• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 5:22 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

دہلی (6 اکتوبر 2026): بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے اور ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن کی ووٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے خلاف ہزاروں بھارتی شہری سڑکوں پر آ گئے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خصوصی نظر ثانی کے نام پر 30 ریاستوں کی ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد شہریوں کے نام غائب کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے خلاف راہول گاندھی، راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے بھی میدان میں آگئے ہیں۔ مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج، تشدد اور گرفتاریاں بھی احتجاج کو دبانے میں ناکام ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کے اندر بھی بغاوت ہو گئی ہے۔ دو بھارتی الیکشن کمشنرز نے چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور افسران نے سافٹ ویئر میں چھیڑ چھاڑ کے ثبوت براہ راست کابینہ سیکریٹری کو بھیج دیے ہیں۔

ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے نام پر دہلی میں 32 اور مہاراشٹرا میں 21 فیصد ووٹرز کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ ووٹرز رجسٹریشن فارم کی غیر قانونی تبدیلی پر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی سوال اٹھا دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے بھارتی الیکشن کمیشن سے سوال کیا ہے کہ ووٹرز رجسٹریشن کے فارم 6 میں عدالت کی اجازت کے بغیر تبدیلی کس نے کی، جسے سپریم کورٹ نے منظور نہیں کیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے