• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 2:59 صبح
  • پاکستان

خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف صف اول میں کھڑا ہے

کسی ملک کی آزمائش صرف اس وقت نہیں ہوتی جب اس کی سرحدوں پر توپیں گرج رہی ہوں، اصل امتحان اس وقت سامنے آتا ہے جب ایک ہی لمحے میں ایک چیک پوسٹ، ایک سڑک، ایک ایمبولینس اور بے گناہ انسان دہشت گردی کے نشانے پر آ جائیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ کا سانحہ اسی تلخ حقیقت کی ایک اور خون آشام تصویر ہے کہ دہشت گردی اب محض کسی ایک مقام پر حملہ کرنے کا نام نہیں رہی، بلکہ اس کے پیچھے ایسا منظم ذہن کارفرما ہے جو ریاستی نظم، عوامی اعتماد اور انسانی ہمدردی، تینوں کو بیک وقت ضرب لگانا چاہتا ہے۔

امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کا حملہ اور اس کے بعد زخمیوں کو منتقل کرنے والی ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ اس امر کی سنگینی کو واضح کرتی ہے کہ دہشت گرد اپنے ہدف کے انتخاب میں کس قدر سفاک اور اپنی حکمت عملی میں کس قدر بے رحم ہو چکے ہیں۔

درازندہ میں چودہ افراد کی شہادت اور پینتیس سے زائد افراد کا زخمی ہونا محض ایک عدد نہیں، بلکہ ریاست اور معاشرے کے لیے ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف مذمت، تعزیت اور سرچ آپریشن سے مکمل نہیں ہو سکتا۔ شہداء میں پولیس اہلکار، کسٹمز اہلکار، خواتین اور ایک بچہ شامل ہونا اس سانحے کے انسانی المیے کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ ایک طرف وہ اہلکار تھے جو ریاستی ذمے داری ادا کرتے ہوئے انسدادِ اسمگلنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے، دوسری طرف عام شہری تھے جو کسی جنگ کا حصہ نہیں تھے۔

پھر زخمیوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے والے ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس آخری واقعے نے دہشت گردی کی سفاک منطق کو بے نقاب کردیا کہ اس کے لیے نہ وردی کا احترام ہے، نہ زخمی انسان کی حرمت، نہ امدادی کارکن کے فرض کی کوئی قدر۔یہ پہلو اس سانحے کو محض ایک دہشت گرد حملے سے آگے لے جاتا ہے۔ دہشت گردی کی موجودہ لہر کا بنیادی مقصد خوف پیدا کرنا، ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانا اور معاشرے میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ کوئی جگہ مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ جب ایک ایمبولینس بھی محفوظ نہ رہے تو دہشت گرد دراصل شہریوں کے اجتماعی اعتماد کو نشانہ بناتے ہیں۔

اس لیے اس جنگ کو صرف بندوق کے مقابل بندوق کی جنگ سمجھنا ایک محدود زاویہ ہوگا۔ اس کے لیے ان تمام راستوں کو بند کرنا ہوگا جن سے دہشت گرد افرادی قوت، اسلحہ، مالی وسائل، معلومات اور مقامی سہولت کاری حاصل کرتے ہیں۔خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف صف اول میں کھڑا ہے۔ اس خطے نے پولیس، سیکیورٹی اہلکاروں، سرکاری ملازمین، قبائلی عمائدین، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کی ایسی قربانیاں دی ہیں۔

جنھیں محض اعدادوشمار میں سمیٹ دینا ان قربانیوں کی معنویت کو کم کرنا ہوگا، تاہم مسلسل قربانیوں کے باوجود اگر دہشت گردی نئے راستوں اور نئے طریقوں سے واپس آتی رہے تو ریاستی حکمت عملی کے ہر درجے کا جائزہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کارروائی کیوں کی گئی، سوال یہ ہے کہ کارروائی کے باوجود دہشت گردی کے لیے نئے مواقع پیدا کیسے ہوئے۔یہاں سول انتظامیہ کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔

دہشت گردی کا مکمل سدباب صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری نہیں ہوسکتا۔ پولیس، ضلعی انتظامیہ، انسدادِ اسمگلنگ کے ادارے، سرحدی نگرانی کے نظام، مقامی حکومتیں اور انٹیلی جنس کا مربوط اشتراک ہی ایسا ماحول پیدا کرسکتا ہے جہاں دہشت گردوں کے لیے کارروائی سے پہلے اور بعد دونوں مرحلوں میں گنجائش محدود ہو۔ حکومتی رٹ کا مطلب صرف سڑک پر اہلکاروں کی موجودگی نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی مسلسل، موثر اور مربوط موجودگی ہے۔ جہاں انتظامی خلا پیدا ہوتا ہے، وہاں غیر ریاستی عناصر اپنے لیے جگہ تلاش کرتے ہیں۔

درازندہ کا واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ علاقہ ڈی آئی خان اور کوئٹہ کے درمیان اہم زمینی راستے سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے راستے محض آمدورفت کے لیے استعمال نہیں ہوتے، بلکہ تجارت، سرحدی نقل و حرکت، انسداد اسمگلنگ اور علاقائی رابطے کے لیے بھی اہم ہوتے ہیں، اگر ان راستوں پر دہشت گردی کا سایہ گہرا ہوتا ہے تو اس کے اثرات مقامی امن سے کہیں آگے جاتے ہیں۔ تجارت متاثر ہوتی ہے، نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے، سرمایہ کاری کے امکانات کم ہوتے ہیں اور ریاستی اداروں کی معمول کی کارکردگی پر دباؤ بڑھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اقتصادی حکمت عملی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کے تناظر میں یہ تضاد بھی قابل غور ہے کہ ایک جانب ملک عالمی اور علاقائی سطح پر تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں کررہا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو اہمیت دی جارہی ہے، جب کہ دوسری جانب ملک کے اندر دہشت گردی کا چیلنج بدستور موجود ہے۔ یہ صورت حال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی ملک کی عالمی سفارت کاری کی قوت کا ایک بنیادی ستون اس کا داخلی استحکام بھی ہوتا ہے، جو ریاست اپنے شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہو، اس کی سفارتی آواز بھی زیادہ موثر ہوتی ہے۔اسی تناظر میں افغانستان کا معاملہ پاکستان کی سلامتی اور علاقائی اقتصادی منصوبہ بندی دونوں سے جڑ جاتا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر پورے خطے میں امن اور خوشحالی ممکن نہیں۔ یہ موقف محض سیکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ اقتصادی حقیقت کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے، اگر افغانستان ایک مستحکم اور پُر امن ملک بنے تو پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت، ریل، سڑک اور توانائی کے رابطوں کے وسیع امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، لیکن اگر سرحد پار دہشت گردی مسلسل علاقائی سلامتی کو متاثر کرتی رہے تو اقتصادی راہداریوں اور تجارتی منصوبوں کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔پاکستان کا افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط برقرار رکھنا اسی لیے ایک اہم پالیسی کی ضرورت ہے۔

دوطرفہ تجارت، ٹرانزٹ روابط اور ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبہ خطے کو نئے اقتصادی امکانات فراہم کرسکتے ہیں، لیکن اقتصادی تعلقات اسی وقت پائیدار ہوسکتے ہیں جب سلامتی کے بنیادی سوالات کا قابل عمل اور مستقل حل موجود ہو۔ تجارت اور سلامتی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ ایک محفوظ راستہ تجارت کو جنم دیتا ہے اور بڑھتی ہوئی قانونی تجارت سرحدی علاقوں میں روزگار اور معاشی سرگرمی کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے، جو بالآخر غیر قانونی معیشت کے دائرے کو محدود کرسکتے ہیں۔اس پورے معاملے میں دہشت گردی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ممکنہ گٹھ جوڑ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انسدادِ اسمگلنگ کے ادارے پر حملہ اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ غیر قانونی معیشت اور دہشت گردی کے درمیان جہاں بھی مفادات کا ملاپ ہو، وہاں ریاست کے لیے خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

اسمگلنگ، غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں، جعلی دستاویزات، اسلحے کی ترسیل اور دہشت گردی کے درمیان روابط کی موثر نگرانی کے لیے محض ایک ادارہ کافی نہیں۔ مالیاتی نگرانی، سرحدی انتظام، پولیس، کسٹمز اور انٹیلی جنس اداروں کو مشترکہ نظام کے تحت کام کرنا ہوگا۔اسی طرح مقامی آبادی کو ریاستی حکمت عملی کا محض متاثرہ فریق سمجھنے کے بجائے فعال شراکت دار بنانا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وقتی کامیابی اور پائیدار امن کے درمیان فرق کو سمجھا جائے۔

ایک کارروائی میں دہشت گرد مارے جائیں یا گرفتار ہوجائیں تو خطرہ وقتی طور پر کم ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس نیٹ ورک کی مالی بنیاد، افرادی قوت، نظریاتی اثر، سہولت کار اور سرحد پار رابطے برقرار رہیں تو خطرہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لیے دہشت گرد نیٹ ورک کی مکمل استعداد کو ختم کرنا چاہیے۔قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال صبر اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ شہداء کے خون کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست ہر حملے کے بعد اگلے خطرے کی پیش بندی بھی کرے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حکومتی رٹ، انتظامی استعداد، سرحدی نگرانی اور ادارہ جاتی رابطے کو ایک مربوط قومی نظام میں ڈھالنا ہوگا۔

پاکستان عالمی سطح پر تنازعات کے حل، علاقائی تعاون اور اقتصادی رابطوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ اسے داخلی سلامتی کو جامع وژن کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان خطے میں امن کے لیے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تجارت اور رابطے کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، مگر پاکستان کی جائز سلامتی کی ضرورت بھی واضح اور ناقابل ابہام رہنی چاہیے۔

جب سفارت کاری، سرحدی نظم، سول انتظامیہ، سیکیورٹی ادارے اور اقتصادی پالیسی ایک سمت میں حرکت کریں گے، تب دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک منظم قومی حکمت عملی بن جائے گی۔ درازندہ کے شہداء کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ان کی قربانی ایک ایسے پاکستان کی بنیاد بنے جہاں دہشت گرد خوف پھیلانے کے لیے راستہ تلاش کرتے رہ جائیں اور ریاست، معاشرہ اور قانون ان کے ہر راستے کو پہلے ہی مسدود کرچکے ہوں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے