حکومت کوعبدالرزاق ساجد صاحب ایسے بیرونِ ملک بیٹھے پاکستانیوں کی پیش کردہ خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے
موجودہ حکومت کس قدر خوش بخت ثابت ہُوئی ہے!تین اپوزیشن پارٹیاں ، آگے پیچھے ، وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے آ رہی تھیں۔ تینوں ہی نے مگر پُر اسرا ر حالات میں آگے پیچھے موخریت کا اعلان کر دیا ہے۔ امیرِجماعتِ اسلامی نے اکتوبر 2026 کے پہلے ہفتے تک اپنے ’’سُپر مارچ‘‘ کو موخر کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰKPK نے 25ستمبر کو غیر متوقع طور پر اسلام آباد پر اپنی اعلان کردہ یلغار کو 4اکتوبر تک ملتوی کر دیا ہے ۔کسان اتحاد کے مرکزی لیڈر نے بھی ، کوئٹہ میں ، کچھ ایسا ہی اعلان کیا ہے۔
اب یہ تینوں پارٹیاں کب اپنے کارکنان کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا حکم دیں گی؟ کارکنان کی جانب سے ’’کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر‘‘ کا جواب نہ مل جائے ۔ایسے میںآزاد کشمیر میں مبینہ طور پر آزادانہ انتخابات ہُوئے ہیں ۔ آزاد کشمیر کے نئے منتخب وزیر اعظم(افتخار گیلانی صاحب) حلف اُٹھا کر نئی حکومت بنا چکے ہیں ۔ آزاد کشمیرکے انتخابات کا سب سے چونکا دینے والا منظر یہ تھا کہ آزاد کشمیر کے دو سابق وزرائے اعظم اپنے ہی حلقوں میں ہار گئے ۔
دوسرا حیرت خیز پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ نون لیگی قائد کی جانب سے جن دو معروف و کہنہ مشق کشمیری سیاستدانوں کو آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ وعدہ ایفا نہیں ہو سکا؛ چنانچہ ہم آزاد کشمیر کی سیاست میں ناراضی اور کبیدہ خاطری کے مناظر بھی دیکھ رہے ہیں۔ بعینہِ آزاد کشمیر میں ، مبینہ طور پر ، جنہیں کشمیری صدارت کا ’’لارا‘‘ دیا گیا تھا، وہ بھی پورا نہیں کیا گیا ۔
حیرتوں میں حیرتیں مل رہی ہیں ۔ ابھی تو آزاد کشمیر کی پُر اسرار ’’ کالعدم کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘‘کے پھیلائے گئے شبہات و خطرات کم نہیں ہو پائے تھے کہ نئے موہوم خدشات سر اُٹھا رہے ہیں ۔ اُمید مگر یہی کی جارہی ہے کہ متعلقہ حلقے سب موہوم خدشات و خطرات کچل ڈالیں گے کہ آزاد کشمیر کا حسین خطّہ پاکستان کے لیے بے پناہ حساس حیثیت کا حامل ہے۔سچ مگر یہ بھی ہے کہ اندرونِ پاکستان و بیرونِ پاکستان ہر محبِ وطن پاکستانی و کشمیری مذکورہ ’’کالعدم جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ کی پھیلائی گئی دھند سے خائف اور نالاں ہے ۔
سب چاہتے ہیں کہ یہ دُھند جَلد از جَلد چھَٹ جائے اور آزاد کشمیر بھر میں محبت کے زمزمے پھر سے بہہ نکلیں۔ بیرونِ ملک ہمارے ایک عزیز اور پیارے دوست ، جناب عبدالرزاق ساجد، بھی برابر ’’کشمیر ایکشن کمیٹی‘‘ بارے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہُوئے مسلسل اِن توقعات کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ خدا کرے ’’ایکشن کمیٹی‘‘ کی پھیلائی گئی دھند جَلد صاف بھی ہو اور کشمیر ایکشن کمیٹی والے پاکستان اور کشمیر کے بہتر مفادات میں اپنے رویوں میں لچک بھی پیدا کریں۔ کیا یہ ہم سب کے لیے باعثِ تاسف نہیں ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی اور حکومتِ آزاد کشمیر کے درمیان کچھ خونریز تصادم بھی ہو چکے ہیں ؟
ہمارے یہ دوست ( عبدالرزاق ساجدصاحب) برطانیہ کے دارالحکومت میں رہتے ہیں۔ہیں وہ پاکستانی اور پنجابی ، مگر اُن کا دل ہنوز پاکستان کے ساتھ دھڑکتا رہتا ہے ۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ اب کئی برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور ایک عالمی شہرت یافتہ رفاحی و فلاحی تنظیم AMWT کے سربراہ ہیں۔ اِس تنظیم AMWTکی شاخیں پاکستان و بنگلہ دیش سمیت عرب ممالک ، یورپ ، کینیڈا، افریقہ اور امریکہ تک پھیل چکی ہیں۔ عبدالرزاق ساجد چونکہ برطانیہ میں رہتے ہیں ، اس لیے کشمیری نژاد برطانویوں سے اُن کا میل جول روزانہ کی بنیاد پر بھی ہے اور گہرا بھی۔ برطانیہ میں ایک اندازے کے مطابق اِس وقت دس لاکھ سے زائد کشمیری رہتے ہیں ۔
ان میں سے کئی برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان بھی ہیں ، وزیر بھی اور دارالامرا کے رکن بھی ؛ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ AMWTکے چیئرمین ، جناب عبدالرزاق ساجد، برطانوی و یورپی کشمیریوں کے جذبات و احساسات سے براہِ راست آگاہ ہیں ۔ ساجد صاحب نے ایک معروف جریدے میں کالعدم جوائنٹ کشمیر ایکشن کمیٹی بارے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہُوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’کشمیر ایکشن کمیٹی اور کشمیری سیاستدانوں کے ہر اُٹھے قدم کی منزل پاکستان ہونی چاہیے ۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے کسی اقدام سے پاکستان کو اور پاکستان کے کسی فیصلے سے کمیٹی کے ارکان اور کشمیریوں کو زَک نہیں پہنچنی چاہیے ۔‘‘
یہ ایک رومانوی احساس ہے ۔ اصل کیا ہے ؟ بیرونِ دریا بیٹھے ہُوؤں کو دریا کی سرکش موجوں کا احساس نہیں ہو سکتا ۔ عبدالرزاق ساجد صاحب چونکہ برطانوی کشمیریوں کے قلب میں رہتے ہیں ، اس لیے اُن کے لکھے خیالات سے فیصلہ کنندہ قوتوں کو رہبری اور روشنی حاصل کرنی چاہیے ۔ اگلے روز فون پر راقم کی اُن سے بات چیت ہُوئی تو اُنھوں نے بیقراری سے کہا: ’’ کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارن حالات کشیدہ ہیں۔ یہ سلجھنے چاہئیں ۔
برطانیہ میں گہرا اثرو رسوخ رکھنے والے برطانوی کشمیریوں سے ، پاکستان و آزادکشمیر کے حق میں، اگر مَیں ذاتی حیثیت میں کوئی درمیان داری اور صلح جوئی کا کردار ادا کر سکوں تو یہ میرے لیے ایک منفرد اعزاز ہو گا۔ مَیں سمجھوں گا مجھ پر پاکستان کی مٹّی کے جو قرض ہیں ، کچھ قرض محبت سے واپس کرنے میں کامیاب ہو سکا ہُوں۔‘‘ آزاد کشمیر کے کشیدہ اور گرم حالات میں ایسی پیشکش صلح جوئی کی ٹھنڈی پھوار ثابت ہو سکتی ہے ۔
حکومت کوعبدالرزاق ساجد صاحب ایسے بیرونِ ملک بیٹھے پاکستانیوں کی پیش کردہ خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے ۔پاکستان و کشمیر میں قیامِ امن ہماری اوّلین ترجیح ہے۔ امریکہ و برطانیہ میں چند ایک مفرور اور مفسد پاکستانی وی لاگرز ( جنھوں نے وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کے خلاف کمر باندھ رکھی ہے)کا ایک توڑ یہ بھی ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز بیرونِ پاکستان بیٹھے مخلص پاکستانیوں سے قریبی روابط رکھیں ۔یہی تو بیرونِ پاکستان ، پاکستان کا اصل اثاثہ ہیں ۔ یہی اووَر سیز پاکستانیز پاکستان کا اثاثہ ہیں جو ہر حال میں ، کسی لوبھ و لالچ سے بالا رہ کر، پاکستان کا پرچم بلند سے بلند تر رکھنے کی کوششوں میں ہیں ۔
بیرونِ پاکستان مقیم کشمیریوں کے لیے خاص طور پر یہ منظر قابلِ رشک و قابلِ تحسین گردانا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم اور نئے صدر صاحب اُن کشمیری علاقوں سے منتخب کیے گئے ہیں جہاں سے کچھ آوازیں ناراضی اور مخالفت میں اُٹھی ہیں ۔ بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی صاحب مظفر آباد سے ہیں جب کہ نئے منتخب صدرِ آزاد کشمیر، ڈاکٹر نجیب نقی خان صاحب’’ پلندری‘‘ سے !!یہ انتخاب دراصل زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے ۔ ناراضوں میں اطمینان کی دولت بانٹنے اور لا یعنی کشیدگی دُور کرنے کی ایک مستحسن سبیل ۔ مفاہمت و مصالحت اور موافقت و ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک شاندار کوشش!!
نئے منتخب صدرِ آزاد کشمیر ، جناب نجیب نقی، کشمیری سیاست و اقتدار کا نجیب،شناسا اور قابلِ قبول چہرہ ہیں۔ اُن کے انتخاب پر بعض لوگ ناراض اور نالاں تو یقیناً ہُوئے ہیں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ نون لیگ کے مرکزی قائد، جناب نواز شریف، نے کئی روز پہلے ہی جناب نجیب نقی کے نام کشمیری صدارت کا قرعہ فال نکال کر ایک اچھا فیصلہ کر دیا تھا ۔16 ستمبر2026کو میڈیا میں نواز شریف سے منسوب یہ فیصلہ سامنے آیا تھا کہ ’’ نون لیگ کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے اگلے صدر نجیب نقی ہوں گے ۔‘‘24 ستمبر2026ء کو نجیب نقی صاحب ( اپنے مخالف لطیف اکبر کے مقابل 32ووٹ لے کر)صدرِ آزاد کشمیر منتخب ہو کر سب کے سامنے آ گئے ۔
نجیب نقی صاحب، ماضی قریب میں، کئی بار کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہُوئے اور کئی بار آزاد کشمیر کے وزیر بھی بنے ۔ اب آزاد کشمیر میں وزیر اعظم بھی نون لیگی ہیں اور صدر صاحب بھی: خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو! یوں اُمید کی جا سکتی ہے کہ دونوں ’’لیگی دیوانے‘‘ باہم مل کر کشمیری عوام اور کشمیری سرزمین کے مسائل و مصائب حل کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کریں گے ۔ اُن سے یہ بھی اُمید باندھی جا سکتی ہے کہ وہ کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی والوں کے گلے شکوے بھی دُور کریں گے ،ساڑھے تین ماہ سے راولا کوٹ میں اُن کا لایعنی دھرنا بھی ختم کروائیں گے، اُن کے رہے سہے (جائز) مطالبات بھی پورے کریں گے اور اُنہیں دل کے قریب بھی لانے کی ہر ممکنہ کوشش کریں گے ۔
