انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار
ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان
امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں
درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم
صحافت کی دنیا میں خبر کی کوئی مستقل شکل نہیں ہوتی۔ خبر حالات سے بنتی ہے، واقعات سے جنم لیتی ہے، عوامی دلچسپی سے طاقت حاصل کرتی ہے اور بعض اوقات ایک ایسے لمحے میں سامنے آتی ہے جب کسی کو اس کی توقع بھی نہیں ہوتی۔
ضروری نہیں کہ کوئی بات کسی بڑے سیاسی رہنما، وزیر یا سرکاری ادارے کے کسی عہدیدار کے منہ سے نکلے تو ہی بڑی خبر بنے۔ بعض اوقات عام آدمی کا ایک جملہ، ایک سوال، ایک ردعمل یا ایک منفرد مشاہدہ ایسی بحث شروع کر دیتا ہے جو چند گھنٹوں میں معاشرے کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔
گزشتہ روز شوکت یوسفزئی کے ایک خط نے اسی حقیقت کو نمایاں کیا۔ انہوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنے پر اپنی رائے دی۔ خط سامنے آیا تو وہ خود ایک بڑی سیاسی خبر بن گیا اور سیاسی حلقوں میں اس پر بحث شروع ہوگئی۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ خط کس نے لکھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس خط میں ایسا کیا تھا جس نے اسے خبر بنا دیا؟ اس کا جواب موجودہ سیاسی حالات میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔
تحریک انصاف اس وقت ایک مشکل سیاسی ماحول میں اپنی احتجاجی سیاست کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری طرف ایک بڑے احتجاج کے لیے صرف سیاسی فیصلہ کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کارکنوں کی موجودگی، سفری انتظامات، مالی وسائل، قانونی معاونت اور دیگر لاجسٹک ضروریات بھی درکار ہوتی ہیں۔ اگر احتجاج کے دوران گرفتاریاں ہوں، کارکن زخمی ہوں یا دیگر مشکلات پیدا ہوں تو ان کے اثرات صرف احتجاج کے دن تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے بعد کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی سیاست میں ماضی میں ایسے مواقع آئے جب احتجاجی سرگرمیوں کے دوران کارکنوں کی مدد، علاج، قانونی معاملات اور دیگر ضروریات کے لیے سیاسی و حکومتی سطح پر معاونت کی گئی۔ موجودہ صورتحال میں یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایک بڑا احتجاج ہوتا ہے تو ممکنہ انتظامی اور مالی اثرات سے کیسے نمٹا جائے گا۔
شاید یہی وہ پس منظر تھا جس میں شوکت یوسفزئی کے خط نے ایک حساس سیاسی سوال کو نمایاں کر دیا۔ لیکن اس پورے واقعے میں میرے لیے اصل دلچسپی کسی ایک سیاسی شخصیت یا کسی ایک جماعت کے مؤقف سے زیادہ خبر کی فطرت میں ہے۔
خبر آخر خبر ہے۔ اسے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک رپورٹر کسی سڑک پر کھڑے مزدور سے سوال کرتا ہے اور مزدور کا ایک جملہ معاشرے کا ترجمان بن جاتا ہے۔ایک طالب علم کا سوال تعلیمی نظام کی کسی بڑی خامی کو سامنے لے آتا ہے۔ ایک دکاندار کی بات مہنگائی کی اصل صورتحال سمجھا دیتی ہے۔ کسی دور دراز علاقے کا شہری اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے ایسی بات کہہ دیتا ہے جو پالیسی بنانے والوں کے لیے بھی اہم بن جاتی ہے۔ یہی صحافت کا حسن ہے۔
صحافی کا کام صرف بڑے لوگوں کے بیانات اکٹھے کرنا نہیں۔ صحافی کا اصل کام تلاش ہے۔ وہ ہر وقت یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ کون سی بات اہم ہے؟ کون سا واقعہ معمول سے ہٹ کر ہے؟ کون سا مسئلہ لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خبر کہاں ہے جسے ابھی تک کسی نے دیکھا نہیں؟ یہی وہ جستجو ہے جو ایک رپورٹر کو رپورٹر بناتی ہے۔
کبھی خبر صحافی کے دفتر میں خود چل کر آتی ہے۔ کبھی کوئی خط اسے خبر بنا دیتا ہے۔ کبھی فون کال خبر کا دروازہ کھولتی ہے۔ کبھی عدالت، اسمبلی یا پریس کانفرنس خبر فراہم کرتی ہے۔ لیکن بہت سے مواقع پر خبر تلاش کرنا پڑتی ہے۔ صحافی کو عام آدمیوں کے درمیان جانا پڑتا ہے۔ سوال کرنا پڑتا ہے۔ سننا پڑتا ہے۔ ایک ہی واقعے کو مختلف زاویوں سے دیکھنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات گھنٹوں کی محنت کے بعد خبر ہاتھ آتی ہے اور بعض اوقات پوری کوشش کے باوجود کچھ نہیں ملتا۔ لیکن تلاش ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ صحافت بنیادی طور پر جستجو کا نام ہے۔
ایک اچھا صحافی یہ نہیں دیکھتا کہ کون بول رہا ہے؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے، کیوں کہا جا رہا ہے اور اس کا عوام سے تعلق کیا ہے۔ شوکت یوسفزئی کا خط اسی اصول کی ایک تازہ مثال ہے۔ ایک سیاسی رہنما نے خط لکھا۔ خط میں ایک رائے سامنے آئی۔ اس رائے نے سیاسی صورتحال کے ایک اہم پہلو کو چھوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ خط خود خبر بن گیا۔ یہی خبر کی طاقت ہے۔
اور شاید یہی صحافت کا سب سے خوبصورت پہلو بھی ہے کہ خبر کسی کی جاگیر نہیں۔ وہ بڑے آدمی سے بھی آسکتی ہے اور عام آدمی سے بھی۔ وہ اسمبلی سے بھی مل سکتی ہے اور بازار سے بھی۔ وہ ایک سرکاری دستاویز سے بھی نکل سکتی ہے اور کسی مزدور کے ایک جملے سے بھی۔ کمال یہ ہے کہ صحافی اس خبر کو وقت پر پہچان لے۔ کیونکہ خبر اکثر ہمارے بالکل سامنے ہوتی ہے۔ صرف اسے دیکھنے والی نظر، سننے والا کان اور تلاش کرنے والا ذہن چاہیے۔
خبر کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ سے آسکتی ہے اور کسی کے ذریعے بھی آسکتی ہے۔صحافی وہ ہے کہ جب خبر سامنے آئے تو وہ اسے پہچان سکے۔
