• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 4:16 شام
  • پاکستان

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

لندن : خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہفتے میں 8.76 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات بڑھ گئے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں ہفتے کے روز اختتام پذیر ہونے والے تجارتی ہفتے کے آخری دن خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر پورا ہفتہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان غالب رہا۔

ہفتہ وار بنیادوں پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 8.76 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 8.83 ڈالر فی بیرل کا اضافہ دیکھا گیا۔

جمعہ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 2.81 فیصد کمی کے بعد 104.61 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔

اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 2.37 فیصد کمی ہوئی اور یہ 100.05 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

تاہم، مجموعی طور پر رواں ہفتے کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ (5 ستمبر) کو برینٹ خام تیل کی قیمت 95.85 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 91.22 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی، جس کے بعد رواں ہفتے دونوں خام تیل کی قیمتیں بالترتیب 104 اور 100 ڈالر کی سطح کو عبور کر گئیں۔

خیال رہے یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے باب المندب کے قریب واقع جزیرہ پریم تک رسائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور دیگر بحری راستوں میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے