• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 12:49 شام
  • پاکستان

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟

ممبئی(5 اکتوبر 2026): بالی ووڈ میں مدھوبالا کو ایک ایسی لازوال اداکارہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی دلکش اداؤں اور بہترین اداکاری سے تقریباً چار دہائیوں تک فلمی مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔

انتہائی خوبصورت اور معصوم سی مسکراہٹ بکھیرنے والی مدھوبالا کا شمار بھارتی فلموں کی سب سے بااثر شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے 40 اور 50 کی دہائی میں اپنی فن کاری سے مداحوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔

مدھوبالا کا اصل نام ممتاز جہاں بیگم دہلوی تھا اور ان کی پیدائش 14 فروری 1933ء کو دہلی میں ہوئی۔ ان کے والد عطا اللہ خان رکشہ چلایا کرتے تھے، جہاں ان کی ملاقات ایک نجومی سے ہوئی جس نے پیشگوئی کی تھی کہ مدھوبالا مستقبل میں بہت کامیاب اداکارہ بنیں گی، بہت نام کمائیں گی لیکن یہ پوری عمر نہیں جی پائیں گی۔

گھر کی مالی حالت خراب ہونے کے باعث انہیں محض 6 سال کی عمر سے ہی فلموں میں کام کرنا پڑا۔ فلم ’نیل کمل‘ میں ان کے کام سے متاثر ہو کر دیویکا رانی نے انہیں فلمی نام ’مدھوبالا‘ دیا جو فلمی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

انہوں نے 1942 میں صرف 9 سال کی عمر سے ’بیبے ممتاز‘ کے نام سے ’فلم بسنت‘ سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔ 1947 میں مدھوبالا نے فلم ’نیل کمل‘ میں راج کپور کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم ’محل‘ سے شہرت اور ناموری کا جو سفر انہوں نے شروع کیا، اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب فلمیں دیں۔

1951 میں مدھوبالا کی دلیپ کمار کے ساتھ پہلی فلم ’ترانہ‘ ریلیز ہوئی۔ حالانکہ دلیپ کمار کی پہلی فلم ’جوار بھاٹا‘ میں مدھوبالا چائلڈ آرٹسٹ ‘بیبے ممتاز’ کے نام سے ایک کردار ادا کر چکی تھیں، مگر اب وہ فلم ‘ترانہ’ میں دلیپ کمار کی ہیروئن تھیں۔

اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی دونوں کے درمیان قربتیں بڑھیں۔ اسی سال ان کی کئی فلمیں جیسے آرام، خزانہ، نازنین، نادان، بادل اور سیّاں بھی نمائش کے لیے پیش ہوئیں، جس نے انہیں ایک مقبول اور باصلاحیت اداکارہ کے طور پر منوا لیا۔

دونوں عظیم اداکاروں نے ‘ترانہ’ کے بعد 1952ء میں فلم ‘سنگدل’، 1954ء میں فلم ‘امر’ اور 1960ء میں تاریخ ساز فلم ‘مغلِ اعظم’ میں ایک ساتھ کام کیا۔

دلیپ کمار اور مدھوبالا محبت کی زنجیر سے بندھے شادی کی دہلیز تک تو پہنچے، لیکن اس وقت مدھوبالا اپنے خاندان کے لیے ہیرے کے انڈے دینے والی مرغی کی طرح تھیں۔

فلم ‘نیا دور’ کی آؤٹ ڈور شوٹنگ کے مسئلے پر ہدایت کار بی آر چوپڑہ اور مدھوبالا کے والد عطا اللہ خان کے درمیان مقدمہ بازی شروع ہو گئی۔ دلیپ کمار نے چوپڑہ کا ساتھ دیا، اور یہیں سے عطا اللہ خان نے مدھوبالا اور دلیپ کمار کے تعلقات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرا دیا۔

کے آصف کی شاہکار فلم ‘مغلِ اعظم’ کی تکمیل کے دوران مدھوبالا کافی بیمار رہنے لگی تھیں، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بڑی محنت سے اس فلم کو مکمل کرایا۔

فلم کے ایک مشہور رومانوی منظر میں دونوں بغیر کچھ بولے ایک دوسرے کی محبت میں صبح کر دیتے ہیں، اس سین کے عکسبند ہوتے وقت تک دونوں حقیقی زندگی میں راہیں جدا کر چکے تھے، لیکن اس سین نے کروڑوں لوگوں کو دنگ کر دیا جو آج بھی شائقین کی توجہ کا مرکز ہے۔

مدھوبالا کے چاہنے والوں میں شمی کپور، بھارت بھوشن اور پردیپ کمار جیسے نام بھی شامل تھے، لیکن بالآخر کشور کمار انہیں اپنی شریک حیات بنانے میں کامیاب ہوئے۔

کشور کمار کی یہ دوسری شادی تھی (ان کی پہلی شادی اسی روما دیوی سے ہوئی تھی جس نے بچپن میں فلم ‘جوار بھاٹا’ میں بے بی ممتاز کے ساتھ کام کیا تھا)۔

مدھوبالا کی یہ خواہش تھی کہ وہ ایک سہاگن کے طور پر مریں، لہٰذا 16 نومبر 1960ء کو کشور کمار نے عبداللہ نام اختیار کر کے مدھوبالا سے نکاح کر لیا۔ شادی کے بعد بھی مدھوبالا نے بوائے فرینڈ، جھمرو، پاسپورٹ، ہاف ٹکٹ، شرابی اور جوالا جیسی فلموں میں کام کیا۔

کشور کمار نے مدھوبالا کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر ان کے دل کی بیماری دن بہ دن بگڑتی گئی۔ دل کی سرجری کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے لندن کے ڈاکٹروں نے بھی آپریشن کرنے سے منع کر دیا کیونکہ جان کا خطرہ تھا۔

آخرکار 23 فروری 1969ء کو مدھوبالا نے نہایت بے بسی کے عالم میں کشور کمار سے کہا کہ ’میں مرنا نہیں چاہتی، مجھے بچا لو‘، جو ان کے آخری الفاظ تھے۔ چند لمحوں بعد وہ خالقِ حقیقی سے جا ملیں، اور انتقال کے وقت ان کی عمر صرف 36 سال تھی۔ ان کی تدفین جوہو مسلم قبرستان میں عمل میں آئی۔

اپنی مختصر زندگی میں مدھوبالا نے 24 فلموں میں کام کیا جن میں سے زیادہ تر سپر ہٹ رہیں۔ دلیپ کمار کے ساتھ ان کی جوڑی کو ناظرین نے بے حد سراہا۔ مدھوبالا اپنی خوابناک آنکھوں اور حسن کی وجہ سے بے حد مشہور تھیں، لیکن جو لوگ انہیں حقیقی زندگی میں دیکھتے تھے ان کا کہنا تھا کہ کیمرہ اور اسکرین مدھوبالا کے حسن کا نصف حصہ بھی دکھانے سے قاصر رہتا تھا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے