آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے
2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت
ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی
شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی
نیویارک : وزن کم کرنے والے مشہور دوا کے استعمال سے لوگ بینائی سے محروم ہونے لگے اور عدالتوں سے رجوع کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکا میں ذیابیطس کی علاج اور وزن گھٹانے کے لیے استعمال ہونے والی انتہائی مقبول GLP-1 ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف 90 سے زائد افراد نے عدالتوں سے رجوع کر لیا ہے۔
مقدمات دائر کرنے والے شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان ادویات کے استعمال کے باعث وہ بینائی سے محروم ہوگئے یا ان کی نظر شدید متاثر ہوئی۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے وہ NAION (غیر شریانی اگلا اسکیمک آپٹک نیوروپیتھی) نامی ایک نایاب طبی مرض کا شکار ہوئے، جسے عام زبان میں "آنکھ کا فالج” (Eye Stroke) بھی کہا جاتا ہے، یہ بیماری انسان کو مستقل طور پر اندھا کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے کہا کہ فی الحال ایسے حتمی سائنسی شواہد یا ثبوت سامنے نہیں آئے جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ GLP-1 ادویات براہِ راست اس بیماری کا باعث بنتی ہیں۔
تاہم کچھ تحقیقات اور اسٹڈیز میں اس مرض کے خطرے میں معمولی اضافے کی نشان دہی ہوئی ہے، جبکہ دیگر تحقیقات میں ادویات اور بینائی کے نقصان کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں پایا گیا۔
یورپی میڈیسنز ایجنسی کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے ہر 10,000 میں سے تقریباً 1 فرد میں بینائی کی اس بیماری کے لاحق ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔
خیال رہے GLP-1 ادویات جن میں اوزیمپک اور ویگووی جیسی ادویات شامل ہیں، خون میں شوگر کی سطح کم کرنے اور وزن گھٹانے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں شوگر کی سطح میں تبدیلی آنکھ کے لینس کی شکل کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے باعث عارضی طور پر نظر دھندلا ہوسکتی ہے، یہ مسئلہ عموماً تین سے چار ماہ میں بہتر ہوجاتا ہے۔
ماہرین نے GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد، خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں، کو باقاعدگی سے آنکھوں کا معائنہ کرانے اور نظر میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر ماہرِ امراض چشم سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
