ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!
دنیا میں پہلی بار ’’موٹے‘‘ بچوں کی تعداد ’’دُبلے‘‘ بچوں سے زیادہ ہو گئی!
برف کے بیچوں بیچ آتش فشاں پھٹ پڑا، حیرت انگیز ویڈیو
دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا
ریاض (28 ستمبر 2026): حرمین شریفین دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس مقامات ہیں جن کی سیکیورٹی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
حرمین شریفین یعنی مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کی سیکیوریٹ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے سیکیورٹی نظام کے تاریخی سفر کے حوالے سے خصوصی رپورٹ کو شائع کیا ہے۔
حرمین شریفین کی سیکیورٹی کی اس رپورٹ میں بانی مملکت شاہ عبدالعزیز سے موجودہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک کا احاطہ کیا گیا ہے اور زائرینِ کی خدمات، ان کے لیے حفاظتی اقدامات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
شاہ عبدالعزیز کے دور میں حرمین شریفین کی دیکھ بھال کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا، سیکیورٹی کو مقدس مقامات کی ترقی سے الگ نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے دیکھ بھال کا لازمی حصہ بنایا گیا۔
شاہ عبدالعزیز کے دور میں ریاست کی ذمہ داری صرف ایک حج یا عمرہ سیزن کو محفوظ بنانے کی نہیں تھی، اس میں ان دونوں مقدس شہروں کی سیکیورٹی قائم کرنا شامل تھا۔
اس کے لیے پولیس اور سکیورٹی اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔ سال ہجری 1354 میں پولیس اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا جس سے سیکیورٹی اہلکاروں کی باقاعدہ تربیتی دور کا آغاز ہوا۔
بعد ازاں حرمین شریفین کی توسیع، سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نظام کی ترقی کے ساتھ زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو منظم کرنے کے لیے سیکیورٹی اور خدمات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔
جدہ میں شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، مشاعر مقدسہ میں ترقیاتی منصوبے، حرم مکی کی دوسری اور تیسری سعودی توسیع، جمرات پل، مشاعر ریلوے اور دیگر بڑے منصوبوں کی وجہ سے لاکھوں زائرین حرمین کی آمدورفت اور سلامتی کو مزید منظم بنانے میں مدد ملی۔
رپورٹ میں بتایا گیا شاہ سلمان کے دور میں سعودی وژن 2030 کے تحت حرمین کی خدمت اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی ترقی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید نظام اور اژدھام کے مواقع پر انتظامات کو مزید مربوط کیا گیا۔
آج سکیورٹی نظام صرف نگرانی تک محدود نہیں بلکہ ڈیٹا کے تجزیے، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکنہ مسائل کی پیشگی نشاندہی اور بروقت کارروائی پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حرمین کا سکیورٹی نظام کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ سکیورٹی، صحت، ٹرانسپورٹ، بلدیاتی اور دیگر اداروں کے باہمی تعاون کی واضح مثال ہے۔
اس کا بنیادی مقصد صرف مقامات کا تحفظ نہیں بلکہ زائرین حرمین کے پورے سفر کو محفوظ، منظم اور پرسکون بنانا ہے تاکہ حجاج و عمرہ زائرین اطمینان کے ساتھ مناسک ادا کرکے بحفاظت اپنے وطن کو لوٹ سکیں۔
