• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 4:18 صبح
  • پاکستان

ویرونیساپلبانی (Veronica Plebani) 1996ء میں اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر میں پیدا ہوئی۔

ویرونیساپلبانی (Veronica Plebani) 1996ء میں اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر میں پیدا ہوئی۔ شروع ہی سے اسے کھیلوں میں بہت دلچسپی تھی۔ ایتھلیٹکس ‘ جمناسٹک اور برف میں دوڑنے کا بہت شوق تھا۔ قدرت ‘ اس کو کس طرف لے جا رہی تھی۔اس بارے میں ذہن میں کوئی معمولی سا بھی گمان نہیں تھا۔ تیرہ برس کی عمر میں اپنی کلاس کے ساتھ کیمپنگ (Camping) کر رہی تھی۔ اس کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔

ایسا معلوم پڑ رہا تھا کہ جسم کے ہر حصے میں آگ سی لگ گئی ہے۔ گھر آئی۔ تو والدین اسپتال لے گئے۔ معلوم ہوا کہ پلبانی کو ایک موذی بیماری (Bacterial meingitis) ہو چکا ہے۔ یعنی دماغ میں سوزش ہے۔ یہ ازحد خطرناک بیماری ہے۔ اس سے صحت یاب ہونا کافی مشکل ہوتا ہے۔ایک ڈیڑھ ماہ کومے میں رہی۔ ڈاکٹروں کے مطابق‘ کومہ سے واپس لوٹنا ناممکنات میں سے تھا۔ مگر پلبانی بچ گئی۔ پانچ ماہ اسپتال میں رہنے کے بعد‘ جب گھر آئی تو بخوبی علم تھا کہ اس کی دنیا بدل چکی ہے۔ اس کے پیر اور ہاتھوں کی انگلیاں ‘ اسپتال میں کاٹ دی گئی تھیں۔ بہت تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا تھا۔

اس کے علاوہ پورے جسم پر‘ زخم بن چکے تھے۔ جو بھر کر بھی دھبوں کی صورت میں موجود تھے۔پورا بدن داغدار ہو چکا تھا۔ تھوڑے عرصے کے لیے گھر سے نکلنا بند کر دیا ۔ ذہن میں یہی خیال بار بار آتا تھا کہ اتنا دھبوں اور زخموں سے بھرپور جسم دیکھ کر لوگ کیا کہیں گے۔ ان کا رد عمل کیسا ہو گا۔ ایک طرح کے احساس کمتری میں جا چکی تھی۔ یہ ذہنی جنگ بہت عرصہ جاری رہی۔ والد نے اسے بہت حوصلہ دیا۔ بتایا کہ دنیا کسی صورت میں بھی خوش نہیں ہوتی۔ لہٰذا اسے کبھی بھی گھبرانا نہیں چاہیے۔ بلکہ لوگوں کے سامنے تن کر کھڑا ہونا چاہیے۔ پلبانی نے فیصلہ کیا کہ وہ اب کھیلوں کی دنیا میں محنت کرے گی۔ جسمانی معذوری کو کسی صورت ‘ رکاوٹ نہیں بننے دے گی۔ یہ کوئی عام بات نہیں تھی۔

سائیکلنگ ‘ تیراکی اور لمبی میراتھن ریسوں میں حد درجہ محنت شر وع کر دی۔ نیویارک کی سالانہ ریس میں حصہ لیا اور بہت آسانی سے جیت گئی۔ ویسے آسانی کا معاملہ صرف دوڑ جیتنے میں نظر آ رہا تھا۔ اس فتح کے پیچھے پلبانی نے کتنی محنت بلکہ مشقت کی ہے۔ اندازہ لگانا بہت مشکل تھا۔ 2016ء اور 2017کے پیرا اولمپکس میں شامل ہوئی۔ کئی میڈل حاصل کر لیے۔ جس میں گولڈ میڈل اور کانسی کے تمغے شامل تھے۔ اب اسے اپنے اوپر بھرپور اعتماد تھا۔ جسم کی بدصورتی اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکی۔ یہ غیر متزلزل شعور آج بھی اس کے ساتھ ہے۔ اب تیس برس کی ہے۔ انسٹا گرام پر اپنی لاتعداد تصاویر شیئر کر رکھی ہیں۔ جن میں پورے بدن پر زخموں کے نشانات دور سے دیکھے جا سکتے ہیں۔

پلبانی اب اٹلی نہیں پوری دنیا میں ایک طاقتور آواز بن چکی ہے۔ کہ بدن کے زخم اور بدنمائی‘ انسان کی قوت ارادی اور اندرونی خوبصورتی کو بالکل بھی کم نہیں کر سکتے۔ تیراکی کے دوران‘ جوکوسٹیوم پہنا جاتا ہے اس سے انسانی جسم صاف نظر آتا ہے۔ پہلے‘ مقابلے یا تربیت کے بعد‘ اپنے پورے جسم کو گاؤن سے ڈھانپ لیتی تھی۔ مگر آٹھ دس برس سے یہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ بڑے اطمینان سے بالکل اس طرح کھڑی رہتی ہے کہ اسے کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا۔ موت کے مونہہ سے واپس آئی ہے۔ کوئی بھی کہہ نہیں سکتا ۔ پوری دنیا میں اس لڑکی کی دھوم ہے موجودہ حالات میں‘ غزہ کے بچوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ اسرائیلی مظالم کے خلاف ایک توانا آواز بن چکی ہے۔اٹلی میں بڑے بڑے جلوسوں کے سامنے چلتی ہے۔ غزہ کے شہداء کو سراہتی ہے۔

اصل نکتہ کی طرف لوٹتا ہوں۔ انسان کے جسم پر داخ دھبے‘ اس کی اندرونی خوبصورتی کو چھپا نہیں سکتے۔ اس کے بالکل الٹ سوچیے کہ اندرونی بدخصلتی‘ بہترین پہناوے سے بھی چھپائی نہیں جا سکتی۔ جملے کا دوسرا حصہ حد درجہ توجہ طلب ہے۔ اصل مادہ کیا ہے۔ حقیقت میں‘ انسانی ساخت کی خوبصورتی‘ اندرونی ہے‘ بیرونی بالکل بھی نہیں‘ یہ ایک نکتہ نظر ہے۔ جس سے اتفاق یا انکار دونوں کیے جا سکتے ہیں۔ سنجیدگی سے دیکھیں۔ تو آپ بھی اس فیصلہ پر پہنچ جائیں گے کہ اندرونی بدصورتی چھپائے نہیں چھپتی۔ باہر کی جاذبیت کافی حد تک بے معنی ہے۔ شاید بالکل ہی بے وقعت ۔ اپنے معاشرے کی طرف دیکھتا ہوں تو آج بھی‘آپ کو اندرونی حسن والے مرد اور خواتین کثیر تعداد میں نظر آئیں گے۔

ڈاکٹر روتھ پیف کی مثال سامنے رکھیے۔ جرمن خاتون 1960ء میں کراچی آئی۔ پوری زندگی ‘ کوڑھ کے مریضوں کو ٹھیک کرنے میں سپھل کر ڈالی۔ پاکستان میں 157کوڑھ کے کلینک کھولے ۔ ہمارے ملک میں اس موذی اور خوفناک بیماری کے سامنے ہمت کا بند باندھ دیا۔ ڈاکٹر روتھ کی تصویر دیکھئے ۔ چہرے پرجھریاں‘ سفید بال ‘ مگر ان کا عزم اتنا بلند تھا کہ کوڑھ کے مریض بڑے آرام سے شفایاب ہوتے تھے بلکہ معمول کی زندگی گزارنے لگتے تھے۔ گمان ہے کہ فرشتے بھی ڈاکٹر روتھ جیسے ہی ہوں گے۔ چہروں پر اتنی ہی معصومیت برپا ہو گی۔ خیال تو یہی ہے کہ فرشتو ں کو انسانی شکل دے دی جائے۔ تو ڈاکٹر روتھ یا عبدالستار ایدھی جیسی ہی ہو گی۔ یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ جاذب نظر اور توانا۔ اندرونی طور پر گلے سڑے لوگوں کا ذکر کرنا اصل مقصد ہے۔ شاہ جی نے اس معاملہ پر ایک خوبصورت بات کی تھی بلکہ منیر نیازی مرحوم جیسے جید شاعر کے سامنے کی تھی۔ کہتے تھے کہ جب مجھے کوئی نیا شخص ملنے آتا ہے تو آنکھوں کے ڈیلے بالکل ڈھیلے چھوڑ دیتا ہوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ اس کی شکل کس جانور سے ملتی ہے۔

یقین کیجیے کہ تھوڑی دیر میں یہ معلوم پڑتا ہے کہ کسی بھیڑیے سے بات کر رہا ہوں یا کوئی لومڑ‘ سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ یا کوئی بڑی سی چھپکلی صوفے پر بیٹھی ہے۔ ویسے اس طرح کی گفتگو میں منیر نیازی صاحب کا ایک بہت دلچسپ قصہ بھی ہے جو کسی اور وقت عرض کروں گا۔ شاہ صاحب سے مکمل اتفاق تو نہیں کیا جا سکتا۔ مگر کافی حد تک یہ بات درست بھی ہے۔ انسان کی اصلیت‘ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے اپنے چہرے پر آ جاتی ہے۔ یہ قانون قدرت ہے کہ اصلیت کسی صورت میں چھپائی نہیں جا سکتی۔ ویسے ایک عجیب سی بات بھی کہنا چاہتا ہوں۔ یہ جملے بطور ڈاکٹر عرض کروں گا۔ جس طرح اندرونی نیکی یا بدی‘ چہرے پر عیاں ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح موت بھی‘ ایک سطح پر مرنے سے تھوڑا پہلے ‘ انسان کے چہرے پر ظاہر ہو جاتی ہے۔ سنجیدہ طبع معالجین کو بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ مریض کے چہرے پر موت کے نقش آ چکے ہیں اور اب زندگی کی ڈور ٹوٹنے والی ہے۔اس نکتہ کا مضمون سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بس ذہن میں آیا تو لکھ ڈالا۔

اسی تواتر میں ملک کے قائدین کی طرف غور سے دیکھیں تو تہہ دار تضاد بالکل نمایاں کھڑا ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں کی خوش لباسی‘ صرف اور صرف اندر کے گلے سڑے انسان کی بدبو چھپانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ تاریخ میں دیکھیں تو حکمران قیمتی ترین کپڑے پہنتے آئے ہیں ، آج بھی ایشیا اور افریقہ کے کسی بھی پسماندہ ملک کا ایک حکمران قیمتی ترین سوٹ پہنتا ہے۔ فرانس سے خریدی ہوئی خوشبو استعمال کرتا ہے، اٹلی کے جوتے پہنتا ہے، آکسفورڈ اسٹریٹ لندن سے رنگ برنگی ٹائیاں منگواتا ہے۔ جب بھی اہم میٹنگز یا بین الاقوامی فورم پر گفتگو ہوتی ہے تو بظاہر حد درجہ خوش لباس معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ صرف اور صرف ایک دکھاوے سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ۔ لوگ خوف کی وجہ سے ان کی مصنوعی تعریف کرتے ہیں۔ ذاتی مفاد کی زنجیروں سے جکڑے ہوئے لوگ بھی ہر وقت ڈھول بجانے میں مصروف کار رہتے ہیں۔ ازل سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ مغربی معاشرے ‘ ذہنی اور فکری ترقی کے بعد اس منجدھار سے نکل چکے ہیں۔

اس کے برعکس ‘ سیاسی رہنماؤں کا منفی پن اس قدر عیاں ہے کہ پورا ملک‘ لالچ کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ دہائیوں سے مسلسل اقتدار ‘ ہر معاملے میں کرپشن اور ناجائز دولت کے پہاڑ بھی انھیں اندرونی طور پر صاف نہیں کرپائے۔ یہ کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل چبا کر بھی ‘ میرٹ میرٹ کہنے سے باز نہیں آتے۔ ان کا گمان ہے کہ لوگ عزت کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ کروڑوں روپے کے ملبوسات بھی ان کوعام سا معزز لبادہ نہیں دے پائے۔ ان کے مقابلے میں اٹلی کی پلبانی نے یہ ثابت کیا ہے کہ بیرونی زخم اور دھبے کچھ بھی نہیں ہیں۔ اصل طاقت ‘ انسان کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ جس سے وہ خوبصورت یا جن بھوت نظر آتا ہے۔ پلبانی ‘ اپنے کردار اور شخصیت کی خوشبو سے لوگوں کو معطر کر رہی ہے۔ ہمارے اہل اقتدار اپنی گلی سڑھی ذہنیت کی بدبو سے پورے ملک کو برباد کر رہے ہیں۔ دونوں میں سے کون واقعی قابل عزت ہے۔ فیصلہ کرنا بالکل بھی مشکل نہیں!

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے