• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 4:48 صبح
  • پاکستان

غزہ میں 2025 سے امریکا ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہے جس کی اسرائیل مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے کے دوران حماس کے مالیاتی شعبے کے سربراہ محمد ابو علوان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے دفتر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج اور داخلی انٹیلی جنس ادارے نے ’’درست کارروائی‘‘ کے ذریعے محمد ابو علوان کو نشانہ بنایا۔

بیان میں کارروائی کو اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا تاہم حماس کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

اس سے قبل ناصر میڈیکل کمپلیکس کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ خان یونس کے مغرب میں المواسی کے علاقے میں ایک گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد شہید ہوگئے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہی حملہ نیتن یاہو اور کاٹز کے بیان میں بیان کی گئی کارروائی تھی یا نہیں۔ غزہ کے دیگر علاقوں میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

غزہ سٹی کے شمال مشرق میں بے گھر افراد کے کیمپ پر ڈرون حملے میں ایک شخص شہید ہوا جبکہ البریج پناہ گزین کیمپ میں ایک خاتون کے جاں بحق ہونے کی اطلاع بھی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع کے بیان میں ان واقعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر 2025 سے امریکی ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہے جس میں طے شدہ فریم ورک کے تحت فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے