• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 12:08 شام
  • پاکستان

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

جاپانی شخص کئی سالوں تک غیرآباد مکان کا کرایہ کیوں دیتا رہا؟؟

ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!

ریاض: سعودی عرب نے متاثرہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب نے 10 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد مشرق سے مغرب تک تیل پہنچانے والی اپنی ایسٹ ویسٹ نامی تیل پائپ لائن کی مرمت مکمل ہونے کے بعد اس کے ذریعے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

سعودی گزٹ کے مطابق بلومبرگ نے پیر کے روز رپورٹ کیا کہ سعودی آرامکو نے گزشتہ ہفتے پائپ لائن کا تجرباتی معائنہ کیا تھا، تاکہ تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کی جا سکے۔ اب برآمد کے لیے بھیجے جانے والے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے دوبارہ فعال ہونے سے سعودی خام تیل کی برآمد کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بحال ہو گیا ہے۔ امریکا اور ایران جنگ کے دوران مغرب کی جانب تیل کی یہ ترسیل ایک انتہائی اہم سپلائی راستہ بن گئی ہے، جس نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اور شدید اضافے کو محدود رکھنے میں مدد دی ہے۔

سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس کی شرط مسترد کر دی

سعودی عرب نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اس راستے کو استعمال کیا تھا، جب کہ رواں ماہ سعودی عرب آبنائے ہرمز کے ذریعے بھی تیل کی برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے۔

ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کی بحالی سے ان خریداروں کو کچھ سہولت مل سکتی ہے جو خلیجِ عرب میں سمندری نقل و حمل کو درپیش مسلسل خطرات کے باعث تیل کی سپلائی محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خلیجِ عرب کے ذریعے تیل کی ترسیل اب بھی خطرات سے دوچار ہے، کیوں کہ ایران کے ساتھ جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہونے کے قریب ہے اور بحری جہازوں کو وقفے وقفے سے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کی گنجائش روزانہ 70 لاکھ بیرل ہے۔ عام طور پر تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع ریفائنریوں کو بھیجے جاتے ہیں، جس کے بعد باقی گنجائش تیل کی برآمد کے لیے دستیاب رہتی ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ کے دوران مغرب کی جانب جانے والی یہ ترسیل تیل کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ بن گئی تھی، جس نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافے کو محدود رکھنے میں مدد دی۔

پیر کے روز تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، کیوں کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب بھی اس معاہدے پر اختلاف برقرار ہے جس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع ختم کیا جا سکتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے