• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 10:40 شام
  • پاکستان

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

اردو میں شخصی خاکے، سوانح عمری یا خود نوشت اور یادیں تحریر کرنے کی ادبی روایت نے ہمیں کئی سنہرے لوگوں سے آشنا کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اجلی فکر، روشن خیالات اور اکثر ان کا کردار بھی ہمارے لیے مثال بن جاتا ہے۔

یہ تذکرہ ہے شیخ حسن عبداللہ کا جن کی ناگہانی موت سے سبھی کو دلی صدمہ پہنچا۔ اسے اردو کے مشہور مزاح نگار، ادیب اور انوکھے اسلوب کے حامل نثر نگار رشید احمد صدیقی نے لکھا اور اپنی خاکوں کی کتاب میں شامل کیا۔ صدیقی صاحب کا تحریر کردہ یہ خاکہ ایک قابل اور باصلاحیت شاگرد کے باطن اور اس کے کردار کو بھی دل پذیر انداز میں بیان کرتا ہے۔

جب شیخ حسن عبداللہ نے یہ دنیا چھوڑی تو وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں اچھے عہدے پر فائز تھے۔ تعلق غالباً غازی پور سے تھا۔ ان کے والد علی گڑھ میں بسلسلۂ ملازمت قیام پذیر تھے اور حسن عبداللہ نے بھی یہیں عملی زندگی شروع کی تھی۔ اچانک بیمار پڑگئے اور انتقال ہوا۔ رشید صدیقی صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی موت کی اطلاع درس گاہ کی روایت کے مطابق سائرن بجا کر دی گئی تو کسی کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ایسا پیارا انسان ان سے بچھڑ گیا ہے۔

رشید احمد صدیقی کے مضمون سے یہ پارے ملاحظہ کیجیے: لمبے تڑنگے، خوش رو ، خوش لباس، اکڑنے اور جھکنے دونوں میں یگانہ، نہ آہستہ بولتے تھے، نہ چپکے سے کام کرتے۔ ان کی زندگی کے ساز میں دھیما سُر کوئی تھا ہی نہیں۔ بڑے شریف گھرانے کے تنہا اجالا تھے۔ اخلاق و وضع داری میں کھرے مشرقی۔ جس کو محبوب رکھتے اس کو کوئی نا ملائم کہے تو حسن عبد اللہ کا رنگ متغیر ہو جاتا، پھر نہ وہ اپنا دیکھتے نہ پرایا، نہ چھوٹا، نہ بڑا، نہ نیچ، نہ اونچ، نہ اپنے بس میں ہوتے نہ دوسروں کے سنبھل جاتے تو قدموں پر سر رکھ دیتے، میرے شاگر د تھے۔ انھوں نے مسلم یونیورسٹی ہی سے اردو میں ایم ۔ اے کیا تھا۔

پی ایچ۔ ڈی۔ کرنے لندن گئے۔ لڑائی چھڑ گئی تو سلسلہ منقطع کر کے ہندوستان واپس آگئے۔ گریجویٹ ہوتے ہی وکالت شروع کر دی تھی، لیکن ان کا دل اردو لکھنے پڑھنے میں لگتا تھا۔ کچھ دنوں آگرہ میں اردو فارسی کے لکچرر رہے۔ یہ سب ہوا اور ہوتا رہا لیکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو کا معلم بننے کا حوصلہ اور ولولہ دل سے نہ نکالا۔ کاش کسی نے ان کی وہ والہانہ تمنا دیکھی ہوتی جب وہ اپنے خاص انداز سپردگی میں کہتے تھے، رشید صاحب مجھے کچھ نہ چاہیے، مجھے میرے اللہ اور میرے ابا نے کھانے بھر کو دے رکھا ہے۔

میں نے ان کو شعبہ میں لینے کی تحریک بھی کی، لیکن ہوا وہی جس کا اندیشہ تھا۔ یونیورسٹی نے ان کو نہ چھوڑا۔ لڑائی کے زمانے میں رسد رسانی کا جو کام ان کے سپرد کیا گیا تھا وہ اس کو اس انتہائی اور سر چکرا دینے والی ایمان داری سے کرتے تھے کہ یونیورسٹی کے حکام کے نظریے کا رد کرنا بھی آسان نہ تھا۔ کہا، اردو لکچرر تو آج نہیں کل کوئی نہ کوئی مل جائے گا، حسن عبد اللہ جیسا ایمان دار میر ساماں نہ ملے گا۔ یہ بات سچی اور پکی تھی۔ ہم میں سے بڑے سے بڑے بے ایمان کا مقولہ تھا کہ حسن عبد اللہ جیسا ایمان دار کوئی اور نہ تھا!

حسن عبداللہ جذباتی تھے۔ جتنا جلد چڑھ جاتے، اتنا ہی جلد من جاتے۔ ہمیشہ چڑھتے پہلے تھے منتے بعد میں تھے۔ اور جب من جاتے تو پھر آپ کے لیے مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے۔ مولوی نذیر احمد نے (Explosive) کا ترجمہ بھک سے اڑ جانے والا مادّہ لکھا ہے، اس سے بڑھ کر شاید خود انگریزی کا لفظ بھی مفہوم کو ظاہر نہیں کرتا۔ حسن عبداللہ کے بارے میں بے تکلف کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھک سے اڑ جانے والے شخص تھے۔ اس جلالی صفت کے بعد ان کی جمالی صفت آتی۔ جب وہ ہم کو آپ کو منانے کے لیے پاؤں پکڑ لیتے، معذرت کے سارے کلمات استعمال کر جاتے اور کام کر دیتے۔

امورِ شریعہ میں بڑے بے جھپک اور بے لچک تھے۔ انگلستان میں ٹیوب کے اسٹیشن پر اترے۔ سامنے زینہ، زینہ کے موڑ پر تھوڑی ہی کشادہ جگہ تھی۔ آنے جانے والوں کا ریلا تھا۔ نماز کا وقت یاد آ گیا۔ وہیں نیت باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ ادھر کا مجمع اُدھر اور اُدھر کا ادھر، گڑبڑ مچ گئی۔ پولیس سارجنٹ بلایا گیا، اس نے پہلے تو کچھ غور کیا پھر کہا، یہ رکوع میں چلے گئے، وہ دو قدم پیچھے کھسک گیا۔ اس کے بعد سجدے میں چلے گئے تو اس نے سیٹی بجائی۔ یہ اٹھ کر کھڑے ہوئے تو اس نے ان کے دونوں شانوں کو جھنجھوڑا، یہ نیت توڑ کر اس سے گتھہ گئے۔ معاملہ پولیس کمشنر تک پہنچا۔ اس نے ان کو فہمائش کی کہ شارع عام راستہ چلنے کے لیے ہے، عبادت کے لیے نہیں۔ اور سارجنٹ کو تاکید کی کہ غیر ملکیوں کا بہرحال احترام کرنا چاہیے۔ یہ واقعہ آج کل کہیں ہندوستان میں ہو جاتا تو اللہ ہی جانتا ہے کیا کچھ نہ ہو جاتا!

شعر کہنے پر بلا کی قوت تھی، غالب کے دیوانے تھے۔ کیا مجال کوئی غالب کو برا بھلا کہہ کر ان کے سامنے یا ان کی گلی سے نکل جائے۔ تقریر کرنے میں بھی کسی سے پیچھے نہ تھے۔ اس کے پیچھے تو جان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آگرہ کسی کام سے گئے تھے، وہیں سے مرض الموت لائے۔ شدت کا بخار چڑھا، ساتھ ہی دست آنے لگے۔ لوگوں نے ان کے اعزاز میں جلسہ کر دیا تھا۔ دوستوں نے بہتیرا سمجھایا کہ موقع تقریر کرنے کا نہ تھا، آرام کرنے کا تھا۔ بالآخر طے پایا کہ صرف معذرت کر کے چلے آئیں گے۔ معذرت کرنے کھڑے ہوئے تو ڈھائی گھنٹے دھواں دھار تقریر کر ڈالی۔ نڈھال ہو گئے، بالآخر علی گڑھ لائے گئے، حالت بگڑ چکی تھی لیکن دوڑ دھوپ علاج معالجے سے طبیعت سنبھل گئی، اور لوگوں کو یک گونہ اطمینان ہو چلا تھا کہ مرض پر قابو پالیا گیا ہے۔ لیکن وقت پورا ہو چکا تھا۔ دفعتاً طبیعت نے پلٹا کھایا اور اپنے پیدا کرنے والے کے ہاں پہنچ گئے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے