اس پر فائرنگ کرتے ہیں اور پھر ایک ٹینک سے کچل دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔“
اس نیوز آرٹیکل کے شائع ہونے کے وقت تک پوسٹ کو 69 ہزار 900 مرتبہ دیکھا، 512 دفعہ لائک اور 327 بار ری پوسٹ کیا گیا ۔
ایکس پر اس سے ملتی جلتی پوسٹس بھی شیئر کی گئی ہیں۔
حقیقت
یہ ویڈیو نائجر میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جون 2020 میں نیویارک میں قائم بین الاقوامی غیر منافع بخش تنظیم ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے اپنی ویب سائٹ پر اس ویڈیو کا ایک اسکرین شاٹ شائع کیا،HRW کے مطابق، یہ فوٹیج ممکنہ طور پر 11 مئی 2020 کو جنوب مشرقی نائجر کے علاقے دِفا (Diffa) میں بوکو حرام (Boko Haram) کے خلاف نائجیرین فوجی کارروائیوں کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی، تنظیم نے کہا کہ وہ واقعے کے درست مقام کا تعین نہیں کر سکی۔
رپورٹ یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
یہ ویڈیو 2020 میں افریقہ پر مرکوز نشریاتی ادارے صحارا ٹی وی(Sahara TV) نے بھی شیئر کی تھی، جس کا عنوان تھا: ”نائجیرین فوج نے بوکو حرام کے دہشت گرد کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، بکتر بند گاڑی سے کچل دیا۔“
انتباہ: اس ویڈیو میں ایسے مناظر شامل ہیں جو بعض ناظرین کے لیے پریشان کن ہو سکتے ہیں۔
ویڈیو یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
فیصلہ: وائرل ویڈیو میں بلوچستان میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں بلوچ چرواہے کو قتل کیے جانے کے مناظر نہیں ہیں، ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، یہ فوٹیج مئی 2020 میں نائجر میں بوکو حرام کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔
اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔
