• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 4:48 صبح
  • پاکستان

3 سالہ بچی نے منفرد عالمی ریکارڈ بنا لیا

’’آئی فون لنگر‘‘ پولیس نے مفت تقسیم روک دی

سیانا کوا گولفر بن بیٹھا! (دلچسپ ویڈیو دیکھیں)

1980 کے ’’AI‘‘ وائرل ٹرینڈ نے 45 سال سے مفرور خاتون چور کو کیسے پکڑوایا؟

اُردو بازار میں مولوی سمیع اللہ صاحب کی دکان پر جناب شمس زبیری نے مجھے شیخ فضل الہٰی سے بھی متعارف کرایا اور انہی نے ایک ذکر پر جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ایک لنگڑے شخص کو دور سے دکھایا اور بتایا کہ یہ داڑھی والا معذور شخص یہاں جیب تراشوں کا خلیفہ ہے۔

صبح کو جب یہ اپنے دس دس بارہ بارہ سال کے بچوں کو کیسہ تراشی تعلیم دیتا ہے اور قمچی لے کر انہیں بھیر بھڑکا میں تیرنا سکھاتا ہے وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر بچہ اپنا گھنگھرؤں والا فرغل پہن کر ٹیڑھی میٹرھی سی لکیروں پر اس طرح چلتا ہے کہ ایک گھنگھرو بھی آواز نہیں دیتا۔ حالانکہ اس کے دامن اور آستینیں گھنگھرؤں کی قطاروں سے بھری ہوتی ہیں۔ چلتے میں جہاں کسی کا گھنگھرو بجا، وہیں خلیفہ کی قمچی نے احتساب کیا۔ مگر اس خلیفہ کے تمام شاگردوں میں نہ کوئی شراب پیتا ہے، نہ جوا کھیلتا ہے، نہ کسی کو چرس کا لپکا ہے نہ تمباکو کا نشہ! اگر خلیفہ سے ذرا کسی لڑکے نے دوسرے لڑکے کی شکایت کر دی کہ اُن کی عدم موجودگی میں یہ سگریٹ پی رہا تھا اور خلیفہ کی تحقیق و تفتیش میں وہ صحیح ثابت ہوگئی، بس پھر کیا ہے، قمچی سے کمر نیلی کر دیتا ہے۔ یہ عجیب قسم کا استاد ہے، ہر وقت اس کی تلقین ہے کہ نشہ پینے سے ہاتھ میں رعشہ آجاتا ہے اور پھر فن کار صفائی سے کیسہ نہیں کاٹ سکتا۔ اسی طرح یہ اپنے تمام تلامذہ کو روز اخلاقی جرائم کے خلاف لکچر دیتا رہتا ہے۔

اس کے تمام شاگرد جو کما کر لاتے ہیں وہ اس خلیفہ کے پاس جمع کرتے ہیں اور یہ پھر مناسب حصے لگا کر تقسیم کرتا ہے۔ یہی نہیں یہ شاگردوں میں عید تیوہار کے علاوہ اُن کی رسمِ ختنہ اور شادی وغیرہ میں اپنے بچوں کی طرح دل کھول کر صرف کرتا ہے۔ اس کے شاگردوں میں کوئی ایسا نہیں جو نماز نہ پڑھتا ہو اور دنیا کے لہو و لعب میں مبتلا ہو، الّا جبیب تراشی۔

میں نے کہا، کیوں ہو کمائی بھی تو آخر انہی کی ہوتی ہے۔ اس پر شیخ صاحب نے کہا، نہیں جناب یہ اپنا الگ کام کرتا ہے۔ شاگردوں کے بھروسے پر نہیں رہتا۔ میں نے کہا، جناب اپنا کام کرتا ہے؟

شیخ صاحب۔ ارے میاں یہ شاگرد کی پیٹھ پر سوار ہوکر جیب کاٹتا ہے، مگر مہینہ دو مہینے میں ایک دو کام دکھاتا ہے، وہ بھی صرف گزارے کے لیے۔ ابھی چند روز ہوئے خلیفہ کا کیسہ جواب دے گیا۔ اس نے فوراً اپنے ایک مضبوط سے شاگرد کو بلوایا اور کہا چلو آج جیب میں کچھ نہیں، فقیر خالی جا رہے ہیں، شاگرد نے کمر باندھی اور استاد کو چڈّھی لے کر بولا، حکم خلیفہ۔

خلیفہ چلو، ریلوے اسٹیشن کی طرف چلو۔ شاگرد یہ بار احترام پیٹھ پر اٹھائے ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا اور سیکنڈ کلاس کے ٹکٹ گھر کی کھڑکی کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔ اُسی وقت ایک نوجوان بڑے کروفر سے لپکتا ہوا آیا اور ٹکٹ خرید کر نوٹوں سے بھرا بٹوا پتلون کی پچھلی پاکٹ میں ٹھونس کر چلتا بنا۔ ادھر خلیفہ نے اپنے مرکب کو مہمیز کیا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے لپک لیا۔ سیڑھیوں سے چڑھ کر جب درمیان ہمواری پر گئے تو خلیفہ نے اپنا خالی بٹوا نوجوان کے پاؤں میں پھینکا، نوجوان دیسی تو تھا ہی، بٹوا اُٹھایا اور خالی پا کر وہیں پھینک دیا۔ مگر اسی اثناء میں خلیفہ اپنا کام کر کے دور جا چکا تھا۔ خلیفہ نے پلیٹ فارم پر اترتے ہی بٹوا شاگرد کو دے کر کہا، جلد اسٹیشن سے باہر پہنچاؤ۔ یہ تمام ہنگامہ تین سے چار منٹ میں ہوگیا۔ خلیفہ اپنے کمرے میں آکر نوافل ادا کرنے لگا اور شاگرد کو کام پر بھیج دیا۔بٹوے میں خلیفہ کا تین چار ماہ کی کفالت کا سامان تھا۔

مجھے خلیفہ کی شخصیت اور اس کے اوصاف سن کہ بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے شیخ صاحب سے کہا، جناب میں تو اس خلیفہ کو بزرگان دین اور صاحب باطن لوگوں میں سے خیال کرتا ہوں، کیونکہ نہ یہ عبادت سے غافل ہے، نہ حقوق العباد سے۔ فقیروں کو بھی مایوس نہیں کرتا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو کسی اخلاقی پستی میں نہیں دیکھنا چاہتا، اور بزرگوں میں کیا ہوتا ہے؟

(احسان دانش کی آپ بیتی جہانِ دانش سے اقتباس)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے