• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 8:14 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

اے آئی چیت بوٹس اور تھرڈ پارٹی سروسز سے سائبر سیکیورٹی خطرات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے جنریٹو اے آئی پر ایڈوائزری جاری کردی ہے جس کے مطابق غیر مجاز اے آئی کے استعمال سے حساس تنظیمی ڈیٹا متاثر ہوسکتا ہے، شیڈو اے آئی کے ذریعےسورس کوڈ اور اسناد افشا ہونے کا خطرہ ہے۔

نیشنل سرٹ کا کہنا ہے کہ پرامپٹ انجکشن اور غیر محفوظ اے آئی کوڈ سے سائبر خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

نیشنل سرٹ کی جانب سے اے آئی ماڈلز اور تھرڈ پارٹی سروسز کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ادارے جنریٹو اے آئی کے قابل قبول استعمال کی پالیسی لازمی نافذ کریں، حساس معلومات غیر منظور شدہ اے آئی پلیٹ فارمز پر جمع نہ کرائی جائیں۔

یہ پڑھیں: اے آئی نے پراسرار رویہ دکھانا شروع کر دیا، چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی سر پکڑ کر بیٹھ گئی

نیشنل سرٹ نے کہا ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ کوڈ اور اہم نتائج کا انسانی جائزہ لازمی قرار دیا جائے جبکہ اے آئی پلیٹ فارمز پر ڈیٹا لاس پریوینشن اور مانیٹرنگ کنٹرولز نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادارے منظور شدہ اے آئی ٹولز، ماڈلز اور پلیٹ فارمز کی فہرست مرتب کریں، اے آئی گورننس کونِسٹ، او ڈبلیو اے ایس پی کے عالمی فریم ورکس سے ہم آہنگ کریں۔

اے آئی سے متعلق سیکیورٹی واقعات کی فوری روک تھام اور شواہد محفوظ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے