• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 1:18 صبح
  • پاکستان

سعودی عرب کے صرف اُن مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں جو یمن کے خلاف جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں، عبدالملک حوثی

یمن کے حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے صرف فوجی ٹھکانے اور تیل کی تنصیبات ہدف پر ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطاب یمن کے حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے سعودی عرب پر یمن کے خلاف حملوں اور محاصرے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ظلم، غلامی اور ذلت قبول نہیں کرسکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات، فوجی ٹھکانے اور اُن مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں جو یمن کے خلاف جنگ میں استعمال ہورہے ہیں۔

حوثی رہنما نے سعودی عرب پر یمن میں اپنے حملوں کو درست ثابت کرنے کے لیے پروپیگنڈا اور جھوٹ استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

انھوں نے کہا کہ سعودی حکام اپنے اقدامات کا جواز پیش کرنے اور دوسروں کو حوثیوں کے خلاف حمایت پر اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عبدالملک الحوثی کے مطابق سعودی عرب کا پروپیگنڈا زمینی محاذ پر فوجی ناکامیوں کی تلافی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

حوثی رہنما نے سعودی عرب کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجا تھا۔

عبدالملک الحوثی نے مزید کہا کہ یہ سعودی عرب کا پروپیگنڈا مشن کا حصہ ہے اور نہایت احمقانہ الزام ہے۔ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف موجودہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی بلکہ ہم تو صرف اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا دفاعی جواب دے رہے ہیں۔

ان کے بقول حالیہ کشیدگی میں اضافہ صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی حملوں کے بعد ہوا جس کے بعد سعودی عرب نے حوثی علاقوں کا محاصرہ اور یمن کے عوام کو ہراساں کرنے کی پالیسی جاری رکھی۔

خیال رہے کہ حالیہ ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کا آپریشن متاثر ہوا جو ملک کے مشرقی علاقوں سے تیل کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچانے کا اہم راستہ ہے۔

اس پائپ لائن کی گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے اور یہ آبنائے ہرمز سے بچ کر سعودی تیل برآمد کرنے کا اہم متبادل راستہ ہے۔ جس کے بعد سعودی عرب نے تیل کی ترسیل برقرار رکھنے کے لیے دیگر راستے اختیار کرنا شروع کردیے ہیں۔

واضح رہے کہ حوثیوں اور سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ 2015 سے جاری ہے تاہم 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی تھی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے