آج کل ملک میں سیاسی اور علمی و فکری حلقوں سمیت عام آدمی میں حکمرانی کے نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں پر زور دیا جا رہا ہے۔
آج کل ملک میں سیاسی اور علمی و فکری حلقوں سمیت عام آدمی میں حکمرانی کے نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں پر زور دیا جا رہا ہے۔اس منطق کی دلیل دینے والوں کے بقول اگر ہم نے موجودہ حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں نہ کیں تو مستقبل میں ہماری مشکلات اور زیادہ بڑھ جائیں گی۔ فیصلہ ساز اس وقت قومی سطح پر ’’ ریاستی ماڈل کو ری سیٹ ‘‘ کرنے کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔
بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فیصلہ ہوگیا ہے اور اس سے دست برداری ممکن نہیں۔ان کے بقول گورننس کا موجودہ ماڈل اپنی اہمیت اور افادیت کھوچکا ہے اور تبدیلی ناگزیر ہے۔کچھ لوگ اس منصوبہ کا ایک اہم نقطہ نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کی بنیاد پر پیش کررہے ہیں اور اس پر قومی سطح پر سیاسی حلقوں میں تقسیم بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے ایک ٹکراؤ کا منظر بھی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ اس منصوبہ کو بلاوجہ مسلط کیا جا رہا ہے۔یہ سیاسی کشمکش آنے والے دنوں میں کیا رنگ دکھاتی ہے اور اس کے کیا سیاسی نتائج نکلتے ہیں اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔عمومی طور پر حکمرانی کی کارکردگی، اہلیت، صلاحیت،افادیت اور ان سیاسی،قانونی ،آئینی اور جمہوری حیثیت یا عوامی مفادات کی تکمیل سے جڑی ہوتی ہے لیکن کیونکہ ہمارا حکمرانی کا ڈھانچہ اپنے اندر بڑی خرابیاں رکھتا ہے اور اس میںسب سے بڑا مسئلہ اصلاحات سے مسلسل انکار ہے۔
اگرچہ اصلاحات پر بات تو بہت پرجوش انداز میں کی جاتی ہے مگر اس کا عملی نتیجہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔کیونکہ اول ہم اصلاحات کے حامی نہیں اور لگتا ہے کہ یہ عمل ہماری سیاسی طاقت کو کمزور کرے گا۔دوئم، اگر ہمیں اصلاحات کی کڑوی گولی کھانی پڑے تو ہم حکومت ،عوام اور ادارہ جاتی مفادات کے مقابلے میں اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔اس لیے پاکستان میں حکومتوں کی عملی کارکردگی اصلاحات کے تناظر میں بہت زیادہ تنقیدی زمرے میں آتی ہے۔ مالیاتی اداروں کو بنیادی تبدیلی یا اصلاحات کے عمل میں جس طرح گمراہ کیا جاتا ہے وہ بھی اپنی مثال ہے۔
ہم عملی طورپر ایک ناکام نظام کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔لیکن نظام کو زندہ اور فعال یا شفافیت بنانے کے لیے یا تو مہم جوئی اور سیاسی ایڈونچرز کو اپنی بنیاد بناتے ہیں یا فرسودہ بنیاد پر حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔جدید بنیادوں پر اصلاحات ہمارا ایجنڈا کم ہوتا ہے۔پاکستان میں اصلاحات اور نظام کی تبدیلی کی کوئی سنجیدہ کوشش، روڈ میپ یا عملی منصوبہ بنیادی یا مشاورت کا خاکہ کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔زیادہ تر ہماری کوشش ردعمل کی سیاست کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور ہم فوری یا جادوئی بنیاد پر نتائج چاہتے ہیں۔ جو لوگ مختلف شعبہ جات کے عملی اور فکری ماہرین ہیں ان کی تحقیق،مطالعہ اور تجاویز کو کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور ان کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے۔کیونکہ حکومت سمجھتی کہ ان کے مفادات اور ماہرین کے مفادات میں فرق ہوتا ہے اور اس میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔آج بھی ہمارا پولیس، بیوروکریسی، ٹیکس، سیاسی،سماجی ،قانونی اور عدالتی نظام فرسودہ بنیاد پر کھڑا ہے ۔
اس میں شامل اہم فیصلہ ساز نظام کی اصلاح اور شفافیت میں خود رکاوٹ ہیں۔ایک مسئلہ یہ ہے بطور حکمران اداروں کو سیاسی بنیادوںپر استعمال کرتے ہیں یا سیاسی بنیادوں پر نظام میں مداخلت کرکے خود آئین شکنی اور اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ حکمرانی کے نظام کی شفافیت کا براہ راست تعلق عوامی مفادات سے ہوتا ہے۔اگر حکمرانی کا نظام عوامی مفادات سے جڑا ہو تو نظام اپنی اہمیت رکھتا ہے وگرنہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔پاکستان کی جن سیاسی جماعتوں کو جمہوری نظام میں سب سے زیادہ اقتدار کا موقع ملا یا غیر سول حکومتیں رہیں مگر کوئی بھی نظام کی تبدیلی کو اپنی سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ نہ بنا سکا۔اس وقت سب سے بڑا چیلنج حکمرانی کے نظام کی ساکھ اور لوگوں کی اس نظام پر اعتماد کی بحالی کا ہے۔
اس بات پر بھی تقسیم پائی جاتی ہے کہ اس وقت ’’ ری سیٹ‘‘ کا ایجنڈا واقعی نظام کی تبدیلی سے جڑا ہوا ہے یا اس کے بھی سیاسی محرکات ہیں یا اس کا مقصد کسی خاص سیاسی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ایک بحران یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ سیاسی قوتیں ’’ ری سیٹ‘‘ پر تقسیم ہیں اور ان کی حکمت عملی بھی ایک دوسرے سے متصادم ہے اور بالخصوص سیاسی قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ یہ ایجنڈا ان کی سیاسی طاقت کو کمزورکرنے کا سبب بنے گا۔اسی بنیاد پر پیپلزپارٹی مزاحمت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔سیاسی فریق اور بعض قانونی ماہرین اس بات پر بھی نالاں ہیں کہ ہم ری سیٹ کے لیے کسی ریفرنڈم کا راستہ اختیار کریں اور سیاسی قوتیں سمجھتی ہیں کہ جو لوگ بھی اس کھیل میں قانونی اور پارلیمانی فورم استعمال کریں گے تو ان کو ری سیٹ ماڈل میں کامیابی نہیں مل سکے گی۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب بڑی سیاسی جماعتیں کسی بھی ری سیٹ ماڈل کے لیے تیار نہیں تو وہ پہلے سے موجود حکومتی سمیت گورننس کی بنیاد پر اصلاحات اور تبدیلیوں کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں۔کیا وجہ ہے آج بھی ہمارا گورننس کا نظام بہت خراب ہے اور لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے۔آج جب سیاسی قوتیں بار بار مقامی حکومت کی اہمیت پر زور دے رہی ہیں مگر اس سے اور آج بھی ان کا مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کے بارے میں تصورات بہت کمزور ہیں۔چاروں صوبائی حکومتوں کے بنائے گئے مقامی حکومتوں کے قوانین آئین کی عملا بنیادی روح سے منافی ہیں اور اس میں مقامی خود مختاری کے مقابلے میں صوبائی مرکزیت یا کمپنیوں یا اتھارٹیوں کی بنیاد پر نظام کو چلانے اور صوبوں سے اضلاع تک منصفانہ ترقی اور وسائل کی تقسیم کے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔
اس لیے یہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا بھی ہر سطح پر پوسٹ مارٹم ہونا چاہیے جو ملک میں بری گورننس کی ذمے دار ہیں۔اس لیے جب ملک کو سیاسی جماعتوں نے چلانا ہے اور اس کی بنیاد سیاسی ،جمہوری ،آئینی اور قانونی ہو تو پھر سیاسی جماعتوں کی داخلی اور حکومتی سطح پر اصلاحات اور گورننس کی ترقی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکے گا۔اس لیے ہمیں ملک ’’ ری سیٹ‘‘ کی بحث سے گھبرانے کی بجائے قومی سطح پر ایک بڑی بحث کو آگے بڑھانا ہوگا اور جس کے ذہن میں بھی ری سیٹ کا جو بھی ماڈل ہے اس کو سامنے لایا جائے۔پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر اس کی اہمیت اور افادیت پر گفتگو کی جائے تاکہ اس پر ایک بڑا اتفاق بھی سامنے آسکے۔ہمیں اس پوری بحث میں دنیا کے جدید ریاستی ماڈل سے بھی سیکھنا ہوگا کہ انھوں نے اپنے ریاستی نظام میں اصلاحات کی بنیاد کے اہداف کیسے حاصل کیے یا کیسے کامیابی حاصل کی۔ری سیٹ حکمرانی کے ڈھانچے سے مراد ایک دوسرے پر بالادستی کی عملا جنگ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس سے مراد تمام سیاسی، آئینی اور قانونی اداروں کا اپنی اپنی حدود میں کام کرنے سے جڑا ہونا چاہیے تاکہ ایک دوسرے کے عمل میں مداخلت کا عمل ختم ہوسکے۔
ری سیٹ سے مراد تمام اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے بشمول قوم کے سامنے جوابدہ بنایا جاسکے اور جو بھی احتساب کے زمرے میں آتا ہو اس کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ ملک کی سیاسی اشرافیہ یا حکمران طبقہ خود بھی سیاسی آزادیاں اور جمہوری حقوق چاہتا ہے تو اسے یہ ہی عمل لوگوں میں بھی منتقل کرنا ہوگا اور اپنے دوہرے معیارات سے باہر نکل کر شفاف جمہوری نظام کی طرف پیش رفت کرنا ہوگی۔لیکن اگر یہاں ری سیٹ سے مراد طاقت ور طبقات کے درمیان سیاسی بٹوارا ہے تو اس عمل سے طاقت ورطبقات کو تو فائدہ ہوسکتا ہے،مگر یہ ری سیٹ کا کھیل عوامی مفادات کو کچھ نہیں دے سکے گا لیکن یہ بات ضروری ہے کہ اگر ہمیں خود آگے کی طرف بڑھنا ہو تو آہستہ آہستہ یا بتدریج اس فرسودہ نظام سے خود کو بھی باہر نکالنا ہے اور دوسروں کو بھی باہر نکالنا ہوگا۔لوگ واقعی اس نظام سے نالاں ہیں اور ان کے بنیادی حقوق سے محرومی نے ان کو روزانہ کی بنیاد پر مشکلات میں ڈالا ہوا ہے۔اس لیے جب کوئی نظام کی تبدیلی اور حکومتی ڈھانچہ کو ری سیٹ کرنے کی بات کرتا ہے تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیںاورتبدیلی کی خواہش بھی رکھتے ہیں تو واقعی بڑی تبدیلی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
