• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 6:48 شام
  • پاکستان

ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!

دنیا میں پہلی بار ’’موٹے‘‘ بچوں کی تعداد ’’دُبلے‘‘ بچوں سے زیادہ ہو گئی!

برف کے بیچوں بیچ آتش فشاں پھٹ پڑا، حیرت انگیز ویڈیو

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

آج اردو ادب میں شاذ ہی حمید نسیم کا تذکرہ ہوتا ہے۔ نئی نسل ان کے نام اور ان کی تصانیف سے بھی واقف نہیں، مگر بیسویں صدی کے نصف میں انھیں بطور شاعر، ادبی نقّاد اور براڈ کاسٹر پہچانا جاتا تھا۔ حمید نسیم کو موسیقی سے بھی گہرا شغف تھا اور ریڈیو کے زمانہ میں انھوں نے چند غزلوں اور گیتوں دھنیں بھی بنائی تھیں۔ فنون و ادب کے ساتھ ساتھ انھوں نے دینی علوم پر بھی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔

حمید نسیم نے شاہ پور ضلع ڈلہوزی میں 16 اکتوبر 1920ء کو آنکھ کھولی۔ وہ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کرکے یہاں آئے اور ریڈیو سے وابستہ ہوئے۔ حمید نسیم اسی ملازمت میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک ترقی کی۔ بعد میں انھوں نے پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

حمید نسیم ڈرامے اور موسیقی کا بہت اعلیٰ ذوق رکھتے تھے اور زبان و بیان پر بڑا عبور تھا۔ ادبی اصناف اور تخلیقات پر ان کے تنقیدی مضامین ان کی علمی بصیرت اور تخلیقی ذہانت کا نمونہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اسلامی تہذیب اور تشخص کے بڑے دلدادہ تھے۔ انھوں نے دینی علوم کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ اسلامی دنیا کی نام ور شخصیات اور دینی تعلیمات پر انھوں نے متعدد کتابیں لکھیں۔

"ناممکن کی جستجو” کے عنوان سے حمید نسیم خود نوشت سوانح عمری بھی منظرِ عام پر آئی تھی۔ حمید نسیم تعارفِ فرقان کے نام سے قرآن پاک کی تفسیر لکھ رہے تھے، جو ان کی وفات کے سبب ادھوری رہ گئی تھی۔

انھوں نے اپنی ایک کتاب کے پیش لفظ میں‌ اپنی زندگی کے مختلف ادوار اور اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے، جب میں نے بچپن میں شعر کہنا شروع کیا تو ہمّت بڑھانے والا اور شوق کی تہذیب کرنے والا میرا باپ تھا۔ عزیز بٹالوی جو پیدائشی شاعر تھا۔ مگر پنجاب کے گاؤں میں ٹھیٹھ روستائی ماحول میں جوان ہونے والا اردو میں شعر کہتا تھا۔ کہاں تک جاتا۔ دو چار شعر اچھے ہو گئے تھے۔ جو اب سے اسّی برس پہلے کے مشرقی پنجاب کے ادبی اور فکری ماحول کو مد نظر رکھیں تو بہت اچھے تھے۔ مگر زندہ رہنے والی شاعری کے لئے علم بھی ضروری ہوتا ہے۔ حضرت بلھے شاہ، وارث شاہ صاحب اور درویش خدا مست سلطان باہو اور صاحب عظمت شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائی اپنے مشرقی دریائے علم و عرفان سے پوری طرح فیض یاب تھے۔ میر تقی میر، مرزا سودا، خواجہ میر درد، آتش، مومن خان مومن اور مرزا غالب فارغ التحصیل بزرگ تھے۔ اپنے علمی، تہذیبی، جمالیاتی اور روحانی چشموں سے سیراب۔ عزیز بٹالوی اگر فارسی اور اردو زبانوں کے سرمایۂ علم و ادب پر پوری دسترس حاصل کر لیتا تو اعلی سطح کی شاعری کرتا کہ جوہر اس کا کندن تھا۔ میری رہنمائی بھی باپ نے صرف محبت کی سطح پر شوق افزائی کی حد تک کی۔ پھر تاثیر امرتسر آگئے۔ اور مجھے ان سے باقاعدہ تلمذ کا شرف حاصل ہو گیا۔ صاحبزادہ محمود الظفیر اور ڈاکٹر رشید جہاں جو میرے لئے رشیدہ آپا تھیں۔ میرے ذوق شعر اور انسانی اخوت کے جذبے کی تربیت کرتے رہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں، شاعری میرے اندر موجود تھی۔ اسے صرف نشتر سے چھیڑنے کی ضرورت تھی۔ جو کلام 1944ء تک لکھا تھا اسے جس بیاض میں لکھا تھا وہ پشاور کے سہ سالہ قیام کے دوران میں کھو گئی۔ 1960ء سے 1967ء تک کے زمانے میں، میں نے بیس پچیس غزلیں کہی تھیں۔ وہ دستیاب تھیں۔ پہلے کلام میں سے تین چار غزلیں یاد میں محفوظ رہ گئی تھیں۔ پھر 1987ء کے دوران میں کچھ مسلسل مربوط غزلیں ہو گئی تھیں۔ اس سارے مواد کو جمع کیا تو محسوس ہوا کہ اس سے تو قابل لحاظ مجموعہ مرتب نہ ہو سکے گا۔ کہ کلام کی صرف سطح نہیں ضخامت بھی اساسی اہمیت رکھتی ہے۔ پھر یوں ہوا کہ طبیعت آپ ہی یکسو ہوئی اور رواں ہو گئی۔ اور دسمبر 1991ء سے اگست 1994ء کے عرصہ میں میں متواتر شعر کہتا رہا۔

اپنے اسی پیش لفظ میں حمید نسیم نے لکھا ہے، میں نے زندگی میں صرف غزل کہی ہے۔ ریڈیو کے لئے آزاد نظم میں طویل دورانیے کے پروگرام بھی لکھے۔ ملّی احیاء جن کا موضوع تھا۔ فوری فرمائش پر چند قومی نغمے بھی لکھے۔ وہ سب ریڈیو کے لئے تو اچھے ہیں۔ مگر میں انہیں اپنے اس کلام کا حصہ نہیں سمجھتا جو میری شاعرانہ طبع اور مزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔ 1942ء میں آل انڈیا ریڈیو نے میرے کلام کو ریڈیو پر نشر کرنے کے لئے مجھ سے معاہدہ کیا۔ اور میری غزلیں پشاور، لاہور، دلّی، لکھنؤ اور بمبئی اسٹیشنوں پر گائی جانے لگیں۔ اکتوبر 1944ء میں میں نے آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کرلی۔ اور فوراً اپنے محترم دوست اور برادر بزرگ حضرت حفیظ ہوشیار پوری مرحوم کی اتباع میں صدر دفتر دلّی کو لکھ دیا کہ میری ملازمت کے دوران میں میرا کنٹریکٹ معطل رکھا جائے۔ اور میرا کلام نشر نہ کیا جائے۔ ریڈیو میں میں نے موسیقی کا علم اور ہنر حاصل کیا اور غزل اور گیت کی نوا سازی میں خاصی صارت حاصل کر لی۔ میں نے قدیم اور جدید بہت سے شعرائے کرام کے کلام کی دھنیں بنائیں اور انہیں صف اوّل کے فن کاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کرایا۔ وہ چیزیں میرے نام سے نشر نہیں ہوتیں کہ موسیقی میرا شوق تھی پیشہ نہیں تھی۔ ریڈیو سے نصف صدی کی وابستگی کے دوران میں نے اپنی ایک غزل بھی نشر نہیں ہونے دی۔

حمید نسیم کے شعری مجموعوں میں دود تحیر، جستِ جنوں اور گردِ ملال شامل ہیں جب کہ تنقیدی مضامین کی کتابیں "علّامہ اقبال ہمارے عظیم شاعر، کچھ اہم شاعر، کچھ اور اہم شاعر اور پانچ جدید شاعر کے نام سے شایع ہوئیں۔

28 ستمبر 1998ء کو کراچی میں حمید نسیم کا انتقال ہوگیا تھا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے