• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 2:59 صبح
  • پاکستان

حکومت نے لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کے لیے پورے دارالحکومت کو نوکیلے کنٹینروں سے بلاک کر دیا ہے

آپ دنیا کے مضبوط اور مہذب جمہوری معاشروں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ جن ملکوں میں جمہوری نظام پائیدار بنیادوں پر کھڑا ہو، تمام ریاستی ادارے آئین و قانون کے دائرے میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہوں، حکومتی پالیسیوں میں تسلسل قائم ہو، امن و امان قائم ہو، اندرونی و بیرونی سرمایہ کاروں کو تحفظ حاصل ہو اور وہ بے خوف و خطر اپنا سرمایہ ملک کی معاشی سرگرمیوں میں لگا رہے ہوں اور لوگوں کو بھی روزگار کے مواقع مل رہے ہوں ان کا معیار زندگی بہتر ہو رہا ہو تو وہاں معیشت بھی مستحکم رہتی ہے، جمہوریت بھی قائم رہتی ہے، امن و امان بھی بحال رہتا ہے اور سیاسی استحکام بھی برقرار رہتا ہے اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کا تصور بھی اجاگر ہوتا ہے۔ جب عوام مطمئن ہوں اور حکومتی کارکردگی تسلی بخش ہو تو پھر کہیں کوئی انارکی پیدا نہیں ہوتی۔ کوئی احتجاج کی آواز بلند نہیں ہوتی، نہ کوئی لانگ مارچ ہوتا ہے اور نہ کوئی دھرنا ہوتا ہے۔ حکومت اپنا کام کر رہی ہوتی ہے اور اپوزیشن پارلیمانی نظام کے دائرے میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہوتی ہے۔

اس پس منظر میں آج اگر وطن عزیز کے حالات کا جائزہ لیں تو انتہائی تکلیف دہ اور افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ معیشت سے لے کر سیاست تک اور امن و امان سے لے کر عوامی مسائل تک ایک بے یقینی، انتشار، عدم استحکام اور افراتفری کا عالم نظر آتا ہے۔ حکومت تواتر کے ساتھ معاشی استحکام اور اقتصادی ترقی کے دعوے کر رہی ہے جیساکہ معاشی تجزیہ نگار اور غیر جانبدار مبصرین کا موقف ہے کہ زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں۔ اندرونی و بیرونی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، معیشت آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے، برآمدات کا ہدف پورا نہیں ہو پا رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری توقع سے انتہائی کم سطح پر ہے۔

کمپنیاں اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ کار بیرون وطن سرمایہ منتقل کر رہے ہیں، معاشی ترقی کے حکومتی دعوے مبنی بر حقیقت نہیں، امن و امان کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ کے پی کے اور بلوچستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر افغان طالبان کی سرپرستی اور تعاون سے وقفے وقفے سے بزدلانہ کارروائیاں کرکے جو خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں اس سے امن کی راہیں مسدود ہو رہی ہیں۔ مقام اطمینان کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج، پولیس اور سیکیورٹی فورسز برق رفتار کارروائیاں کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ دہشت گرد جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے اور ملک میں امن قائم ہوگا جیساکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوجی دستوں کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے افواج پرعزم ہیں۔

ملک میں سیاسی کشیدگی بھی عروج پر ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کا گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ لانگ مارچ اور دھرنوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ جماعت اسلامی، کسان برادری اور سب سے بڑھ کر پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ جماعت اسلامی نے وزیر اعظم کی اپیل پر اپنا لانگ مارچ موخر کر دیا ہے تاہم ان کے ملک گیر دھرنے جاری ہیں، جب کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ لے کر ستائیس ستمبر کو اسلام آباد کی طرف آنے کا اعلان کر چکی تھی ، جوکہ اب اس نے موخر کردیا ہے۔ حکومت نے لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کے لیے پورے دارالحکومت کو نوکیلے کنٹینروں سے بلاک کر دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے پی کے ہر صورت لانگ مارچ کرنے پر مصر ہیں اوراب انھوں نے پانچ اکتوبر کو لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد آنے کا اعلان کردیا ہے، حکومت انھیں روکنے کے لیے ہر کوشش کر رہی ہے،اپوزیشن کے احتجاج کے باعث ملک سیاسی عدم استحکام کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ ملک کے صائب الرائے حلقے حکومت اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کے ذریعے سیاسی معاملات طے کرنے کا مخلصانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ ملکی حالات محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔

حکومت کے پاس طاقت بھی ہے، اختیارات بھی اور وسائل بھی۔ اب یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمے داری ہے کہ وہ محاذ آرائی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی صورت نکالیں اور عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے پٹرولیم لیوی کو ختم اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ ملک کے کسانوں اور غریب طبقے کی آواز سنی جائے اور ان کے مسائل حل کرنے کی تدبیر کی جائے وگرنہ عوام کے مسائل بڑھتے جائیں گے اور حکومت پر بھی تنقید میں اضافہ ہوگا ۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے