• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 3:28 صبح
  • پاکستان

یوکرین اور روس کے درمیان جنگ میں کمی آئی ہے تاہم دونوں جانب سے اب بھی وقتاً فوقتاً حملے جاری ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کی تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کرلیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بات چیت کے دوران روسی توانائی تنصیبات، بالخصوص ڈیزل اور ایندھن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے روکنے پر زور دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے بقول جس پر یوکرینی صدر زیلنسکی نے روس کی تیل تنصیبات پر حملے نہ کرنے پر اتفاق کیا جب کہ اس سے قبل روسی صدر بھی یوکرین کی تیل تنصیبات پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے اب ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے نہ کرنے پر اتفاق سے ایک بڑا خدشہ ٹل گیا اور دنیا میں تیل قلت میں کمی واقع ہوگی۔

صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے فوری بعد روس اور یوکرین کی جانب سے کسی باضابطہ معاہدے یا مکمل جنگ بندی کی تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی تردید کی گئی ہے۔

روسی حکام نے البتہ ٹرمپ کی یوکرین سے روسی ڈیزل تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل کا خیرمقدم کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تحفظ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

خیال رہے کہ روس کو حالیہ مہینوں میں یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں اور دیگر توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باعث ایندھن کی پیداوار میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یوکرین نے روسی آئل ریفائنریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں روس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے اور ماسکو پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

روس میں ایندھن کی قلت کے باعث حکومت نے بعض اقسام کے ایندھن کی برآمدات پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں جبکہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی دستیابی ایک اہم معاشی مسئلہ بن چکی ہے۔

دوسری جانب یوکرین مسلسل روسی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں ہے۔ روسی فورسز یوکرین کے بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بناتی رہی ہیں۔

حالیہ بڑے روسی فضائی حملوں میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں شہری ہلاکتیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے توانائی کے نظام پر حملوں کے باعث آنے والے موسم سرما میں بجلی کی فراہمی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے