• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 10:18 شام
  • پاکستان

بیلیفیلڈ یونیورسٹی میں ڈاکٹر خرم شہزاد کی جعلی خبروں کی شناخت پر ورکشاپ، 11 سائنسی اشاریوں کے ماڈلز سے آگاہ کیا گیا

لاہور: پنجاب یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد نے جرمنی کی بیلیفیلڈ یونیورسٹی میں جعلی خبروں اور گمراہ کن مواد کی شناخت کے موضوع پر خصوصی تربیتی ورکشاپ منعقد کی، جس میں سوشل میڈیا پر مائیگریشن سے متعلق جعلی خبروں کے پھیلاؤ اور ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

ورکشاپ بیلیفیلڈ یونیورسٹی کی دعوت پر منعقد ہوئی، جس میں یونیورسٹی کے ڈاکٹر اکثکل، ریسرچ اسسٹنٹس جبکہ انڈر گریجویٹ اور ماسٹرز پروگرامز کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

ڈاکٹر خرم شہزاد نے ورکشاپ میں جعلی خبروں اور پراپیگنڈہ مواد کی شناخت کے لیے اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کی بنیاد پر تیار کیے گئے سائنسی طریقہ کار سے شرکا کو آگاہ کیا۔ ان کی تحقیق میں ایسے مواد کی شناخت کے لیے 11 سائنسی اشاریوں پر مبنی ایک ماڈل وضع کیا گیا ہے۔

ورکشاپ کے دوران جرمنی میں مائیگریشن سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں کو بطور کیس اسٹڈی پیش کیا گیا اور شرکا کو ایسے مواد کی جانچ کے عملی طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر اکثکل نے کہا کہ غلط اور غیرمصدقہ معلومات مائیگریشن سے متعلق عوامی رائے اور پالیسی مباحث کو متاثر کرسکتی ہیں، جبکہ گمراہ کن معلومات معاشرے میں غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ ان کے مطابق پراپیگنڈہ مواد کو عام طریقوں سے جانچنے کی صلاحیت پیدا کرنا سماجی مسائل کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

ورکشاپ میں جعلی خبروں کی شناخت کے آسان اور سائنسی طریقوں پر سوال و جواب کا تفصیلی سیشن بھی ہوا، جس میں طلبہ نے مختلف پہلوؤں سے متعلق سوالات کیے۔

ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کی جامعات کے درمیان علمی روابط کا فروغ دونوں ممالک سے متعلق مشترکہ مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے جرمنی کی پاکستان میں سفیر اینا لیپل کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے