• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 3:24 صبح
  • پاکستان

حکومتوں کی آنکھیں پر امن ہڑتالوں، احتجاج اور دھرنوں سے جب تک نہیں کھلتیں جب تک وہ پرتشدد نہ ہو جائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ کسی بھی پارٹی کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں تمام وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری سیاسی احتجاج میں استعمال نہ ہو اور سرکاری افسران ایسے حکومتی آرڈر پر عمل نہ کریں اور نہ ہی افسران اپنے ماتحت اہلکاروں کو سیاسی احتجاج میں جانے دیں اور شہریوں کی نقل و حرکت محدود نہ کی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک سیاسی لانگ مارچ کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے فیصلہ دیا ہے۔ امن کی ضرورت صرف اسلام آباد کے شہریوں کو نہیں بلکہ ملک کے تمام شہریوں کو ہے کیونکہ سیاسی احتجاج کے لیے سڑکیں بند کرنا سیاسی جماعتوں نے اور اپنے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے شہریوں نے بھی معمول بنا رکھا ہے جس سے شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی اور انھیں گھنٹوں پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔

سڑکیں بند کرکے سڑکوں پر ٹائر، لکڑیاں اور فالتو سامان جلا کر ٹریفک بند کرنا، اپنے مطالبات و مسائل کے حل کے لیے نعرے بازی کوئی نئی بات نہیں بلکہ عشروں سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ شہری تو اپنے علاقوں میں ایسا احتجاج کرکے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ متعلقہ محکمے اس پر توجہ دے کر انھیں حل کرا دیں۔ کراچی ملک کا واحد بڑا شہر ہے جہاں سب سے زیادہ عوامی احتجاج بجلی، گیس، پانی کی عدم فراہمی اور پولیس کے مظالم اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف ہوتے ہیں۔

بعض محکموں کی طرف سے تجاوزات کے خلاف یا سرکاری زمین خالی کرانے کی کوشش پر مزاحمت اور احتجاج بھی اب بڑے شہروں میں معمول بنا لیا گیا ہے مگر حکومت اور اس کے محکمے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ وفاقی حکومت کی بے حسی نے حال ہی میں اس کا ثبوت بھی دے دیا ہے کہ ایک ماہ سے جاری لیوی بھتہ ٹیکس کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی کے احتجاج و دھرنے کو ختم کرانے کی حکومت کی طرف سے کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی جس پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کو کہنا پڑا کہ وفاقی حکومت نے پٹرول ریلیف کے نام پر عوام کو دھوکا دیا ہے۔

حکومت نے عوام کے لیے کیے جانے والے جماعت اسلامی کے احتجاج و دھرنے کو اہمیت دی نہ ہی لیوی پر کسی کمی کا اعلان کیا جب کہ حکومت کو عوام کا احساس ہوتا تو لیوی ختم نہیں تو کم ہی کر دیتی مگر حکومت نے جماعتی دھرنے ختم کرانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ پٹرولیم مصنوعات پر جبری عائد لیوی کو حکومت نے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور حکومت اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے پر تیار نہیں بلکہ اخراجات مزید بڑھا رہی ہے۔

حکومتوں کی آنکھیں پر امن ہڑتالوں، احتجاج اور دھرنوں سے جب تک نہیں کھلتیں جب تک وہ پرتشدد نہ ہو جائیں۔ پرامن مظاہرین سڑکوں پر ٹائر و فالتو سامان جلا کر اپنی ان سڑکوں کا ہی نقصان کرتے ہیں جو بنتی ہی مشکل سے ہیں مگر ایسا کرنے کے سوا مظاہرین کے پاس کوئی راستہ بھی نہیں اس لیے دھواں پھیلا کر نعرے بازی کے بعد انتظامیہ کے جھوٹے دلاسوں پر منتشر ہو جاتے ہیں جن پر عمل نہ ہونے پر کچھ دنوں بعد دوبارہ سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔

عوامی احتجاج کچھ دیر بعد ختم ہو جاتے ہیں مگر سیاسی جماعتیں حکومتوں کو دباؤ میں لانے اور اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے پہلے جو مظاہرے کیا کرتی تھیں وہ دھرنوں اور لانگ مارچ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب تو تحریک انصاف نے اسلام آباد پر حملے کا جو سلسلہ 2014 میں شروع کیا تھا اس کی تقلید دیگر جماعتیں بھی کر چکی ہیں۔ نواز شریف نے بھی 2008 میں ججز بحالی کے لیے پی پی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا تھا۔

جنرل مشرف دور میں وکیلوں اور سیاسی کارکنوں نے طویل لانگ مارچ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ پرتشدد دھرنے اور لانگ مارچ کی تقلید اب آزاد کشمیر میں ہوئی وہاں بھی سیکیورٹی اہلکاروں پر تشدد اور جانی نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور سیاسی جماعتوں اور ایکشن کمیٹیوں نے سڑکیں بند کرکے عوام کو پریشان کرنا اور ان کی نقل و حرکت محدود کرنا معمول بنا رکھا ہے اور اب تو حکومتیں بھی کنٹینروں کے ذریعے شاہراہیں بند کرنے کو اپنا معمول بنا چکی ہیں جس کے لیے اسلام آباد نشانہ بنا ہوا ہے اور سزا عوام بھگت رہے ہیں۔

2014 میں طاہر القادری کی عوامی تحریک نے اپنے لانگ مارچ میں کرینیں استعمال کرکے کنٹینر ہٹائے تھے جس کی تقلید کے پی کی پی ٹی آئی حکومت کرتی آ رہی ہے اور جب بھی کے پی سے اسلام آباد لانگ مارچ ہوتا ہے تو تمام سرکاری وسائل کرینیں، مشینری ہی نہیں بلکہ سرکاری ملازمین کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی اکثریت بھی سیاسی ہو چکی ہے اور حکومت کے بلائے بغیر بھی اپنی پارٹیوں کی سیاسی سرگرمیوں میں ازخود بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

سرکاری ملازمین کے سیاسی مفادات اپنی اپنی پسندیدہ پارٹی سے وابستہ ہیں کیونکہ یہ ملازمتیں بھی انھیں ان ہی کی پارٹیوں نے دی ہیں تو بھلا وہ ان کا ساتھ کیوں نہیں دیں گے؟ لندن و دیگر ملکوں میں احتجاج کے لیے علاقے مختص ہیں مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ پرامن احتجاج کا حکومت اس وقت تک اثر نہیں لیتی جب تک سرکاری املاک نہ جلیں اور سرکاری تشدد سے جانی نقصان نہ ہو تب ہی حکومتیں جاگتی ہیں۔

جانی نقصان پر سرکاری امداد دیتی ہیں اور سرکاری خزانہ تباہ شدہ عمارتوں و سڑکوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے مگر سرکاری آمدنی میں کمی نہیں لائی جاتی جس کا ثبوت پٹرولیم لیوی ہے۔ سڑکیں بند کرکے عوام کو پریشان کیا جاتا رہے گا کیونکہ عدالتی حکم حکومتیں نہیں مانتیں تو سیاسی پارٹیوں سے عدالتی احکام پر عمل کیوں کر کرایا جا سکتا ہے؟

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے