• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 3:34 صبح
  • پاکستان

کراچی کے بے بس و مظلوم باسیوں کو مزید زخموں سے بچانے کے لیے اب دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے

وطن عزیز کے سب سے بڑے شہر کی سڑکوں پر دندناتے ڈاکووں کی آزادانہ لوٹ مار اور معمولی سی مزاحمت پر سفاکانہ فائرنگ کرنے نے شہریوں کی زندگی کو بدستور داؤپر لگایا ہوا ہے ۔شہری گھروں سے نکلتے ہوئے انجانے خوف کا شکار ہوتے ہیں کہ پتا نہیں کب اور کہاں سے ڈاکو آجائیں اور وہ اپنے قیمتی مال و اسباب سے محروم ہو جائیں۔ کسی کے ہاتھ میں موبائل فون ہے تو وہ ڈاکوؤں کی نظر میں ہے ۔

بینک سے رقم نکلوائی تو اپنے تعاقب کا خطرہ ہے ۔ موٹر سائیکل پر سوار شخص ہو یا گاڑی میں بیٹھا خاندان، ہر کوئی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے ۔ شہر میں اسٹریٹ کرائم محض لوٹ مار تک محدود نہیں رہے بلکہ مزاحمت پر چند لمحوں میں ایک معمولی واردات انسانی جان کے ضیاع کا سبب بن جاتی ہے ، یہی وجہ ہے، کراچی کے شہریوں کے ذہنوں میں ایک سوال مسلسل گردش کر رہا ہے کہ آخر اِس شہر میں جان و مال کا تحفظ کب یقینی بنایا جائے گا؟

رواں ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات نے ایک مرتبہ پھر شہر میں جاری ڈاکو راج کی سنگینی کو آشکار کر دیا ہے ۔ 9 ستمبر کی سہ پہر ڈاکس تھانے کی حدود میں ویسٹ وہارف روڈ پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ اس صورتحال کی انتہائی دردناک تصویر بن کر سامنے آیا جب سفاک ڈاکوؤں نے بیٹے کے سامنے اس کے باپ کو گولیاں مار کر قتل کردیا اور مقتول سے بینک سے نکلوائی گئی دس لاکھ روپے کی نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔ ایک طرف باپ کی آنکھوں کے سامنے موت اور دوسری طرف ڈاکوؤں کی بے رحمی نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ بیٹا اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے والد کو قتل ہوتا دیکھ کر صدمے سے اپنے حواس کھو بیٹھا ۔یہ واقعہ صرف ایک خاندان کے اجڑنے کی داستان نہیں بلکہ شہر میں بڑھتے اسٹریٹ کرائم کے اُس خطرناک رجحان کی عکاسی بھی کرتا ہے جس میں انسانی جان کی قیمت چند ہزار سے بھی کم سمجھی جانے لگی ہے۔ ڈاکوؤں کے لیے شہری کی جیب میں موجود رقم ، موبائل فون یا گاڑی اب صرف مال غنیمت نہیں بلکہ مزاحمت کی صورت میں جان لینے کا جواز بھی بن رہا ہے ۔

رواں ماہ 6 ستمبر سے 9 ستمبر تک صرف چار روز کے دوران سفاک ڈاکوؤں نے چار گھرانے اجاڑ دیئے ۔ چار خاندانوں کے گھروں کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئیں۔ کئی بچوں سے ان کے والدین کا سایہ چھن گیا اور متعدد گھروں میں ہمیشہ کے لیے ایک ایسی خاموشی اتر گئی جسے شاید کبھی ختم نہ کیا جاسکے ۔ رواں ماہ 6 ستمبر کو لیاقت آباد میں ایل پی جی گیس کی دکان میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر پندرہ سالہ طیب اور 7 ستمبر کو پاک کالونی میوا شاہ قبرستان میں مزاحمت پر تیس سالہ عبدالرحمٰن قتل ہو گئے۔8 ستمبر کو منگھوپیر مہران سٹی میں گھر کے اندر ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے سولہسالہ روشم اور 9 ستمبر کو ڈاکس کے علاقے ویسٹ وہارف روڈ پر ڈاکوؤں نے دس لاکھ روپے چھیننے کے دوران مزاحمت پر چالیس سالہ معین اختر کو اس کے بیٹے کے سامنے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ فائرنگ سے نوجوان روشم کے قتل پر اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کی جانب سے منگھوپیر تھانے کے سامنے مقتول ن کی میت رکھ کر منگل 8 ستمبر کی صبح دیئے جانے والا احتجاجی دھرنا 9 ستمبر بدھ کو رات گئے تک جاری رہا ۔ مقتول کے والد اور دھرنے کے شرکا کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے

5 ستمبر کو کورنگی کراسنگ پل کے قریب مقابلے میں پولیس کا جوان اویس تنولی بھی بہادری کے ساتھ ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتا ہوا ان کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا اور بعدازاں جام شہادت نوش کر گیا۔ وہ بھی اپنے والدین کا لخت جگر اور ان کا سہارا تھا لیکن فرض کی ادائیگی انجام دیتے ہوئے اپنے پیاروں کو روتا بلکتا چھوڑ کر ابدی نیند سو گیا ۔ پولیس جوان کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ اسٹریٹ کرائم کا ناسور صرف شہریوں تک محدود نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی اِس جنگ میں اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں

پولیس افسر اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں کمی کے دعوی کر خوش دکھائی دیتے ہیں ، لیکن شہر کراچی کی سڑکوں ، بازاروں ، رہائشی علاقوں اور کاروباری مراکز میں ہونے والے جرائم کے واقعات اِن دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیتے ہیں ۔ اعداد و شمار میں کمی اور شہریوں کے احساس تحفظ میں کمی دو مختلف چیزیں ہیں۔ اگر وارداتیں کسی حد تک کم بھی ہوئی ہوں لیکن شہری گھر سے نکلتے وقت اپنی جان کے بارے میں خوفزدہ ہوں تو صورتحال کو مکمل کامیابی قرار دینا مشکل ہے۔

رواں سال ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 53 ہوگئی ہے۔یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ 53 خاندانوں کے دکھ ، محرومی اور تباہی کی داستان ہے۔ ان میں سے ہر موت کے پیچھے ایک گھر ، ایک خاندان ، بچوں کا مستقبل اور کئی خواب وابستہ تھے ۔ اسی دوران متعدد شہری ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی بھی ہوئے جن میں سے کئی افراد کو جسمانی زخموں کے ساتھ ذہنی صدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا ، ڈاکوؤں کی سفاکانہ فائرنگ کا نشانہ بن کر دنیا سے چلے جانے کا غم صرف وہی جان سکتا ہے جس کا پیار انھیں چھوڑ کر گیا ہو۔ دعوے کرنے والے تو اسی میں خوش ہیں کہ وارداتوں میں کمی آ گئی ہے ۔

اگر صرف رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہوجاتی ہے ۔ سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست تک آٹھ ماہ کے دوران شہر میں مجموعی طور پر 39 ہزار 564 اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ ان وارداتوں میں شہری کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور دیگر قیمتی اشیا سے محروم کر دیئے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق آٹھ ماہ کے دوران شہریوں سے 135 گاڑیاں چھینی گئیں جبکہ 973 گاڑیاں چوری ہوئیں ۔ گاڑیوں کے مالکان کے لیے شہر کی سڑکیں اور پارکنگ ایریاز مکمل طور پر محفوظ نہیں رہے۔ ایک شہری اپنی محنت کی کمائی سے گاڑی خریدتا ہے لیکن چند لمحوں میں ڈاکو اُسے اس کی ملکیت سے محروم کردیتے ہیں

موٹر سائیکلیں چھیننے اور چوری کی وارداتیں بھی شہریوں کے لیے بڑا مسئلہ ہیں ۔ رواں سال کے آٹھ ماہ کے دوران شہریوں کو مجموعی طور پر 25 ہزار 144 موٹر سائیکلوں سے محروم کر دیا گیا۔ 3 ہزار 591 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں جبکہ 21 ہزار 553 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا کراچی جیسے بڑے شہر میں موٹر سائیکل صرف سواری نہیں بلکہ ہزاروں متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہے ۔ایک مزدور ، ملازم ، ڈیلی ویجز پر کام کرنے والا شخص یا چھوٹا کاروباری اپنی موٹر سائیکل کے ذریعے روزی کماتا ہے ۔ جب کسی شہری کی موٹر سائیکل چوری ہوتی یا چھین لی جاتی ہے تو صرف ایک موٹر سائیکل نہیں جاتی بلکہ کئی مرتبہ پورے خاندان کا معاشی نظام بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح موبائل فون چھیننے کی وارداتوں نے بھی شہریوں کو مسلسل خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ رواں سال آٹھ ماہ کے دوران شہر میں چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں شہریوں کو لاکھوں روپے مالیت کے 12 ہزار 846 موبائل فونز سے محروم کر دیا

اسٹریٹ کرائم کے ساتھ ساتھ شہر میں قتل و غارت گری کے واقعات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ رواں سال آٹھ ماہ کے دوران شہر میں مجموعی طور پر 316 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شہر میں انسانی جان کا تحفظ اب ایک بنیادی اور فوری چیلنج بن چکا ۔دوسری جانب شہر میں بھتا خوری کے واقعات میں بھی اضافہ تشویش پیدا کر رہا ہے۔ آٹھ ماہ کے دوران بھتا خوری کے 106 واقعات رپورٹ ہوئے ۔ کراچی کی معیشت میں کاروباری طبقے کا کردار انتہائی اہم ہے ، لیکن جب دکاندار ، تاجر یا کاروباری افراد خود کو جرائم پیشہ عناصر کے دباؤ میں محسوس کریں تو اِس کے منفی اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشی ماحول پر پڑتے ہیں ۔

اصل سوال یہ ہے کہ کراچی کے شہری آخر کب تک خوف کے ماحول میں زندگی گزار سکیں گے؟ویسٹ وہارف روڈ کا واقعہ پھریہ سوال چھوڑ گیا کہ اگر ایک باپ کو بیٹے کے سامنے صرف دس لاکھ روپے کی خاطر قتل کر دیا جائے تو شہر میں انسانی جان کی قیمت آخر کتنی رہ گئی ہے؟ اسٹریٹ کرائم کی ہزاروں وارداتیں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ شہریوں کے خوف اور بے بسی کی تصویریں ہیں۔ جب ایک بیٹا اپنے باپ کو اپنی آنکھوں کے سامنے جان سے جاتا دیکھے تو یہ صرف ایک واردات نہیں ہوتی ، اُس کی پوری زندگی کا ایسا زخم بن جاتی ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ شہر قائد کے باسیوں کو ایسے مزید زخموں سے بچانے کے لیے اب دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات اپنانے کی ضرورت ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے