• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 12:45 صبح
  • پاکستان

صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے حوثیوں پر براہ راست فضائی حملوں کی درخواست پر معذرت کرلی، ذرائع

امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر یمن میں حوثی باغیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے بعد ہنگامی صلاح و مشورے کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحیرہ احمر میں حوثیوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے 6 اہم اضلاع پر قبضہ کرلیا اور باب المندب کا کنٹرول سنبھالنے کا بھی دعویٰ کیا جب کہ اسی دوران سعودی عرب پر بھی حملے کیے گئے۔

امریکی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سینٹکام کے سربراہ کی روانگی سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر متعدد بار رابطہ کیا۔

امریکی سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کی سعودی حکام سے ملاقاتوں کا بنیادی مقصد حوثیوں کی اس اچانک پیش قدمی کے خلاف مشترکہ دفاعی لائحہ عمل کو مضبوط بنانا اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد نے امریکی صدر سے بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہ کو بچانے کے لیے امریکی فوج کے حوثیوں کے خلاف براہِ راست فضائی حملے کرنے کی درخواست کی تھی۔

تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال حوثی باغیوں پر براہِ راست امریکی حملے کرنے کی سعودی ولی عہد کی درخواست کو مسترد کر دیا کیونکہ امریکا مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ حوثیوں پر براہ راست حملوں سے انکار کے باوجود امریکا نے سعودی عرب کو مکمل انٹیلی جنس ڈیٹا اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے ساتھ جنگ میں مدد کے لیے تقریباً 100 سے 200 امریکی فوجی مشیر پہلے ہی سعودی عرب میں قائم مشترکہ کمانڈ سینٹر میں کام کر رہے ہیں جو میدانِ جنگ کی لائیو مانیٹرنگ اور جیو اسپیشل ڈیٹا کی فراہمی میں مدد کر رہے ہیں۔

حوثیوں نے امریکا اسرائیل کی ایران سے جنگ کے بعد حالیہ چند ماہ سے باب المندب میں سعودی بحریہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور سعودی عرب آنے اور جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن میں سعودی اتحادی افواج اور حوثیوں کے درمیان 2014 سے جنگ جاری ہے جس میں زیادہ تر حصے پر باغیوں نے قبضہ کرلیا ہے اور اب باب المندب تک پہنچ گئے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے